فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر379

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر379
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر379

  


نگار سلطانہ کی ہُنرمندی ملاحظہ ہوکہ انہوں نے ’’مغل اعظم‘‘ کی فلم بندی کے دوران میں کے آصف کو اپنی اداؤں کے جال میں گرفتار کرلیا۔ حالات اتنے نازک اور سنگین ہوگئے کہ آصف کی بیوی اور دلیپ کمار کی بہن گھر چھوڑ کر چلی گئیں اور کچھ عرصے بعد نگار سلطانہ نے کے آصف سے شادی کرلی۔

’’مغلِ اعظم‘‘ نے غیرمعمولی کامیابی حاصل کی اور کے آصف کا شمار ہندوستان کے عظیم ہدایت کاروں میں ہونے لگا۔ کے آصف نے ’’محبت اور خدا‘‘ کے نام سے ایک نئی فلم کا آغاز کیا مگر ابھی وہ ابتدائی مراحل ہی میں تھی کہ وہ اللہ کو پیارے ہوگئے اور نگار سلطانہ بیوہ ہوگئیں۔ ہماری معلومات کے مطابق پھر انہوں نے کے آصف کی بیوہ کی حیثیت سے باقی ماندہ زندگی گزاری لیکن ان کا ماضی آج بھی لوگوں کو یاد ہے۔ 

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر378 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

نگار سلطانہ بھارت کی فلمی دنیا میں اپنی رسوا کن داستانوں کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ انہوں نے اپنے خاندان اور بھارت کے مسلمانوں کے منہ پر جی بھر کر کالک ملی۔ نگار سلطانہ ایک خوب صورت‘ جاذب نظر اور پُرکشش شخصیت کی مالک تھیں۔ اگر اداکاری کی طرف توجہ دیتیں تو صف اوّل کی ایکٹریس بن سکتی تھیں مگر انہوں نے نہ تو فلمی کیریئر کو اہمیت دی اور نہ ہی گھر بسانے پر توجہ دی۔ اپنی رنگین مزاجیوں کے باعث نت نئے گُل کِھلاتی رہیں یہاں تک کہ تھک ہار کر بیٹھ گئیں۔

O*O

اس دور کی ایک اور ترقّی پسند اور آزاد خیال اداکارہ بیگم پارہ بھی تھیں۔ بیگم پارہ آندھی اور طوفان کی طرح بمبئی کی فلمی دنیا میں وارد ہوئی تھیں اور دیکھتے ہی دیکھتے اخبارات کے گپ شپ کے کالموں اور سنسنی خیز خبروں کا موضوع بن گئیں۔ وہ ایک اعلیٰ خاندان سے تعلّق رکھتی تھیں اور خود بھی تعلیم یافتہ تھیں۔ ان کے والد سیشن جج تھے اور ریاست بیکانیر میں وزیر قانون کے عہدے پر بھی فائز رہے۔انکاایک قدامت پسند گھرانے سے تعلق تھا۔ ان کے گھر کے طور طریقوں کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان کے گھرانے میں لڑکیوں کو فلمیں دیکھنے کی اجازت بھی نہ تھی۔ محض چیدہ چیدہ فلمیں ہی دیکھنے کی اجازت ملتی تھی مگر بیگم پارہ کے ذہن میں مغربی آزادی کا تصوّر پرورش پارہا تھا۔

بیگم پارہ نے علی گڑھ سے میٹرک کیا تھا۔ ایک قدامت پرست گھرانے میں جنم لینے کے باوجود ان کے خیالات قطعی ماڈرن تھے۔ وہ چپکے چپکے گلیمر کی دنیا میں جانے کے خواب دیکھا کرتی تھیں۔ ان کے خوابوں کی تعبیر اس وقت ملی جب ان کے بھائی نے بمبئی میں ملازمت کرتے ہوئے ایک نہایت آزاد خیال اور تعلیم یافتہ اداکارہ سے شادی کرلی‘ یہ پروتیما داس گپتا تھیں۔ پروتیما کی آزاد روی کی داستانیں آج کی ہیروئنوں کو بھی شرمانے کے لیے کافی ہیں۔ وہ بڑی آزادی اور بے باکی سے نائٹ کلبوں اور ہوٹلوں کے شراب خانوں میں گھومتی پھرتی تھیں۔ نیم عریاں لباس پہنتی تھیں اور سر سے پیر تک مغربی عورت کی تصویر بن چکی تھیں۔ شوہر کی طرف سے بھی ان پر کوئی روک ٹوک نہ تھی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہر روز کوئی نہ کوئی اسکینڈل ان کے حوالے سے فلمی رسائل اور اخبارات کی زینت بنتا تھا۔

بیگم پارہ اپنے بھائی بھاوج کے پاس بمبئی گئیں تو بھاوج نے انہیں بھی اپنے رنگ میں رنگ لیا۔ ذہنی طور پر تو وہ پہلے ہی آزاد خیال تھیں مگر بمبئی میں انہیں پروتیما داس گپتا کے ساتھ عملی طور پر بھی آزادی کا مزہ چکھنے کا موقع ملا اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ دونوں خواتین بمبئی کے فلمی حلقوں میں بدنامی کی حد تک شہرت یافتہ ہوگئیں۔ اسی زمانے میں ایک فلم ساز نے انہیں فلم ’’چاند‘‘ میں ہیروئن کا کردار پیش کیا تو بیگم پارہ کی دلی مراد بر آئی۔ 

چاند ۱۹۴۴ء میں سیٹ پر گئی تھی اور اس میں جو مناظر پیش کیے گئے تھے وہ آج کے دور میں بھی انتہائی آزاد تصوّر کیے جاتے ہیں۔ لگ بھگ پینسٹھ سال قبل بننے والی اس فلم میں بیگم پارہ نے ایک مغرب زدہ ماڈرن لڑکی کا کردار ادا کیا تھا۔ نائٹ کلب‘ سوئمنگ پول اور غسل خانے کے مناظر اس فلم میں بہت بے باکی سے پیش کیے گئے تھے۔ اس زمانے میں یہ افواہ بھی گرم ہوئی تھی کہ بیگم پارہ جس ہیرو کے ساتھ بطور ہیروئن جلوہ گر ہوئی ہیں وہ ان کا بھائی ہے لیکن درحقیقت وہ ان کا کزن تھا ۔مگر اس فلم کو شہرت دینے کی خاطر فلم ساز نے صحیح صورت حال کی وضاحت پیش کرنا ضروری نہ سمجھا اور ہندوستان کے طول و عرض میں ایک قدامت پسند طبقے نے بیگم پارہ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا مگر بیگم پارہ اس قسم کے اعتراضات کو خاطر میں نہیں لاتی تھیں۔ انہوں نے نہ تو اس خبر کی تردید کی اور نہ ہی اپنی زندگی کا چلن بدلنے کی کوشش کی۔(جاری ہے)

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر380 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /فلمی الف لیلیٰ