کیا آپ جانتے ہیں مدارس کا درس نظامی ہندوستان میں سول سروس کا نصاب رہ چکا ہے،اسکا آغاز کس نے اور کیوں کرایا تھا،یہ جان کر آپ کو اپنے ماضی پر فخر ہوگا 

کیا آپ جانتے ہیں مدارس کا درس نظامی ہندوستان میں سول سروس کا نصاب رہ چکا ...
کیا آپ جانتے ہیں مدارس کا درس نظامی ہندوستان میں سول سروس کا نصاب رہ چکا ہے،اسکا آغاز کس نے اور کیوں کرایا تھا،یہ جان کر آپ کو اپنے ماضی پر فخر ہوگا 

  


لاہور(ایس چودھری)آج پوری دنیا میں اسلامی مدارس کے نظام تعلیم پر شدید تنقید کی جارہی ہے جبکہ مدارس کو بند کرنے کے علاوہ ان پر ریاستی پابندیاں بھی لگائی جارہی ہیں ۔مغربی پروپیگنڈہ کے تحت مدارس کے طلبا کو موجودہ زمانے کی مروجہ تعلیم کے مقابلے انتہائی کمتر سمجھا جارہا ہے ۔مغربی پروپیگنڈے نے مسلمانوں کو بھی مدارس کی تعلیم سے متنفر کیا ہے اور کوئی یہ بات سمجھ نہیں پارہا کہ مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے پی ایچ ڈی لیول کے لوگ ہوتے ہیں۔مدارس میں جو درس نظامی پڑھایا جاتا ہے اسکے بل بوتے پر مسلمانوں نے صدیوں حکمرانی بھی کی اور برصغیر میں ایسی نابغہ روزگار شخصیات اور اہل علم وہنر کو پیدا کیا جن پر آج بھی فخر کیا جاتا ہے۔ افغانستان پاکستان اور بھارت کے مدارس میں درس نظامی صدیوں سے رائج ہے جس نے اپنے ہر دور میں اہل علم و ہنر پیدا کئے ہیں۔

درس نظامی دینی تعلیم کا وہ کورس ہے جسے اورنگ زیب عالمگیر نے نافذ کیاتھا ۔اس نے ماہر تعلیم ملا نظام الدین سہالوی سے کہہ کر ایسی دینی تعلیم کا نصاب مرتب کرایا تھا جوعہد مغلیہ میں سول سروس کا نظام کہلاتا تھا ۔مسلمانوں میں عقلی ونظریاتی شعور پیدا کرنے کے لئے جب اس نصاب کانفاذ کیا گیا تو مسلمانوں میں علمی و عقلی انقلاب پیدا ہوا۔ نواب سعد اللہ خانجیسا سیاست د ان جس نے مغلیہ دور میں پورے ہندوستان پر بطور وزیر اعظم حکمرانی کی تھی وہ درس نظامی پڑھا ہوا تھا۔اس دور میں ہندوستان کی سلطنت موجود دور کے چھ ملکوں پر مشتمل تھی۔یعنی ،انڈیا ،پاکستان ، افغانستان ، بنگلہ دیش، سری لنکا اور نیپال۔اس قدر بڑی مملکت پر نواب سعداللہ خان نے کئی دہاؤین تک وزیراعظم کا عہدہ سنبھالا ۔ بڑی بڑی سلطنتیں چلانے والے مدبرین اور اعلٰی سے اعلٰی دینی قیادتیں فراہم کرنے والے بزرگان اسی نظام تعلیم نے پیدا کیے۔ تاج محل بنانے والا انجینئر بھی درس نظامی پڑھا ہوا تھا ۔ درس نظامی آٹھ سالہ تعلیمی دور پر مشتمل ہوتا ہے جس میں صرف ونحو،ریاضی ،فلسفہ،منطق،اصول فقہ،حدیث سمیت متعدد کتب پڑھائی جاتی ہیں ۔موجودہ دور میں اسکی ڈگری ایم اے اسلامیات کے برابر تسلیم کی جاتی ہے لیکن کوئی بھی درس نظامی کرنے والا علوم شریعہ میں زیادہ علمی استعداد رکھتا ہے۔

مزید : روشن کرنیں