جب انسان کو پیار ہوتا ہے تو اس کا وزن بڑھنے لگ جاتا ہے کیونکہ۔۔۔ سائنسدانوں نے پہلی مرتبہ موٹاپے کی وہ سب سے بڑی وجہ بتادی جو آپ نے کبھی سوچی بھی نہ ہوگی

جب انسان کو پیار ہوتا ہے تو اس کا وزن بڑھنے لگ جاتا ہے کیونکہ۔۔۔ سائنسدانوں ...
جب انسان کو پیار ہوتا ہے تو اس کا وزن بڑھنے لگ جاتا ہے کیونکہ۔۔۔ سائنسدانوں نے پہلی مرتبہ موٹاپے کی وہ سب سے بڑی وجہ بتادی جو آپ نے کبھی سوچی بھی نہ ہوگی

  


سڈنی(نیوز ڈیسک)یہ تو سب جانتے ہیں کہ کھانے پینے میں بداحتیاطی اور جسمانی سرگرمی سے گریز موٹاپے کا سبب بنتا ہے لیکن یہ کس نے سوچا تھا کہ پیار میں مبتلا ہونا بھی موٹاپے کس سبب بن سکتا ہے؟ شاید آپ کے لئے بھی اس بات پر یقین کرنا مشکل ہو لیکن سائنسدانوں نے واقعی یہ دعوٰی کر دیا ہے کہ محبت میں گرفتار ہونا وزن میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔ 

آسٹریلوی سائنسدانوں نے اس تحقیق کے دوران 15ہزار سے زائد افراد کے 10 سال پر محیط ڈیٹا کا تجزیہ کیا۔ سنٹرل کوئنز لینڈ یونیورسٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جن لوگوں نے محبت کی شادی کی ان میں موٹاپے کی شرح ایسے لوگوں سے واضح طور پر زیادہ تھی جو تاحال محبت کی تلاش میں تھے۔ تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ شادی شدہ جوڑے اگرچہ تنہا رہنے والوں کی نسبت زیادہ صحت بخش خوراک کھاتے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کا وزن زیادہ ہوتاہے۔ 

تحقیق کی سربراہی کرنے والی سائنسدان سٹیفنی شوپ نے جریدے ’نیو سائنٹسٹ‘ کو بتایا کہ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جسے اپنی پسند کا شریک سفر مل جاتا ہے وہ ایک پرسکون ازدواجی زندگی میں مگن ہو جاتا ہے اور کسی اور کو متاثر کرنے کی فکر سے آزاد ہو جاتا ہے۔ چونکہ یہ افراد کسی کو متاثر کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے لہٰذا یہ خود کو ہینڈسم اور سمارٹ رکھنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کرتے۔ بعد میں ان کے بچے بھی وزن میں اضافے کا سبب بنتے ہیں کیونکہ اکثر والدین، اور خصوصاً مائیں، بچوں کا چھوڑا ہوا کھانا کھالیتے ہیں۔ 

سٹیفنی شوپ کے مطابق ’’محبت میں کامیابی اور مطمئن ازدواجی زندگی کے باعث آپ کے ذہن پر یہ دباؤ نہیں ہوتاکہ آپ نے کسی کو متاثر کرنے کیلئے ہینڈسم اور سمارٹ نظر آنا ہے تو آپ جی بھر کر کھانے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔ آپ چکنائی اور میٹھے سے بھرپورغذائیں بھی بلاتردد کھاتے رہتے ہیں اور جب آپ کے بچے ہوجاتے ہیں تو آپ ان کے لنچ باکس میں بچا ہوا کھانا بھی چٹ کرجاتے ہیں۔ بس یہی وجہ ہے کہ شادی شدہ جوڑوں کا وزن بڑھ جاتا ہے اور وہ ہمیشہ اس بات پر حیران ہوتے رہتے ہیں کہ نجانے ان کا وزن کیوں بڑھ رہا ہے۔‘‘

مزید : ڈیلی بائیٹس