80فیصدایرانی خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں:ایرانی رکن پارلیمنٹ

80فیصدایرانی خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں:ایرانی رکن پارلیمنٹ
80فیصدایرانی خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں:ایرانی رکن پارلیمنٹ

  


تہران(این این آئی)ایران کی مجلس شوریٰ کے ایک رکن نے دعویٰ کیاہے کہ حکومت کی غیر دانش مندانہ اقتصادی پالیسیوں کے باعث 80 فی صد عوام غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسرکرنے پر مجبور ہیں۔

عرب ٹی وی کے مطابق ایرانی مجلس شوریٰ کے اجلاس کے دوران ایرانی وزیر برائے لیبر، ٹرانسپورٹ وشاہرات علی ربیعی سے پوچھا گیا کہ آیا وہ ملک میں غربت کے خاتمے کے لیے کیا کررہے ہیں؟ اس موقع پر کئی ارکان پارلیمان نے حکومت پر کمپنیوں کے مالکان کی مدد کرنے اور مزدوروں کونظرانداز کرنے کا الزام عاید کیا۔ اپوزیشن کے ایک سرکردہ رکن پارلیمان نے کہا کہ ملک میں غربت کی شرح میں 30 فیصد اضافہ ہوچکا ہے جب کہ ایک دوسرے رکن نے بلند آواز میں کہا کہ حکومتی عدم توجہی کے نتیجے میں اس وقت 80 فی صد شہری غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کررہے ہیں،تاہم اس موقع پر ایرانی صدر حسن روحانی حسب معمول موجود نہیں تھے۔

ایرانی رکن پارلیمان محمد قسیم عثمانی نے وزیر لیبر پرالزام عاید کیا کہ وہ سوشل سیکیورٹی فنڈز کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کررہے ہیں۔آپ لیبر کے وزیر نہیں بلکہ کمپنیوں کے مالکان کے وزیر بن چکے ہیں۔عثمانی نے مزید کہا کہ ملک میں گریجویٹ اور ایم اے پاس نوجوان انتہائی معمولی اجرت پر کام کرنے پر مجبور ہیں۔ انہیں معقول روزگارمیسر نہیں۔ اگر کوئی اپنی اس حالت پر احتجاج کرتا ہے تو اسے نوکری ہی سے نکال دیا جاتا ہے۔

مزید : بین الاقوامی