مجھے کئی سالوں تک روزانہ ریپ کیا جاتا رہا، جب میں بھاگنے کی کوشش کرتی تو کہا جاتا میرے تمام گھر والوں کا بھی ریپ کیا جائے گا اور۔۔۔ پاکستانیوں کے گروہ کی برطانوی لڑکی کے ساتھ ایسی شرمناک ترین حرکت کہ ہر شہری شرمندہ ہوجائے

مجھے کئی سالوں تک روزانہ ریپ کیا جاتا رہا، جب میں بھاگنے کی کوشش کرتی تو کہا ...
مجھے کئی سالوں تک روزانہ ریپ کیا جاتا رہا، جب میں بھاگنے کی کوشش کرتی تو کہا جاتا میرے تمام گھر والوں کا بھی ریپ کیا جائے گا اور۔۔۔ پاکستانیوں کے گروہ کی برطانوی لڑکی کے ساتھ ایسی شرمناک ترین حرکت کہ ہر شہری شرمندہ ہوجائے

  


لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ کی تاریخ کے شرمناک ترین جنسی سکینڈل ’روتھرہیم جنسی سکینڈل‘ کی گرد ابھی بیٹھی نہیں تھی کہ ’ٹیلفرڈ جنسی سکینڈل‘ کی لرزہ خیز تفصیلات منظر عام پر آنے لگی ہیں۔ بدقسمتی دیکھئے کہ ناصرف روتھرہیم جنسی سکینڈل میں سینکڑوں کمسن لڑکیوں کو ہوس کا نشانہ بنانے والے مجرموں میں سے اکثر پاکستانی نژاد تھے بلکہ اب ٹیلفرڈ جنسی سکینڈل کے مجرمان بھی پاکستانی نژاد نکلے ہیں۔ اس گینگ نے بھی گزشتہ کئی سال کے دوران سینکڑوں کمسن لڑکیوں کی عصمت دری کی۔ اس گینگ کے مظالم کا نشانہ بننے والی ایک لڑکی نے بالآخر اپنی داستان میڈیا کے سامنے بیان کردی ہے جس میں کئے گئے انکشافات انتہائی لرزہ خیز ہیں۔

چار سال تک جنسی مظالم کا نشانہ بننے والی اس لڑکی کا کہنا ہے کہ اسے بے شمار دفعہ بیچا گیا اور اگرچہ پولیس اور دیگر اداروں کو ان جرائم کے بارے میں معلوم تھا لیکن انہوں نے کوئی قدم نہیں اُٹھایا۔ ایک اندازے کے مطابق اس گینگ نے ٹیلفرڈ میں 1000 سے زائد لڑکیوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا ہے جن میں سے متعدد کی عمر 11 سال یا اس سے بھی کم ہے۔ ان کمسن لڑکیوں کو مارپیٹ کر کے خاموش رکھا جاتا تھا جبکہ ایک نوعمر لڑکی کو تو بہن اور ماں سمیت قتل بھی کر دیا گیا۔

ہولی نامی لڑکی نے ٹی وی پروگرام ’گڈمارننگ بریٹن‘ میں بات کرتے ہوئے بتایا ”میری عمر 14 سال تھی جب اس گینگ نے مجھے پہلی بار نشانہ بنایا اور اگلے چار سال تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ پہلے اس گینگ کے نوعمر لڑکوں نے میری عصمت دری کی لیکن پھر انہوں نے مجھے بڑی عمر کے مردوں کے حوالے کر دیا۔ اس کے بعد تو ہر روز میری عصمت دری ہوتی رہی۔ میں آئے دن ڈاکٹر اور یوتھ ہیلتھ سیکچوئل ہیلتھ کلینک جاتی تھی تاکہ مانع حمل گولیاں لے سکوں، لیکن کسی نے اس بات پر سوال نہیں اُٹھایا۔ دو بار میرا اسقاط حمل ہو الیکن اس بات کا بھی کسی نے نوٹس نہیں لیا۔ کئی بار بڑی عمر کے مردوں کے ساتھ جاتے ہوئے پولیس نے ہمیں روکا لیکن کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ میں خود سے کئی سال بڑے مردوں کے ساتھ کیوں جا رہی تھی۔

میری عصمت دری کرنے والے مجھے بلیک میل کرتے تھے اور خاموش رکھنے کے لئے مجھے دھمکیاں دیتے تھے کہ وہ میرے سارے خاندان کی عصمت دری کریں گے اور میرے گھر کو جلا کر راکھ کردیں گے۔ میں اپنی زندگی سے اس قدر تنگ آگئی تھی کہ دو بار خود کشی کی کوشش بھی کی۔ چار سال تک مسلسل میری عصمت دری کی گئی اور بے شمار مردوں نے مجھے اپنی ہوس کا نشانہ بنایا گیا۔ ان کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ میں شمار نہیں کرسکتی۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس /برطانیہ