بجلی لوڈشیڈنگ کا نیا طریقہ!

بجلی لوڈشیڈنگ کا نیا طریقہ!

ملک کے سرکاری محکموں،شعبوں میں کام کرنے والے اپنے اپنے کام کے ماہر ہوں نہ ہوں وہ وقت گذارنے،یعنی ڈنگ ٹپانے کے اہل ضرور ہوتے ہیں،اس وقت پن بجلی میں کمی اور بوجوہ فرنس آئل کے استعمال میں کمی کے باعث بجلی کا شارٹ فال ہے،جس کے مطابق لوڈشیڈنگ لازم ہے۔ ایسا کیا بھی جاتا رہا اب حالات تبدیل ہوئے تو حکمت عملی بھی تبدیل کر دی گئی ہے، بجلی کمپنی نے جو طریقہ اختیار کیا وہ ہر روز ایک گھنٹے سے چار چھ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی بجائے ہر ہفتہ مسلسل چھ سے آٹھ گھنٹے تک بجلی بند کر کے یہ وقت حاصل کر لیتے ہیں۔پورے ریجن کے فیڈر ضرورت کے مطابق تقسیم کر دیئے گئے اور ہر روز ہزاروں فیڈر صبح نو بجے سے تین، چار بجے تک بند رکھے جاتے اور باقی علاقوں میں لوڈشیڈنگ نہیں کی جاتی، لیسکو کی طرف سے جاری اشتہار پر نظر ڈالیں تو یہ سب آشکار ہو جاتا ہے۔اپوزیشن میں ہوتے ہوئے تحریک انصاف کی طرف سے لوڈشیڈنگ پر بھی اعتراض تھا اور اِس حوالے سے مذمت کے علاوہ دعوے بھی کئے جاتے تھے، لوڈشیڈنگ ختم کر دی جائے گی،لیکن ایسا نہیں ہو سکا کہ گردشی قرضے بہت زیادہ ہو چکے، پیداوار میں معتدبہ کمی آ گئی،چنانچہ لوڈشیڈنگ کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ مانگ اور رسد کا فرق نمایاں ہے۔اسے پورا کرنے کے لئے یہ نیا طریقہ ایجاد کیا گیاہے،حکومت کو اس سلسلے میں فراخدلی اور حوصلے کا مظاہرہ کرنا چاہئے،لوگوں پر واضح کرنا چاہئے کہ پیداوار میں کمی کے باعث لوڈشیڈنگ مجبوری ہے۔اگر ایسا نہ کیا گیا تو کوئی بڑا بریک ڈاؤن ہو سکتا ہے ، ایک دیانتدارانہ شیڈول بنا کر لوڈشیڈنگ کرنی چاہئے، جو بالکل منصفانہ ہو اور کسی علاقے کو شکایت کا موقع نہ ملے،وی وی آئی پی کلچر کو بھی ختم کر دیا جائے اور جو لوگ لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ ہیں ان کا پھر سے جائزہ لیا جائے اور حق دار ہی کا حق اول رہے۔اس کے علاوہ بجلی کے نرخ بھی نہ بڑھائے جائیں کہ پہلے ہی زیادہ ہیں۔

مزید : رائے /اداریہ