اعتزاز احسن۔۔۔ جہاں ہیں، وہیں رہیں گے!

اعتزاز احسن۔۔۔ جہاں ہیں، وہیں رہیں گے!
اعتزاز احسن۔۔۔ جہاں ہیں، وہیں رہیں گے!

  

مَیں نے بوجوہ انتظارکیا کہ۔۔۔ سوشل میڈیا کے ذریعے چودھری اعتزاز احسن کا بیان دِل کو نہیں لگا تھا کہ ایسا ان کا مزاج نہیں ہے،اب ان کے ترجمان کی طرف سے نہ صرف واضح تردید کر دی گئی،بلکہ یہ بھی بتایا گیا کہ چودھری اعتزاز احسن کا کوئی ٹویٹ اکاؤنٹ ہی نہیں اور ان کے نام سے جعلی اکاؤنٹ بنا کر ان کی طرف سے بیان جاری کئے گئے۔

ترجمان نے یہ بھی کہا کہ ان کی طرف سے ایف آئی اے کے سائبر کرائمز ونگ سے بھی رجوع کیا اور درخواست کی گئی ہے کہ اس جعلی اکاؤنٹ کو بند کیا جائے اور جس شخص نے ایسا کیا اُسے تلاش کر کے اس کے خلاف کارروائی کی جائے،چودھری اعتزازاحسن سے دو بیان منسوب کئے گئے تھے۔

ایک یہ کہ مریم نواز سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کی بیماری پر سیاست کر رہی ہیں، دوسرا یہ تھا کہ وہ بلاول بھٹو زرداری کا نواز شریف کی عیادت کے لئے جانا غلط سمجھتے ہیں اور وہ جلد ہی اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔ مطلب یہ ہوا کہ وہ اب پیپلز پارٹی سے لاتعلق ہو گئے اور کسی دوسری جماعت میں شامل ہونا چاہ رہے ہیں۔

مجھے تو ابتدا ہی میں یہ غلط لگا کہ چودھری اعتزاز احسن پارٹی میں اب اس پوزیشن میں ہیں کہ وہ فون کر کے بھی بلاول بھٹو زرداری کو بتا سکتے ہیں کہ ان کو یہ عمل پسند نہیں آیا،لیکن ایسا نہیں ہوا۔یوں بھی یہ بیان بازی ملاقات ہونے سے پہلے ہی شروع کر دی گئی، غالباً مقصد یہی تھا کہ مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی قریب نہ پائیں اور اس مسئلے میں محمد نواز شریف ایک فریق ہیں تو دوسری طرف آصف علی زرداری ہیں، اور یہ سمجھوتہ یا مفاہمت نہیں ہونی چاہئے، ٹوئٹ کرنے والے نے موقع غنیمت جانا کہ اس طرح شکوک پیدا کر دو اور چودھری اعتزاز احسن کی پارٹی سے فراغت کرا دو، کہ ایسا تو محترمہ کی شہادت سے پہلے اور بعد میں بھی ہو چکا۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ اعتزاز احسن ثابت قدم رہے اور اب تک ہیں، وہ ایسے رہنما ہیں اور اب تو عمر کے اس حصے میں ہیں جب ان کی بات سُنی بھی جاتی ہے اور وہ پارٹی چھوڑ کر جانا ’’ایفورڈ‘‘ نہیں کرتے، جہاں تک کسی بات یا حکمت عملی سے اختلاف کا مسئلہ ہے تو جب ان کو اختلاف ہو تو وہ برملا اظہار بھی کر لیتے ہیں، بلکہ ان کی بات کو غور سے سنا جاتا ہے،ایسے میں ان کو کیا پڑی کہ وہ پارٹی ہی چھوڑ دیں، پھر جائیں گے گدھر؟

یہ درست ہے کہ1977ء میں نوجوان بیرسٹر چودھری اعتزاز احسن صوبائی وزارت اطلاعات تج کر پارٹی چھوڑ گئے تھے تاہم زیادہ عرصہ دور نہ رہ سکے اور واپس پارٹی میں آ گئے تھے،آج سیاست کا جو دور اور ملک کے معروضی حالات ہیں، ان کا تقاضہ تو مکمل قومی مفاہمت ہے اور میرے قارئین جانتے ہیں کہ مَیں ہر موقع پر یہ عرض کرتا رہتا ہوں، اور اس حکمت کی رو سے بلاول بھٹو زرداری کی نواز شریف سے ملاقات اور تبادلہ خیال بہت مفید اور اچھا ہے، کاش ایسا بھرپور طریقے سے ہو جائے اور سبھی سیاسی رہنما وسیع تر قومی مفاد میں اسی راستے پر چل پڑیں، مَیں تو ذاتی طور پر حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف کے درمیان خوشگوار تعلقات کا حامی ہوں کہ جمہوریت تو یہی ہے کہ فریقین اختلاف کریں جو قطعی دلائل کا محتاج ہوتا ہے، یہاں اختلاف کو ذاتی دشمنی تک نہیں لے جایا جاتا اگر ایسا ہو تو ہمیشہ دوسروں کا بھلا ہوتا ہے۔

ہمارے ملک میں جس جمہوریت کی نقل کی جاتی ہے۔ آج اس میں یورپی یونین چھوڑنے کے مسئلے پر شدید اختلاف ہے اور عوام کی رائے معلوم کرنے کے لئے ریفرنڈم کرایا اور اب پارلیمینٹ میں زیر بحث ہے،جہاں پھر تھریسامے کو شکست ہوئی، تاہم وہاں ماحول تو اختلافی ہے،لیکن ذاتی دشمنی والا نہیں،اِس لئے اگر اسی پارلیمانی جمہوریت پر چلنا ہے تو پھر آپ کو اس کے پورے عمل کو اپنانا ہو گا اور وہ قومی مفاد میں ذاتی رائے کا اظہار اور فیصلے کو تسلیم کرنے کا موجب ہونا چاہئے۔بدقسمتی سے ہمارے ملک میں جمہوریت کا نام تو لیا جاتا ہے،لیکن مکمل عمل تو کجا اس طرزِ حکومت پر کما حقہ عمل بھی نہیں کیا جاتا، حالانکہ بقا اسی میں ہے۔

جہاں تک بلاول بھٹو زرداری کی جیل میں نواز شریف سے ملاقات کا تعلق ہے تو اس عمل کی ہر طرف سے تعریف کی گئی ہے اور بلاول بھٹو زرداری اور نواز شریف کی ممکنہ ملاقات کو سراہا گیا ہے۔ اب بھی لوگ آصف علی زرداری اور نواز شریف کی ملاقات کو ناممکن قرار دیتے ہیں،لیکن ایسا بھی نہیں۔ یقیناًبرف پگھلی ہے اور اس کے نتائج بہتر ہوں گے۔

بلاول اب پختہ کار نوجوان ہیں، اعلیٰ تعلیم اور مرحومہ والدہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی تربیت کے باعث وہ نظریاتی طور پر بھی بالغ ہیں۔البتہ پارٹی کے بعض حضرات ایسا سوچتے ہیں کہ باپ اور بیٹے کی پالیسی اور حکمت عملی میں فرق ہے اور مخالف یہ کہہ کر ہمدردی جتاتے ہیں کہ بلاول برگد(زرداری) کے سائے تلے پھل نہ پائیں گے۔

یہ حضرات اس کا حل بھی نہیں بتاتے، دونوں باپ بیٹے تو مل کر چل بھی رہے ہیں، ہمارا اپنا خیال یہ ہے کہ بلاول اپنی حکمت عملی کے مطابق ہی چل رہے ہیں اور ان کو والد کی کسی حکمت عملی سے اختلاف ہو تو خود کو دو قدم پیچھے ہٹا لیتے ہیں کہ ایسے اختلاف سے بحث میں نقصان ہوتا ہے۔

پیپلزپارٹی ہمیشہ سے ’’ملٹی کلاس‘‘ پارٹی رہی ہے،اس میں نچلے طبقہ سے لے کر بڑے جاگیردار اور سرمایہ دار ہیں، تاہم اس جماعت کا کردار اور چہرہ لبرل ترقی پسند جماعت ہی کا رہا،اور جو اختلاف باپ بیٹے کے درمیان ظاہر کیا جا رہا ہے، یہ نہیں،بلکہ اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے بتایا جاتا ہے، یہ بھی درست نہیں،بلاول کو چھوٹا موٹا اعتراض ہو سکتا ہے تو وہ اپنے طور پر اس کا ازالہ کرتے ہیں، سو چودھری اعتزاز احسن کا بھی مزاج اپنا ہے،ان کو اختلاف ہو تو برملا اظہار بھی کر دیتے ہیں،ایسا ہی میاں رضا ربانی کا معاملہ بھی ہے، وہ بھی سخت گیر موقف کے داعی گنے جاتے ہیں، تاہم پارٹی میں ان کا احترام اپنی جگہ اور قیادت ان کے اعتراض اور بات سنتی ہے اور سننے پر مجبور بھی ہے، ایسی ہی حیثیت اور شخصیت چودھری اعتزاز احسن کی بھی ہے تو جناب خواب دیکھنے والوں پر کوئی پابندی نہیں۔

مزید : رائے /کالم