شاہ محمود قریشی کے احتجاج کی پروا کیوں نہ کی گئی؟

شاہ محمود قریشی کے احتجاج کی پروا کیوں نہ کی گئی؟
شاہ محمود قریشی کے احتجاج کی پروا کیوں نہ کی گئی؟

  

سوال یہ نہیں ہے کہ ہندوستانی وزیر خارجہ سشما سوراج ابوظہبی میں حال ہی میں انعقاد پذیر ہونے والی اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کی کانفرنس میں کیوں آئیں۔

اس سوال کا جواب تو انتہائی آسان ہے۔ اس تنظیم کی رکنیت حاصل کرنے کے لئے نصف صدی سے گھات لگائے ملک کی وزیرخارجہ اگر یہ موقع گنوا دیتیں تو شاید اگلے برسوں میں پلوں کے نیچے سے اتنا پانی بہہ چکا ہوتا کہ رکنیت کا سوال ہی اپنی موت آپ مر جاتا۔

سوال یہ بھی ہرگز نہیں ہے کہ اجلاس میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دہشت گردی کا ذکر کرتے ہوئے پاکستان کا نام نہ لیتے ہوئے بھی اشارے کنایے میں اس کا ذکر کر دیا۔ ظاہر ہے اگر50برس کے انتظار کے بعد انہیں یہ سنہری موقع مل رہا تھا تو وہ ڈھکے چھپے لفظوں میں اپنا ماضی الضمیر بیان کرنے سے کیوں باز رہتیں؟ سوال صرف یہ ہے کہ تنظیم کے بانی رکن پاکستان کے معترض ہونے کے باوجود میزبان ملک نے اپنی دعوت واپس کیوں نہ لی؟ کیوں نہ شریمتی سشماسوراج کو یہ کہہ کر ابوظہبی آنے سے روک دیا کہ اسلامی تعاون تنظیم کے ایک انتہائی اہم بانی رکن نے اجلاس میں ان کی شرکت پر اعتراض اٹھا دیا ہے اوراس رکن ملک کے وزیر خارجہ نے یہ خطاب منسوخ نہ ہونے کی صورت میں اجلاس میں شرکت سے معذرت کرلی ہے۔

متحدہ عرب امارات کی حکومت نے پاکستان کے اعتراض کو قابل اعتنا نہ جانا، شاہ محمود قریشی اسلام آباد میں اپنی پارلیمان کو تسلیاں دیتے رہے اور تنظیم کے اجلاس میں سشماسوراج بڑے دھڑلے سے آئیں اور اسلامی تعاون تنظیم کے اجلاس میں غیر مسلم اکثریت والے ملک کی غیر مسلم وزیر خارجہ کا خطاب بھی ہوگیا۔

ان کی تقریر کے دوران میرے ذہن میں تاریخ نے اپنے ورق الٹے۔ 1971ء میں خلیج عرب کے کنارے پر سکڑی سمٹی ننھی ریاستوں نے اتحاد کیا اور متحدہ عرب امارات کا ایک نسبتاً بڑا وجود قائم کیا۔ تیل دریافت تو ہو چکا تھا لیکن ابھی اس کے دام کوڑیوں میں تھے۔ 1973ء کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد جب شاہ فیصل مرحوم نے اس سیاہ سیال سونے کی یورپ کو فروخت پر پابندی لگائی تو مغرب میں چلتی گاڑیوں اور مشینوں پر موت کا سکوت چھا گیا۔ امریکی وزیر خارجہ ہنری کینجر کی شٹل ڈپلومیسی نے اس پابندی کے خاتمے میں بنیادی کردار ادا کیا اور مغرب میں حرکت لوٹ آئی۔

تاہم اس دوران اوپیک کو احساس ہو چکا تھا کہ اس کے زیرزمین ایک دولت سو رہی ہے۔ تیل کی قیمتیں بڑھیں اور خلیجی ممالک بھی زندگی کی راحتوں سے آشنا ہونے لگے۔ پٹرو ڈالر کا سیل رواں آیا۔ پیشتر ازیں صدیوں صحراؤں میں بگولے رقص کرتے رہے تھے۔

بادیہ نشین ریگزاروں میں تلاش رزق اور جستجوئے آب میں سرگرداں رہتے تھے۔ خیموں میں شب بسری ان کی زندگیوں کو بے سکون رکھتی تھی۔ ساحلوں کے قریب رہائش پذیر دن بھر سمندر میں غوطے لگاتے سیپیاں ڈھونڈتے تھے اور ان میں سے نکلے موتی اپنی متاع عزیز سمجھتے۔ صحیح معنوں میں زندگی ہتھیلی سے ہونٹوں تک کے مختصر فاصلے میں چکر لگاتی رہتی تھی۔ پھر تیل کی قیمتیں عروج آشنا ہوئیں۔ خلیج عرب کے اطراف کا علاقہ آنکھیں کھولے اردگرد کی دنیا کو حیرت سے تکنے لگا۔ زندگی اور پیشرفت کی تڑپ جاگی۔ تعمیرات کا آغاز ہوا لیکن ایک مسئلہ تھا ان ریاستوں کی اپنی آبادی انتہائی کم تھی۔ مدد کے لئے پاکستان کی طرف ہاتھ بڑھے اور ہماری افرادی قوت ’’دبئی چلو‘‘ کا نعرہ لگاتی ان صحراؤں میں آخیمہ زن ہوئی۔ پاکستانیوں نے 50درجہ کی حرارت میں دن رات ایک کردیئے۔ پسینے سے شرابور بدن سنگ وحشت اپنے شانوں پر رکھے کثیر المنزلہ عمارات بلند کرتے رہے۔

اس وقت وہاں کسی اور ملک کی افرادی قوت کا وجود نہ تھا۔ ہرعمارت کے ہر پتھر پر پاکستانی انگلیوں کے نشان ثبت ہوتے رہے۔ صحراء میں عجوبہ روزگار منصوبے سر اٹھاتے رہے اور پاکستانی ان کی تشکیل میں اپنے بدن توڑتے رہے۔ جتنا بڑا احسان پاکستانیوں نے خلیجی ممالک پر کیا ہے اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ متحدہ عرب امارات کی ہر شاہراہ، ہر عمارت، ہرگلستان پر پاکستان کا احسان ہے۔

لیکن پھر اسلامی تعاون تنظیم کے اجلاس میں مہمان خصوصی کے طور پر سشماسوراج کی شرکت اور خطاب؟ اس کا سبب اسلامی تعاون تنظیم کے بنیادی منشور میں نہیں ملے گا اور ہندوستانی وزیرخارجہ کو خطاب کی اجازت دینے کی وجہ عالم اسلام سے اظہار بغاوت بھی نہیں ہے۔ تنظیم کے 57رکن ممالک سے مشورہ کئے بغیر ہندوستانی وزیرخارجہ کو اجلاس میں مدعو کرنیکی وجہ بالکل واضح ہے۔

حالیہ برسوں میں ہونے والی تبدیلیوں پرنظر ڈالیں۔ متحدہ عرب امارات کے ولی عہد شہزادہ محمد بن زاید النھیان نے اپنے دورہ پاکستان میں میزبان ملک کو 3ارب ڈالراسٹیٹ بینک آف پاکستان کو قرض دیا جبکہ 3.2ارب ڈالر کا تیل متاخرہ ادائیگیوں پر دینے کا وعدہ کیا۔ یہ تیل ہماری 60فیصد ضرورت پوری کرے گا۔ دوسری طرف متحدہ عرب امارات کی حکومت ہندوستان میں 75ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی۔

بنگلور میں متحدہ عرب امارات کے تیل کا ذخیرہ کیا جائے گا جسے مشرقی ایشیائی ریاستوں کو ارسال کیا جائے گا۔ وزیرخارجہ عبداللہ بن زاید النھیان نے بنگلور میں خلائی تحقیقاتی مرکز کا دورہ کیا اور متحدہ عرب امارات اور ہندوستان کے مابین خلائی تحقیق کے باہمی منصوبے کا آغاز کیا۔ دونوں ملکوں کے درمیان نقل و حرکت کو آسان بنانے کے لئے ممبئی اور فجیرہ کے درمیان زیر بحر تیز رفتار ریل گاڑی کی تعمیر کی جائے گی۔

تقریباً 2000کلومیٹر طویل اس آبی سرنگ سے ہندوستان تازہ پانی متحدہ عرب امارات کو برآمد کرے گا اور اسی راستے سے نیو دہلی کو تیل کی ترسیل ہوگی۔ گزشتہ برس ان دونوں ملکوں کی دوطرفہ تجارت 40ارب ڈالر تک تھی۔ منصوبہ یہ ہے کہ 2020ء میں اسے بڑھا کر ایک سو ارب ڈالر تک پہنچا دیا جائے گا۔ دونوں ملکوں کا مستقبل ایک دوسرے سے تعاون کا مرہون منت ہو چکا ہے۔

خلیج میں تیل کے مسلسل گھٹتے ذخائر ہر حال میں اس باہمی ہمکاری میں اضافے کا سبب ہوں گے۔ تو اب واضح ہوگیا ہوگا کہ متحدہ عرب امارات نے سشماسوراج کو ارسال کی گئی دعوت کیوں منسوخ نہ کی۔ موازنہ کیسے ہو؟ ہم جو زیربار ہیں اور مزید زیربار ہونے جارہے ہیں کیسے اپنے محسن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں؟ ضعیف معیشت بے صدا ہوتی ہے۔ شاہ محمود قریشی کی کون سنتا؟

مزید : رائے /کالم