شہری دفاع کی اہمیت

شہری دفاع کی اہمیت

شہری دفاع کی تربیت ملک کے ہر شہری کے لئے ضروری ہے، چاہے وہ مرد ہو یا عورت، بچہ ہو یا بوڑھا، بچے ہی قوم کا مستقبل ہیں، نئی نوجوان نسل کو شہری دفاع کی تربیت سے آراستہ ہونے کی ضرورت ہے تاکہ وہ حادثات سے بچ سکے اور بروقت وطن عزیز کی حفاظت کر سکے۔ شہری دفاع کی تربیت امن اور جنگ دونوں حالات کے لئے ضروری ہے۔ زمانہ جنگ میں شہریوں کے بچاؤ کے طریقے، جنگ سے پہلے کی حفاظتی تدابیر اور جنگ کے بعد کے اثرات سے نمٹنے کی تربیت دی جاتی ہے اور امن کے دنوں میں بھی اسی طرح کارآمد ہے۔ اس کی تربیت طوفان، زلزلہ، سیلاب، خشک سالی، ٹریفک حادثات، آگ لگنا اور صنعتی حادثات سے نمٹنے کے لئے شہری دفاع کی تربیت اہمیت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے تمام سکولز، کالجز، یونیورسٹیز، محلوں میں یونین کونسلوں، ہسپتالوں اور ہر تعلیمی ادارے میں شہری دفاع کی تربیت کو ممکن بنایا جاتا ہے۔ تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء ہماری قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں اور مستقبل میں قومی اور ملکی ذمہ داریوں کی بھاگ دوڑ انہی کے ہاتھوں میں منتقل ہونی ہے۔

اس قوم کے جوانوں کی خودی صورت فولاد

شہری دفاع کی تربیت کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس سے افراد کی خدمت خلق کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، شہری دفاع کی تربیت اس وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے اور اس تربیت کو ہر فرد تک پہنچنا چاہئے۔ اس ملک، پاکستان کو بڑی کوششوں سے حاصل کیا گیا ہے اور اس کی حفاظت کی ذمہ داری بھی اس کے محب وطن شہریوں پر ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر شخص یہ ضروری تربیت حاصل کر کے نہ صرف انسانیت کی خدمت کرے، بلکہ ملک و قوم کی حفاظت کے لئے ہر دم کوشاں رہے:

اے وطن تو نے پکارا تو لہو کھول اٹھا

تیرے بیٹے تیرے جانباز چلے آئے ہیں

حادثات سے بچاؤ تربیت سے ممکن ہے شہری دفاع کی تربیت حاصل کر کے اپنی اور اپنے ہم عزیز وطنوں کی حفاظت یقینی بنایئے۔ آیئے ہم سب مل کر عہد کریں کہ ہم اپنے طلباء کو شہری دفاع کی تربیت دلانے میں کسی وقت کا انتظار نہ کریں، بلکہ آج ہی اس تربیت کو حاصل کرنے کے لئے ذہنی اور جسمانی طور پر تیار ہو جائیں۔(عرشمہ محبوب،لاہور)

مزید : رائے /اداریہ