تبدیلی کے سورج کو گرہن لگ رہا ہے!

تبدیلی کے سورج کو گرہن لگ رہا ہے!
تبدیلی کے سورج کو گرہن لگ رہا ہے!

  

قومی فنانس بل اگرچہ تین مرتبہ بنا اور نافذ ہوا ہے، تاہم سرکاری ملازمین کی تنخواہیں صرف ایک بار بڑھائی گئیں اور وہ بھی دس فیصد۔ کہنے کو دس فیصد ایک بڑا اضافہ لگتا ہے، مگر حقیقی معنوں میں دیکھیں تو ایک سے16ویں سکیل کے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں،ایک ہزار روپے سے چار ہزار روپے کے درمیان بڑھیں، اس دوران کیا کچھ نہیں ہوا، ڈالر کی قیمت35فیصد بڑھ گئی، پٹرول اور گیس کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں، کئی اقسام کی سبسڈیز ختم کر دی گئیں، مہنگائی قابو سے باہر ہو گئی،مگر سرکاری ملازمین کو اُس دس فیصد اضافے کے سوا اور کچھ نہ ملا۔

اب اس پس منظر میں جب پنجاب اسمبلی کے ارکان نے اپنے تمام اختلافات اور پارٹی پوزیشن بھلا کر اتحاد و اتفاق سے اپنی تنخواہ میں سو فیصد سے بھی زیادہ اضافے کا بل منظور کر لیا ہے، تو یہ سوال اُٹھے گا کہ ان کھاتے پیتے اور خوشحال ارکانِ اسمبلی کو آخر کیا جلدی تھی کہ اپنی تنخواہ تو بڑھائی، لیکن صوبے کے لاکھوں ملازمین کے بارے میں سوچا تک نہیں۔اس صورت میں تو اُن کا یہ عمل خود غرضی کی ایک بھونڈی کوشش نظر آتی ہے۔

چلیں اگر اضافہ ضروری بھی تھا تو دس فیصد کر لیا جاتا، سو فیصد سے بھی زیادہ اضافہ اِس بات کا غماز ہے کہ قانون کے عمل داروں کو صرف اپنے لئے قانون بنانا اور اُسے فوراً نافذ کرنا بھی آتا ہے، باقی جن کے ووٹوں سے وہ اسمبلی میں پہنچتے ہیں،اُن کی حالت اسمبلی کا رکن بنتے ہی اُن کی نظروں سے اُوجھل ہو جاتی ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ ارکان اسمبلی اپنی مراعات کے لئے اکٹھے ہو گئے ہیں،یہ ہمیشہ سے ہوتا آ رہا ہے۔ کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ وہی پنجاب اسمبلی ہے،جہاں کچھ عرصہ پہلے مار دھاڑ کے مناظر دیکھنے میں آئے تھے،حتیٰ کہ سپیکر صوبائی اسمبلی پر بھی چڑھ دوڑے تھے۔ صرف یہی نہیں سارجنٹ ایٹ آرمز پر بھی ہاتھ اٹھایا گیا اور دو ارکان کی رکنیت معطل بھی کی گئی، اُن کا داخلہ اسمبلی میں بند کر دیا گیا،عوامی مفاد کا کوئی قانون ہوتا تو دست و گریبان ہونے کی یہ فلم پھر ضرور چلتی، مگر معاملہ چونکہ ذاتی مفاد کا تھا،اِس لئے سب ہر قسم کے اختلافات بھلا کر ایک ہو گئے۔ کروڑوں روپے کا بوجھ پنجاب کے خزانے پر ڈال کر وہ ایسے شاد نظر آئے جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔

عوام حیران ہیں کہ وزیراعظم عمران خان تو بچت کو اپنا منشور بنائے ہوئے ہیں۔ہر شعبے میں اخراجات کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،اپنے وزراء کو ہدایات جاری کرتے ہیں کہ وہ وزارتوں کے اخراجات میں کمی کریں، مگر جناب یہ سب ہوائی باتیں ہیں،زمین پر آ کر دیکھیں معاملات کچھ اور طرح سے چل رہے ہیں۔حیرت ہے کہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے اپنے کپتان کی لاج نہیں رکھی۔پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کے ممبران کو اِس بات پر قائل نہیں کیا کہ وہ اپنی تنخواہوں میں دوگنا اضافہ نہ کریں، کیونکہ سرکاری ملازمین کو بجٹ میں صرف دس فیصد اضافہ دیا گیا،بلکہ اُن کا یہ بیان نظر سے گزرا ہے کہ ارکان اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے سے اُن کی مشکلات کم ہوں گی اور کارکردگی بھی بہتر ہو جائے گی۔

پہلے ہی تحریک انصاف کی حکومتوں کے بارے میں یہ تاثر بڑھتا جا رہا ہے کہ جو وعدے کئے گئے، وہ کھوکھلے تھے، نئے پاکستان میں عوام کی مشکلات بڑھ چکی ہیں، معاشی دباؤ نے ہر طبقے کو متاثر کیا، لیکن ریلیف صرف ارکان کو ملا ہے،جن کا گزارا صرف اسمبلی سے ملنے والی تنخواہ پر ہر گز نہیں۔

تحریک انصاف نے اپنی حکومت کے آغاز میں بچت،سادگی اور عوام کو ریلیف دینے کا جو بلند آہنگ بیانیہ اختیار کیا تھا، وہ اب جھا گ کی طرح بیٹھ چکا ہے، اب تو ایسے بے جوڑ اور بے ربط فیصلے کئے جا رہے ہیں،جو تحریک انصاف کے دعوؤں کو حرف غلط کی طرح مٹا رہے ہیں۔ مثلاً اب اِس فیصلے کو دیکھئے جو پنجاب پولیس کی وردی دوبارہ تبدیل کرنے کے ضمن میں کیا گیا ہے۔

اس بے مقصد مشق پر اربوں روپے خرچ ہوں گے۔ ایسے ملک میں جہاں خزانہ خالی ہونے کا بہانہ کر کے حاجیوں سے سبسڈی چھین لی گئی اور لاکھوں وہ پاکستانی جو اس بار حج پر جانا چاہتے تھے، اخراجات میں اضافے کی وجہ سے درخواست ہی نہ دے سکے۔ اعداد و شمار کے مطابق اِس بار تقریباً دو لاکھ کم درخواستیں جمع کرائی گئیں۔اس کا مطلب ہے وہ دو لاکھ پاکستانی جو پیسہ پیسہ جوڑ کر حج کا خواب آنکھوں میں سجائے بیٹھے تھے،حج اخراجات میں اچانک اضافے کی وجہ سے مایوس ہو کر بیٹھ گئے۔ انہیں حکومت نے صرف چار ارب روپے سبسڈی دینی تھی، جبکہ پولیس کی وردی تبدیل کرنے کا تخمینہ تقریباً ساڑھے آٹھ ارب روپے لگایا گیا ہے۔ کس ملک میں ایساہوتا ہے کہ دو سال کے محدود عرصے میں دو بار لاکھوں پر مشتمل پولیس فورس کی وردی تبدیل کر دی جائے، اس پر تو یہ شعر فٹ آتا ہے:

بیکار مباش کچھ کیا کر

بخیئے اُدھیڑ کر سیا کر

یہ کتنی بڑی ڈھٹائی اور ستم ظریفی ہے کہ پولیس کی اصلاح کرنے کی بجائے اُس کی وردی تبدیل کرنے پر ساری توجہ دی جا رہی ہے۔ آج تک کسی نفسیات دان نے نہیں کہا کہ آپ کسی کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں تو اُس کے کپڑے تبدیل کر دیں۔ شہباز شریف دور میں جب پولیس کی موجودہ وردی تبدیل کی گئی تھی تو یہی کہا گیا تھا کہ کالی وردی کی وجہ سے پولیس کے کرتوت بھی کالے رہتے ہیں، اِس لئے کالے رنگ کو پولیس وردی سے ختم کیا جا رہا ہے،لیکن پولیس کی اس خاکی مائل وردی نے کیسے کیسے غضب ڈھائے ہیں، یہ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ کئی پولیس والوں کو یہ کہتے سنا ہے کہ موجودہ وردی پہن کر تو وہ ڈاکیے لگتے ہیں، کاش یہ ڈاکیے ہی بن جاتے اور لوگوں کو دُکھ دینے کی بجائے راحتیں بانٹتے۔ اسی خاکی رنگ کی وردی پاک فوج کی بھی ہے، وہاں تو ایسا کوئی احساس موجود نہیں اور اسی خاکی وردی نے ملک کے لئے دفاع کا فریضہ انتہائی جانفشانی سے ادا کیا ہے۔ابھی تو پچھلی وردی بدلنے اور نئی وردیاں خریدنے کے سودے میں اربوں روپے کی بدعنوانی کے قصے گردش کر رہے ہیں،اب پھر یہ سرگرمی کیسے شفاف طریقے سے آگے بڑھے گی۔

اعتراض تو یہ بھی ہو رہا ہے کہ عمران خان اپنے انتخابی جلسوں میں جہاں پنجاب میں پولیس کے بگاڑ کی ذمہ داری شریف برادران پر ڈالتے تھے، ساتھ ہی یہ بھی کہتے تھے کہ شہباز شریف نے پولیس کو بدلنے کے لئے صرف اُس کی وردی تبدیل کر دی۔ ہم ایسے کھوکھلے کام نہیں کریں گے،بلکہ اصلاحات کے ذریعے پنجاب پولیس کو تبدیل کر دیں گے۔

اب خود اُن کی حکومت میں وہی پرانا اور گھسا پٹا سکرپٹ دہرایا جا رہا ہے۔ کیا اسے بھی یوٹرن کہا جا سکتا ہے۔ کیا پنجاب پولیس ایک اور نئی وردی کے بعد ٹھیک ہو جائے گی یا اُس کے بعد بھی اُسے کسی نئی وردی کی ضرورت پڑے گی؟سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ تو یہ بھی چل رہی ہے کہ اگر اِس بار بھی نئی وردی کے بعد پنجاب پولیس ٹھیک اور اُس کی پولیس گردی ختم نہ ہو ئی تو اگلی بار اُسے وردی کی بجائے احرام پہنایا جائے،شاید اس سے کوئی تبدیلی آ جائے۔وزیراعظم عمران خان کے علم میں یہ بات ہے یا نہیں کہ رفتہ رفتہ موجودہ حکومتی سیٹ اَپ کا تاثر بھی روایتی حکومتوں جیسا بنتا جا رہا ہے۔

وہی مصلحت سے آلودہ فیصلے، وہی کمزوریاں، وہی دقیانوسی ڈنگ ٹپاؤ تراکیب اور وہی عوام کو جھوٹے وعدوں کے سہارے بہلانے کی کوششیں، صرف اس ایک نعرے سے کب تک کام چلایا جا سکتا ہے کہ ’’احتساب کے معاملے میں کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا یا کسی کرپٹ کو این آر او نہیں دیں گے‘‘۔۔۔ کرنے کے اور بھی بہت سے کام ہیں،مگر اُن پر سمجھوتے پر سمجھوتہ ہو رہا ہے۔

مزید : رائے /کالم