ایک انتہائی خطرناک آڈیو کلپ

ایک انتہائی خطرناک آڈیو کلپ
ایک انتہائی خطرناک آڈیو کلپ

  

پاکستان نے جوہری دھماکے تو 1998ء میں کر لئے تھے اور وہ بھی انڈیا کے دھماکوں کے جواب میں، اس کے بعد انڈیا نے تو کبھی اس بم کو استعمال کرنے کا نام نہیں لیا، لیکن پاکستان گاہے ماہے ایسا کرتا رہا اور اپنی آبادی کی مین سٹریم سے اس کی داد پاتا رہا ہے۔

انڈیا یا کسی اور جوہری ملک نے آج تک یہ نہیں کہا کہ اگر فلاں حد عبور کی تو ہم بم ’چلا‘ دیں گے لیکن ہم پاکستانی اکثر سوچتے رہتے ہیں کہ خیر ہے، کوئی بات نہیں، کوئی مسئلہ ہی نہیں۔۔۔ ہمارے پاس بم جو ہے! ہر اَن پڑھ، نیم خواندہ یا خواندہ پاکستانی وہ وطنِ عزیز کے اندر سکونت پذیر ہو یا باہر کسی ملک میں قیام رکھتا ہو، اس کے دل و دماغ میں اپنا ’’پاکستانی ایٹم بم‘‘ ضرور سمایا رہتا ہے۔

اور تو اور آپ کسی اوسط فہم سکول کی طالبہ سے پوچھ کے دیکھ لیں، وہ کہے گی کہ پاکستان ایک جوہری قوت ہے۔ ہمارے حکمران بھی کئی دفعہ ہماری ’توجہ‘ اس جانب مبذول کروا چکے ہیں کہ دیکھئے ہم نے ایٹم بم شبِ برات کے لئے نہیں بنایا۔ اور اگر بنایا ہے تو ’صرف اور صرف‘ اس لئے بنایا ہے کہ اس کو استعمال کرکے رہیں گے۔ ایک سابق آرمی چیف اور صدر مملکت تو کئی بار میڈیا پر آکر کہہ چکے ہیں کہ ہم نے جوہری بم، شب برات کے لئے نہیں ، انہی مواقع کے لئے بنا رکھے ہیں کہ اِدھر اندیا جیسے کسی حریف نے جنگ کی دھمکی دی یا پاکستان کو ’ڈومور‘ کا کہا تو پاکستان مجبور ہو جائے گا کہ اپنے جوہری ترکش کی کنڈی کھولے اور اس حریف پر بموں کی بارش کر دے۔

قارئین کو معلوم ہو گا کہ ماضی میں (1998ء کے تجربوں کے بعد) جب بھی انڈوپاک ملٹری سٹیند آف کا موقع آیا ہے، ہم نے اپنے جوہری بموں کی گَرد جھاڑنے کا عندیہ دے دیا ہے۔ وہ سپرپاور جس کے پاس ہزاروں بم ہیں، وہ بھی یہی خیال کرتی ہے کہ دنیا میں اگر جوہری قیامت کا آغاز ہوا تو اس کا ’سہرا‘ ہمارے سر نہیں پاکستان کے سر باندھا جائے گا!

مجھے معلوم نہیں ایسا کیوں ہے۔ کیا ہم اپنی سائیکی کے ہاتھوں مجبور ہیں؟ کیا ہم ایسی ہی ’’ہتھ جُھٹ‘‘ قوم ہیں کہ علی الاعلان جوہری جنگ میں کودنے پر تیار رہتے ہیں؟ہمارا یہ پرسپشن بھی عام ہے کہ پاکستانیوں سے کچھ بھی بعید نہیں۔ یہ اپنا آدھا ملک گنوا کر بھی ایٹم بم اور میزائل بنا لیتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں ہم نے 28مئی 1998ء کے بعد ’’تخت یا تختہ ملٹری ڈاکٹرین‘‘ اپنا رکھا ہے۔

مئی جون 1999ء کے کارگل تنازعے میں انڈیا کو یہی ڈر تھا کہ اگر اس نے کنٹرول لائن کے علاوہ انٹرنیشنل باؤنڈری کراس کی تو ’میڈ اِن کہوٹہ‘ کی پروڈکشن برسرِعام نمایاں ہو گی۔ امریکہ اور اسرائیل جیسے ممالک نے ان ایام میں انڈیا کو خبردار کر دیا تھا کہ پاکستانی بم گودام سے باہر نکل کر سرحدوں کی طرف گامزن ہو چکا ہے۔۔۔ حیرانی ہے کہ ایک طرف اسرائیل ہے جو ہم سے کئی برس پہلے بم سازی کے فن میں ہم سے سینئر ہے لیکن ایسا ’’مِیسنا‘‘ ہے کہ کبھی بھولے سے بھی نام نہیں لیتا کہ اس کے پاس ایسی کوئی اہلیت ہے بھی یا نہیں جو ایک نہیں کئی ’’ہولوکوسٹوں‘‘ کا سبب بن سکتی ہے۔۔۔ اور دوسری طرف ہم ہیں کہ کسی فارسی شاعر کے اس مصرعے پر ادھار کھائے بیٹھے ہیں:

ہرچہ بادا باد ما کشتی درآب اندا ختیم

یہ ایام جو گزر رہے ہیں، نہ صرف برصغیر پر بلکہ ساری دنیا پر بھاری ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اب انڈیا نے بھی فیصلہ کر لیا ہے کہ اگر پاکستانی بم شب برات کے لئے نہیں بنائے گئے تو ہندوستانی بم بھی دیوالی کے لئے نہیں رکھے ہوئے۔دنیا کو اب معلوم ہو رہا ہے کہ آگ دونوں طرف برابر لگی ہوئی ہے پہلے تو دنیا پاکستان کو سمجھا بجھا کر چپ کرا لیتی تھی لیکن اب ہندوستانی رانی کو کون کہے گا کہ ’’اگاّ ڈھک‘‘۔۔۔

میری طرح آپ نے بھی چند روز پہلے سوشل میڈیا پر پاکستان میں موجود انڈین انٹیلی جنس کے ایک خوابیدہ سیل کو جاگتے دیکھا اور سنا ہو گا۔ یہ سیل (Cell)بڑے دھڑلے سے یہ کہہ رہا ہے کہ فلاں دن اور فلاں وقت عمان کی بندرگاہ میں انڈیا کی جو سٹرٹیجک فورس خیمہ زن ہے اس نے اعلان کر دیا تھا کہ 30میل کے محیط میں ائر کوریڈور خالی کر دیا جائے۔ ناٹو (NATO) کمانڈ ہیڈکوارٹر کو بھی خبردار کر دیا گیا تھا کہ وہ عمان کی گہرے پانی کی بندرگاہ کے آس پاس سے اپنے فوجی واپس بلا لے کیونکہ انڈیا نے نیوکلیئر کوڈز ایکسچینج کر لئے ہیں اور ٹیکٹیکل نیو کلیئر سٹرائیک کا فیصلہ کر لیا ہے۔ انڈیا نے 72 گھنٹوں کے اندر اندر ائر کوریڈور خالی کرنے کا نوٹس دے دیا تھا جس پر سعودی عرب نے تو عمل کرنے کا فیصلہ کر لیا لیکن ناٹو سیکرٹریٹ کی عجلت پسندی دیکھئے کہ صرف 2189گھنٹوں کے اندر اس علاقے سے سارے امریکی فوجی نکال لے گئے تھے۔

انڈیا کا پرائمری ٹارگٹ کراچی تھا اور لاہور سیکنڈری ٹارگٹ تھا۔ عمان میں شمسی بیس (Base) سے یہ نیوکلیئر سٹرائیک کی جانی تھی اور اس کی باقاعدہ اجازت امریکہ نے انڈیا کو دے دی تھی۔یہ وہی وقت تھا جب عمران خان نے ابھی نندن کو رہا کرنے کا حکم دے دیا تھا۔ تاہم بعد میں سعودی عرب نے Interveneکیا اورویت نام میں جو کِم اور ٹرمپ کی کانفرنس ہو رہی تھی۔۔۔ اچانک ختم کر دی گئی۔۔۔ اس 2منٹ کی آڈیو کلپ میں یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ اس تمام کہانی کا قصہ حامد میر کو معلوم ہے کہ ہم اس قسم کی معلومات ان سے شیئر کرتے رہتے ہیں۔

اس روز صبح ہی سے حامد میر کو بتلایا جا رہا تھا کہ نیو کلیئر کوڈ ایکسچینج ہو چکے ہیں اور کراچی اور لاہور پر جوہری حملہ ہونے والا ہے:۔۔۔ اور سب سے خطرناک اور حیرت انگیز خبر اس کلپ کے آخر میں دی گئی ہے۔ کہنے والا کہہ رہا تھا: ’’میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ لا الہ الا اللہ اگلے سات دنوں میں یہ نیوکلیئر کوڈز ایکسچینج ہوں گے اور کراچی اور لاہور پر حملہ ہو گا‘‘۔

اس قسم کی بے بنیاد، غلط اور بیہودہ قسم کی آڈیو کلپ کس نے بنائی، کس نے آن ائر کی، حامد میر کا دوبار نام کیوں لیا گیا اور کہا گیا کہ ہم اس قسم کی انٹیلی جنس ان سے شیئر کرتے رہتے ہیں۔ امریکہ نے اپنے شہری صرف 2189گھنٹوں میں کراچی اور لاہور سے واپس کیسے منگوائے، عمان کی ڈیپ سی پورٹ (Deep Sea Port) پر انڈیا کی نیو کلیئر بیس (شمسی) ہے بھی یا نہیں، اگر ہے تو حکومت عمان نے انڈیا کو اپنی سرزمین سے پاکستان کے خلاف یہ جوہری حملہ لانچ کرنے کی اجازت کیوں دی، سعودی عرب کا اس سٹرائیک کو روکنے میں کتنا ہاتھ تھا اور عمران نے اس خبر کو سنتے ہی 7،8 منٹ بعد ونگ کمانڈر ابھی نندن کی رہائی اور انڈیا کو واپسی کی اجازت کیوں دی ان سب باتوں کی تحقیق ہونی چاہیے۔

آئی ایس پی آر کو یہ گمراہ کن خبر پھیلانے والوں کا سراغ لگانا چاہیے کہ ان ایام میں جب انڈو پاک سٹینڈ آف عروج پر تھا تو اس حرکت کا نتیجہ کیا ہو سکتا تھا۔ اس افواہ کو وائرل کرنے والے کا ٹرائل، انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں ہونا چاہیے اور کھلے عام ہونا چاہیے۔

میں قارئین کی خدمت میں عرض کر رہا تھا کہ ہم پاکستانیوں نے ایٹم بم کو کھلونا بنا کر رکھ دیا ہے۔ ایک عام شہری سے لے کر صدر مملکت تک میں یہ رویہ کیوں پایا جاتا ہے کہ ہمارے جوہری بم شب برات کے لئے نہیں رکھے گئے۔کیا ان کو پتہ نہیں 6اگست 1945ء کو ہیروشیما اور 9اگست کو ناگاساکی پر جو بم گرائے گئے تھے ان کی تباہی کا سکیل کیا تھا؟ کیا انٹرنیٹ پر ان حملوں کی وڈیوز نہیں دیکھی جا سکتیں؟۔۔۔ کچھ عرصہ پہلے بی بی سی نے دوسری جنگ عظیم پر ایک بے مثال سلسلے وار دستاویزی فلم تیار کرکے آن ائر کی تھی۔ قارئین نے اگر وہ فلم (ڈاکومینٹری) نہیں دیکھی تو اب ضرور دیکھیں

۔ دوجوہری ملکوں کے درمیان جوہری جنگ کے مناظر تو اس فلم میں نہیں دکھائے گئے کیونکہ جاپان پر اتحادیوں کا حملہ یک طرفہ تھا۔ اگر ان ایام میں جاپان کے پاس بھی کوئی ابتدائی اور معمولی قسم کا ایٹم بم ہوتا تو جوہری جنگ کی تاریخ مختلف انداز میں تحریر کی جاتی۔ تاہم یہ یکطرفہ جوہری حملے کی دستاویزی فلم بھی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔

اس کو دیکھنے کے بعد ساری دنیا کے ممالک کو بالعموم اور جوہری اہلیت کے حامل ملکوں کو بالخصوص یہ جان لینا چاہیے کہ اس جنگ کے بعد کیا ہو گا اور عمران خان نے ٹھیک کہا تھا کہ مودی یہ جنگ شروع کر سکتے ہیں لیکن اس کو ختم کرنے کا اختیار نہ ان کے پاس ہو گا اور نہ میرے پاس!

مزید : رائے /کالم