حکومت پسماندہ علاقوں کی ترقی کیلئے اقدامات کر رہی ہے ‘ نیاز حسین گشکوری

حکومت پسماندہ علاقوں کی ترقی کیلئے اقدامات کر رہی ہے ‘ نیاز حسین گشکوری

قصبہ گرمانی (نمائندہ پاکستان)سردار نیاز حسین خان گشکوری ایم پی اے اور موسیٰ خیل قبیلے کے عمائدین کی دعوت پر ڈپٹی اسپیکر بلوچستان اسمبلی سردار بابر خان موسیٰ خیل کی اڈا ون آر آمد۔ نیاز حسین خان کی رہائش گاہ پر ان کا زبردست استقبال کیا گیا۔ سردار نیاز حسین خان گشکوری نے خطاب کرتے(بقیہ نمبر42صفحہ7پر )

ہوئے کہا کہ بلوچستان خصوصاً موسیٰ خیل سے لوگوں کی اکثریت یہاں آباد ہے وہ اپنے آپ کو سرائیکی سمجھتے ہیں اور انکے ہر فرد کو ہر طرح کے حقوق حاصل ہیں۔ ہماری ثقافت اور تہذیب ایک ہے اور ہم سب نے ملکر ظالم گودوں اور وڈیروں کے خلاف کامیابی حاصل کی اوراس جدوجہد میں ان کے ساتھ موسیٰ خیل قبیلے لوگ بھی شامل رہے۔ سردار نیاز حسین خان کا مزید کہنا تھا ہم پسماندگی، غربت اور ناانصافی کے خلاف وزیراعظم عمران خان کے ویژن کے مطابق اپنی جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ضلع مظفر گڑھ پنجاب کے پسماندہ ترین اضلاع میں سے ایک ہے اور ہم چاہتے ہیں ہم اور آپ ملکر اپنے علاقوں کی فلاح بہبود کے لئے کام کریں۔ نیاز حسین خان نے ڈپٹی اسپیکر بلوچستان اسمبلی کا انکی آمد پر شکریہ ادا کیا۔ڈپٹی اسپیکر بلوچستان اسمبلی سردار بابر خان موسیٰ خیل نے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک ہم سب کا ہے ، میں مظفر گڑھ کو اپنا دوسرا گھر سمجھتا ہوں سابقہ حکومتوں نے بلوچستان کو غربت اور پسماندگی کی طرف دھکیلا اوردہشت گردی کی لہر میں بے گناہ افراد شہید ہوئے۔ ہم سرائیکی وسیب اور بلوچستان کی پسماندگی کے خاتمہ کے لئے ملکر کام کریں گے ۔ مجھے خوشی ہے کہ سردار نیاز خان نے آج مجھے اپنے سرائیکی بھائیوں سے بات چیت اور ملاقات کا موقع فراہم کیا ہے جس پر میں ان کا ،انکی ٹیم اور اپنے قبیلے کے افراد کا بے پناہ مشکور ہوں ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ میرے گھر کے دروازے میرے اس علاوہ کے ہر بھائی کے لئے کھلے ہیں ہم اپنی سطح پر ہر طرح کا تعاون کرنے کے لئے تیار ہیں۔ بعد ازاں بابر خان موسیٰ خیل دادو خان کی رہائش گاہ قصبہ گرمانی پہنچے اور اپنے قبیلے کے افراد کی طرف سے دیئے گئے عشائیہ میں شرکت کی۔اس موقع پرایاز خان موسیٰ خیل، عالم خان موسیٰ خیل، ادم خان، خیل الرحمان گرمانی، قاری اعجاز حسین، پنو پیر، کاشف خان گشکوری، سعید خان موسیٰ خیل کے علاوہ مظہر اقبال جگلانی بھی موجود تھے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر