اساتذہ پر تشدد ‘ گرفتاریاں ‘ فیڈریشن آف سکولز کا ملتان میں احتجاجی مظاہرہ

اساتذہ پر تشدد ‘ گرفتاریاں ‘ فیڈریشن آف سکولز کا ملتان میں احتجاجی مظاہرہ

ملتان(سٹاف رپورٹر )فیڈریشن آف رجسٹرڈ سکولز پنجاب ( پیف )ضلع ملتان کے زیر اہتمام اساتذہ پر لاٹھی چارج اور گرفتاریوں کے خلاف احتجاجی مظاہر ہ کیاگیا جس میں چوہدری(بقیہ نمبر40صفحہ12پر )

ارشد محمود۔چوہدری نور محمد میو۔طارق امیر عباسی۔رانا اسلم ساغر۔یوسف ڈوگر۔فیاض بلوچ اور فرید بنگش نے قیادت کی۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوءئے مقررین نے کہا کہ پیف سکولز میں داخلہ کی بندش سے 30لاکھ بچے متاثرہوں گے اور دو کروڑ بچے پہلے ہی سکول اور تعلیم سے محروم ہیں انہوں نے کہا کہ 19مارچ کو پریس کلب لاہور سے لیکر پنجاب اسمبلی ہال تک اساتذہ اور سکول مالکان احتجاجی ریلی نکالیں گے جبکہ آج مظفر گڑھ لیہ ڈی جی خان۔رحیم یار خان۔لودھراں۔شجاع آباد سمیت دیگر اضلاع میں بھی احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے ۔ مظاہرے میں چوہدری ارشاد عزیز۔ چوہدری وقاص عارف۔مدثر ڈوگر۔احسان سعیدی۔رانا خالد مجید۔شفقت منیر۔حافظ محمد اقبال۔ملک شبیر احمد۔راؤ افضل۔جاوید میو۔قاری محمد اسلم۔عامر بشیر قادری۔قاری اعجاز الٰہی ۔پروفیسر اعجاز۔فیاض قادری۔صفدر بھٹی اور دیگر عہدیداروں نے شرکت کی۔

ملتان ‘ مظفر گڑھ ‘ گوگڑاں (سٹاف رپورٹر ‘بیورو رپورٹ ‘ سپیشل رپورٹر ‘ نمائندہ پاکستان )فیڈریشن آف رجسٹرڈ سکولز پنجاب ( پیف )ضلع ملتان کے زیر اہتمام ڈیرہ غازی خان میں (بقیہ نمبر39صفحہ12پر )

ضرور پڑھیں: سوچ کے رنگ

اساتذہ پر لاٹھی چارج اور گرفتاریوں لاہور میں پولیس چھاپوں کے خلاف صوبائی وزیر تعلیم کی برطرفی کے لیے فرید بنگش چوہدری ارشد محمود۔چوہدری نور محمد میو۔طارق امیر عباسی۔رانا اسلم ساغر۔یوسف ڈوگر۔فیاض بلوچ کی قیادت میں پریس کلب ملتان کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اور مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیف سکولز میں داخلہ کی بندش سے 30لاکھ بچے متاثرہوں گے اور دو کروڑ بچے پہلے ہی سکول اور تعلیم سے محروم ہیں انہوں نے کہا کہ 19مارچ کو پریس کلب لاہور سے لیکر پنجاب اسمبلی ہال تک اساتذہ اور سکول مالکان احتجاجی ریلی نکالیں گے فرید بنگش نے کہا کہ گرفتاریاں لاٹھی چارج ہمیں اپنے حقوق مانگنے سے روک نہیں سکتے جبکہ ہم نے ضلع ملتان کے ضمنی الیکشن پی پی 218میں تحریک انصاف کے امیدوار کو ووٹ نہ دینے کا اعلان کیا ہے۔صوبائی ارکان اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے کے خلاف اساتذہ تنظیموں نے احتجاج کیا ،پنجاب ٹیچرز یونین کے سینئر نائب صدر رانا الطاف حسین نے صوبائی اراکین اسمبلی کی تنخواہوں میں دو لاکھ روپے تک کے علان پر شدید احتجاج کیا ہے اور کہا ہے کہ ایک طرف مزدور کی تنخواہ صرف ساڑھے سولہ ہزار روپے تک ہے جبکہ دوسری طرف دیگر اداروں میں مڈل کلاس طبقہ کے ملازمین اور اساتذہ کی تنخواہیں بھی اتنی زیادہ نہیں ہیں کہ وہ اپنی بہتر انداز میں کفالت کرسکیں اراکین اسمبلی کی تنخواہیں بڑھانے کی بجائے مزدور کی تنخواہ کم از کم ایک تولہ سونے کے برابر کی جائے اور اداروں میں موجود ملازمین کی تنخواہیں بھی بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناسب سے سو فی صد کے اضافے کے ساتھ بڑھائی جائیں بصورت دیگر پنجاب ٹیچرز یونین مزاحمتی تحریک چلانے پر مجبور ہوجائے گی ۔پیف سکولوں میں نئے داخلوں پر پابندی کے خلاف فیڈریشن آف رجسٹرڈ سکول مظفرگڑھ کے زیراہتمام ایک احتجاجی جلسہ کا انعقاد کیا گیاجس میں صوبائی چیف آرگنائزر فیڈریشن آف رجسٹرڈ سکولز فرید خان بنگش نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔تقریب میں صوبائی جنرل سیکرٹری چوہدری ارشد محمود صدر جنوبی پنجاب طارق امیر عباسی بھی شریک ھوئے۔جلسہ میں پیف پارٹنرز کی بہت بڑی تعداد سے خطاب کرتے ہوہے فرید خان بنگش نے کہا کہ حکومت نے پیف سکولز میں نئے داخلوں پر پابندی لگا کر نہ انصافی کررہی ہے۔حکومت بتائے کیا ملک میں شرح خواندگی % 100 ھوگی ہے؟ان پیف سکولز میں غریبوں کے بچے زیور تعلیم سے فیض یاب ھو رے تھے اب ان پر معیاری تعلیم کے دروازے بند کئے جارہے ہیں۔جلسے کے شرکا نے حکومت سے پیف سکولز کو ویلفیر سکولز کا درجہ دینے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھاکہ کمرشل ٹیکس کمرشل نقشہ فیس ، سوشل سیکورٹی فنڈ اور اولڈ ایج بینفٹ فنڈ بجلی کے کمرشل ٹیرف ختم کیا جائے۔فیڈریشن آف رجسٹرڈ سکول کے صوبائی جنرل سکریٹری چوہدری ارشد محمود نے کہا پیف سکولز کی سابقہ داخلہ پالیسی بحال کی جائے اور نئے داخلوں پر عائد پابندی فل فور ختم کی جائے۔فیڈریشن آف رجسٹرڈ سکولز لودہراں اور پیف پائما داخلوں کی پابندی پر احتجاجی ریلی کی صورت میں پی ٹی آئی سیکرٹریٹ لودہراں میں ضلعی صدر ڈاکٹر شیر محمد اعوان اور جہانگیر خان ترین کے پرسنل سیکرٹری عبدالخالق کانجو کو نئے دا خلوں کی اجازت اور بجٹ میں اضافہ کی درخواست دی گئی ۔ریلی میں سینکڑوں سکولز مالکان اور اساتذہ کی شرکت کی ۔درخواست میں پاکستان تحریک انصاف کے الیکشن سے قبل پاکستانی عوام سے وعدوں کی یاد دھانی کرائی گئی کہ پاکستان میں تعلیم کا معیار افسوس ناک حد تک کم ہے ، کوئی بھی قوم تعلیم کے بغیر ترقی نہیں کرسکتی ۔ لہذا ! تعلیم کے بجٹ کو دگنا کیا جائے گا ۔ پاکستان میں اڑھائی کروڑ بچہ خاص طور پر لڑکیاں تعلیم سے محروم ہیں ، انہیں سکولوں میں لانے کے لیے ہر قدم اٹھایا جائے گا ۔ دنیا کی سب سے بڑی پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ تشکیل دی جائے گی تاکہ ہر غریب اور مزدور کے درواز ے تک علم کی شمع پہنچائی جاسکے ۔ احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے پیف سکولز کے ضلعی صدر رانا اشرف علی نے کہا کہ حکومت پنجاب کی مالی معاونت سے قائم ، انتہائی کم خرچ اور پبلک پرائیوٹ پارٹنر شب کے کامیاب ماڈل پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کا بجٹ جوکہ پہلے ہی کم تھا کو 16ارب سے کم کرکے 12ارب روپے کر دیا گیا ہے جس سے ادارہ مالی بحران کا شکار ہوگیا ہے اور 30لاکھ بچوں اور اڑھائی لاکھ اساتذہ کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے ۔ تعلیم کے فروغ کے لیے نئے تعلیمی سال میں تمام پیف سکولز کو بھرپور داخلوں کی اجازت دینے کی بجائے نئے داخلوں پر سخت پابندی عائدکردی ہے ( جو برائے نام داخلے کی اجازت دی ہے اس سے زیادہ بچے پیف سکولز میں پہلے ہی بغیر پیمنٹ داخل ہیں )ب فارم کی پابندی ختم کی جائے کیونکہ وقت کی کمی کے ساتھ ساتھ دیہی علاقوں میں سہولیات میسر نہیں ۔پیف سکولز کے سرپرست عبداللہ جان نے کہاحکومت پنجاب کے 4500وہ پرائمری سکول جو گھوسٹ قرار پائے تھے ، پیف پارٹنرز نے دن رات محنت کرکے صرف 550روپے فیس میں ان سکولوں کو اتنا کامیاب کردیا ہے کہ ان میں بچوں کی تعداد 1000تک جاپہنچی ہے ۔ بے پناہ ذاتی کوشش اور محنت کے باوجودحکومت پنجاب پانچ ماہ سے پارٹنرز کو تنخواہیں ادا نہیں کررہی ہے اور طرح طرح کی پابندیوں کا شکار کرکے اس پروگرام کو ناکام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ 75فیصد سے زائد پیف سکول جنوبی پنجاب کے غریب دیہی اور دور دراز علاقوں میں تعلیم کی شمع روشن کیے ہوئے ہیں ۔ ان محروم بچوں پر علم کے دروازے بند کیے جارہے ہیں ۔ ایک طرف تعلیمی ایمرجنسی دوسری طرف پیف سکولز پر نئے داخلوں کی پابندی اس حکومت کو ناکام بنانے کی سازش ہے ۔ تحصیل صدر شیخ عمران نے کہا کہ پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے تما م پروگرامز (PEIMA-PSSP, NSP, EVS, FAS)میں تسلیم شدہ Capacityاور دستیاب شدہ سہولیات کے مطابق داخلوں کی فی الفور اجازت دی جائے اور داخلوں پر پابندی کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیا جائے ۔ پیف سکولز میں جاری مزدور بچوں ، بھٹہ مزدور بچوں ، آؤٹ آف سکول چلڈرن ، معذور بچوں ، طالبات کے لیے مخصوص اور دور دراز نیو سکول پروگرام کو جاری رکھا جائے ۔ سب پروگرامز میں نئے داخلوں کی اجازت دی جائے اور پیمنٹ کو بھی یقینی بنایا جائے ۔

مزید : ملتان صفحہ آخر