ٹبہ ظاہر پیر میں قبضہ گروپ متحرک ‘ 25سال سے لوگوں کے مکان مسمار ‘ متاثرین کا احتجاج

ٹبہ ظاہر پیر میں قبضہ گروپ متحرک ‘ 25سال سے لوگوں کے مکان مسمار ‘ متاثرین کا ...

صادق آباد (نامہ نگار)صادق آباد ٹبہ ظاہر پیر قبضہ مافیا گروپ متحرک ، پٹواریوں کی جھوٹی رپورٹ سے انتظامیہ کو گمراہ کر کے پولیس کی مدد سے 25سال سے مکینوں کے مکانات گرا دیے خواتین پر تشدد ، بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتے رہے ۔ اعلیٰ حکام فوری طور پر قبضہ مافیا گرو پ کے ساتھ سخت کاروائی عمل میں (بقیہ نمبر18صفحہ12پر )

لا کر انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائے ۔ قبضہ مافیا گرو پ نے گرائے جانے والے ملبہ کو بھی ساتھ لے گئے ، تفصیل کے مطابق ٹبہ ظاہر پیر کے رہائشیوں محمد رمضان عر ف جانی ، عبدالمناف ، بابر علی ، باغ علی، دائم بلوچ، مختیار عرف بابو، جاوید ، اکبر و دیگر نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ حنیف پٹواری اور بلدیہ کے شہزاد پٹواری کی ملی بھگت اور جھوٹی رپورٹ سے انتظامیہ کو گمرا ہ کر کے ہمارے مکانوں کو زبردستی گرا یا گیا ۔ ہم گزشتہ 25سال سے ٹبہ ظاہر پیر پر رہائشی ہیں جس کی تمام دستاویزات ہمارے پاس موجود ہیں اس طرح ٹبہ ظاہر پیر سرکاری اراضی کچی آبادی میں رہائش پذیرہیں جبکہ با اثر افراد پیسوں کے بل بوتے پر حنیف پٹواری اور شہزاد پٹواری سے مل کر جھوٹی رپورٹ بنا کر ہمارے تعمیر شدہ مکانوں کو زبردستی گرا دیا گیا ۔ انہوں نے بتایا کہ قبضہ مافیا نے ہمارے دس سے زائد مکانوں کو گرا دیا ہے جبکہ دیگر مکانوں کو گرانے کے لیے انتظامیہ کی آنکھوں میں دھول جھونک کر پھر سے ہمیں ہماری سروں سے چھت چھیننے کے در پے ہیں ۔ چند سازشی عناصر جن میں محمد ریاض ، محمد آصف ، عبدالعزیز ، امین ودیگر کی طرف سے ہمارے علاقہ کے لوگوں کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں ۔علاقہ مکینوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب ،آئی جی پنجاب اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ ہمارے گرائے جانے والے مکانات کی تعمیر اور ملبہ جات کی رقوم اور ہمیں ہمارے مکانات پھر سے تعمیر کرنے کی اجازت دی جائے اور قبضہ مافیا کی در از اندازی ،جارحیت اور ظلم و ستم سے نجات دلائی جائے ۔ علاقہ مکینوں کا کہنا تھا کہ ٹبہ ظاہر پیر ہی نہیں بلکہ صادق آباد کی دیگر متعدد کچی آبادیوں میں رہنے والے مکینوں کو ڈرا دھمکا کر ان سے سرکاری اراضی چھیننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ فوری طور پر کار وائی عمل میں نہ لائی گئی تو نہ صرف امن و امان کی غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگی بلکہ لڑائی جھگڑے کے دوران انسانی جانوں کے ضیاع ہونے کا خدشہ ہے ۔ اس واقع کے بارے جب متعلقہ افراد سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے جواب دینے سے انکار کر دیا ۔

مزید : ملتان صفحہ آخر