سٹینڈرڈ چارٹرڈ نے ’ویمن ان ٹیک‘ پروگرام کا آغاز کردیا

سٹینڈرڈ چارٹرڈ نے ’ویمن ان ٹیک‘ پروگرام کا آغاز کردیا

کراچی( پ ر)اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک (پاکستان) لمٹیڈ نے ’ویمن ان ٹیک ( Women in Tech) ‘کے نام سے ایک عالمی پروگرام کے �آغاز کا اعلان کیاہے جس کا مقصد ٹیکنالوجی کی بنیاد پر کام کرنے والی انٹریپرینیورشپ میں صنفی نمائندگی کی غرض سے تنوع میں اضافے کے لیے اعانت فراہم کرنا ہے۔ اننووینچرز ( INNOVentures )اور پاکستان اننوویشن فاونڈیشن ( Pakistan Innovation Foundation) کے تعاون سے شروع کیے گئے اسٹینڈرڈ چارٹرڈ ویمن ان ٹیک پروگرام کا مقصد جدت یا ٹیکنالوجی کی بنیاد پر کام کرنے والی انٹریپرینورشپ کے ذریعے پاکستان میں خواتین کی معاشی اور سماجی ترقی کو فروغ دینا ہے۔ یہ ایک عالمی پروگرام ہے جس کا آغاز پاکستان میں بھی کیا جا رہا ہے۔بینک خواتین کی ملکیت میں چلنے والے چھوٹے اداروں کی صلاحیتوں میں اضافے پر توجہ دے گا۔ اسٹینڈرڈ چارٹرڈ ویمن ان ٹیک پروگرام کا ہدف خواتین کی رہنمائی میں کام کرنے والی انٹریپرینیورل ٹیمیں ( entrepreneurial teams) ہوں گی اور انہیں ٹریننگ ، مینٹورشپ ( mentorship ) اور سیڈ فنڈنگ (seed funding ) فراہم کی جائے گی۔اس پروگرام میں شرکت کے لیے اوپن کال ہوگی جس کے بعد مقابلے میں حصہ لینے والی 25 ایسی شرکاء کا انتخاب کیا جائے گاجو نہایت زبردست آئیڈیاز پیش کریں گی۔ ٹریننگ کی مدت ختم ہونے پر کامیاب ہونے والی پانچ شرکاء کا انتخاب کیا جائے گا اور ہر شریک کو 10,000 امریکی ڈالرز دئیے جائیں گے جس سے وہ اپنے کاروبار میں سرمایہ کاری کریں گی۔اس ایونٹ میں صرف خواتین پر مشتمل پینل مذاکرہ بھی شامل تھا ۔

جس میں کاروبار چلانے کے لیے ٹیکنالوجی پر ہونے والے اخراجات اور ڈیجیٹل تقسیم جیسے موضوعات سمیت ویمن انٹریپرینیورشپ پر گفتگوکی گئی۔اس پینل مذاکرے کی قیادت پاکستانی ترقیاتی ماہر معاشیات، سفارت کاراوردانشور ڈاکٹر شمشاد اختر، پاکستان سافٹ ویئر ہاوسز ایسوسی ایشن فار آئی ٹی ( PASHA ) کی صدر جہاں آرا، وزارت تجارت ، حکومت پاکستان میں پارلیمانی سیکریٹری اور پاکستان تحریک انصاف کی رکن قومی اسمبلی ، شاندانہ گلزار اور پاکستان تحریک انصاف کی رکن صوبائی اسمبلی رابعہ نظامی نے شرکت کی جب کہ ماڈریٹر کے فرائض پاکستان اننوویشن فاؤنڈیشن کے چیئرمین، سعد عصمت اللہ نے انجام دئیے۔پینل نے مزید جن موضوعات پر بات کی ان میں خواتین کے لیے ملازمت کے دوران تربیت تک رسائی کی اہمیت، مینٹورنگ، طویل المیعاد مصروفیات تاکہ ان کے کاروبار کو ترقی دینے میں مدد مل سکے جب کہ فنڈنگ اہم ہونے کے باوجود کافی نہ ہو ، شامل تھے۔اس پروگرام کے آغاز پر تبصرہ کرتے ہوئے اسٹینڈرڈ چارٹرڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر، شہزاد دادا نے کہا،’’مجھے آج ،پاکستان میں،ویمن ان ٹیک پروگرام کے آغاز پر فخر ہے۔ ہم پر امید ہیں کہ یہ پروگرام پاکستان میں حوصلہ مندخواتین انٹریپرینیورز اورکاروبار کی مالک خواتین کی اعانت کے لیے ایک زبردست پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گا اور انہیں اپنا حقیقی صلاحیتوں سے کام لینے میں مددگار ثابت ہو گا۔یہ پروگرام منفرد آئیڈیاز کی نشاندہی، انہیں بہتر بنانے اور مارکیٹ میں پیش کرنے اور اسی کے ساتھ پاکستان میں خواتین کا جشن منانے میں بھی مدد فراہم کرے گا۔اس پروگرام کی بنیاد اسٹینڈرڈ چارٹرڈانٹریپرینیوریئل فائنانس اور نوجوان لڑکیوں اور خواتین کو صلاحیتوں میں اضافے کے ذریعہ اعانت کی فراہمی ہے۔ اس میں مستقبل کے بانیوں کے لیے بینک کی طویل المیعاد حکمت عملی ، آئندہ نسل کے لیے سیکھنے ، کمانے اور ترقی کرنے کے قابل بنانا شامل ہیں۔پاکستان میں اس پروگرام کا آغاز کے بعد ، اسٹینڈرڈ چارٹرڈ کی جانب سے ایسا ہی پروگرام امریکا اور کینیا میں بھی شروع کیا جائے گا۔اس سے قبل بینک نے یہ پروگرام ، سنہ 2014ء میں ،سٹی کالج آف نیو یارک میں متعارف کرایا تھا جہاں اس کے ذریعے ویمن انٹریپرینیورز ریسورس سینٹر قائم کیا گیا۔ امریکا میں شروع کیے گئے پروگرام میں کام کے لیے خصوصی جگہ، مینٹورشپ، کورس ورک اور کاروبار شروع کرنے کے میں درپیش چیلنجوں میں سے انٹرپرینیورز کو نکالنے میں اعانت کی فراہمی کی غرض سے جامع نیٹ ورک ڈیزائن تک رسائی شامل تھے۔دوسرا پروگرام، سنہ 2017ء میں کینیا میں، آئی لیب افریقہ (اسٹریٹھ مور یونیورسٹی) کے تعاون سے شروع کیا گیا تھا تاکہ افریقہ میں جدت یا ٹیکنالوجی کی بنیاد پر کام کرنے والی انٹرپرینیورشپ کو معاشی اور سماجی ترقی میں اعانت فراہم کی جا سکے۔پاکستان تیسری مارکیٹ ہے جسے ویمن ان ٹیک پروگرام کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔

مزید : کامرس