امیر مقام کی نیب کے ہاتھوں گرفتاری روکتے ہوئے جواب طلب

امیر مقام کی نیب کے ہاتھوں گرفتاری روکتے ہوئے جواب طلب

پشاور (نیوز رپورٹر ) پشاور ہائی کورٹ کی جسٹس مسرت ہلالی اورجسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل دورکنی بنچ نے پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اروسابق وفاقی وزیر امیرمقام کی نیب کے ہاتھوں ممکنہ گرفتاری کو روکتے ہوئے نیب سے جواب طلب کرلیا۔فاضل بنچ نے بیرسٹر مدثر امیر کی وساطت سے دائر رٹ کی سماعت کی جس میں انہوں نے موقف اختیارکیا ہے کہ اس کے موکل کاتعلق پاکستان مسلم لیگ ن سے ہے اوروہ مختلف سیاسی عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں نیب نے اس کے موکل کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے کی انکوائری شروع کی اوروہ باقاعدہ طور پر انکوائری میں پیش ہوتے رہے ہیں مگر حالیہ دنوں میں نیب پر اٹھنے والے متعدد سوالوں کے بعد یہ واضح ہوگیا ہے کہ نیب وفاقی حکومت کی ایماء پر اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کو حراساں کررہی ہے انہوں نے عدالت کو بتایاکہ اس کے موکل کو بھی خدشہ ہے کہ اسے حاضری کے بہانے بلاکر گرفتارکرلیاجائے گا انہوں نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان اپنے حالیہ فیصلے میں قرار دے چکی ہے کہ نیب صرف کال اپ نوٹس پر لوگوں کو بلا کر صرف وارنٹ تھمادیتی ہے اورگرفتاری ظاہر کرتی ہے اسلئے سپریم کورٹ نے واضح احکامات جاری کی ہے کہ اگر نیب کسی کو گرفتاری کریں گی تو پہلے اس کا وارنٹ جاری کرکے 10دن پہلے متعلقہ شخص کا آگاہ کرے گی اسلئے درخواست گزار کو بھی یہ رعایت دی جائے ۔دوسری جانب ڈپٹی پراسیکیورٹر جنرل نیب عظیم داد نے عدالت کوبتایاکہ درخواست گزار کیخلاف نیب کی انکوائری چل رہی ہے اورابھی تک اس کی گرفتاری کا وارنٹ جاری نہیں ہوا تاہم نیب اس حوالے سے اپنا جواب جمع کرناچاہتی ہے ۔جس پر عدالت نے نیب کو گرفتاری سے روکتے ہوئے جواب طلب کرلیا ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر