سیشن عدالتوں کا اندراج مقدمہ درخواستوں کی سماعت کا اختیار ختم ، ضلعی شکایت سیل قائم

سیشن عدالتوں کا اندراج مقدمہ درخواستوں کی سماعت کا اختیار ختم ، ضلعی شکایت ...

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر )چیف جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے نوازشریف کی درخواست ضمانت جلد سماعت کیلئے مقرر کرنے کی درخواست کی منظوری دیدی ۔نوازشریف کی درخواست ضمانت پر سماعت آئندہ ہفتے چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا3رکنی بنچ کرے گا۔نوازشریف کے وکلاء کی طرف سے العزیزیہ ریفرنس میں سزا اور ضمانت کی درخواست دائر کی گئی تھی۔گزشتہ روز نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے جلد سماعت کی درخواست دائر کی تھی۔دوسری جانب سپریم کورٹ نے این آئی سی ایل کیس کے مرکزی ملزم محسن حبیب کو دو ہفتوں میں گرفتار کرنے کا حکم دیدیا،جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دئیے کہ محسن حبیب نیب میں پیش بھی ہو چکا ہے، نیب نے ملزم کو چائے پلائی بسکٹ کھلائے اور بھیج دیا۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں این آئی سی ایل کرپشن کیس کی سماعت جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔ دوران سماعت عدالت نے ملزم محسن حبیب کی عدم گرفتاری پر اظہار برہمی کیا ۔ جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دئیے کہ محسن حبیب ای سی ایل میں نام کے ہونے کے باوجود بھاگ گیا تھا۔ جسٹس گلزار احمد نے کہا اب کیا گارنٹی ہے کہ وہ نہیں بھاگے گا؟پراسیکیوٹر جنرل نیب نے عدالت سے کہا کہ وہ متعلقہ حکام سے محسن حبیب کی روانگی کا ریکارڈ لینگے۔ اس پر جسٹس اعجازالاحسن نے برجستہ جواب دیا کہ لانچ میں فرار ہونے کا کوئی ریکارڈ نہیں ہوتا۔پراسیکیوٹر جنرل نیب نے کہا محسن حبیب نے ملی بھگت سے مہنگی زمین فروخت کی۔ دوسرے مرکزی ملزم ایاز نیازی کو سزا ہوچکی ہے۔ ایاز نیازی سے 4.40ملین کی ریکوری ہونا باقی ہے، عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ محسن حبیب طلبی کے باوجود پیش نہیں ہوئے۔ محسن حبیب کے وکیل نے التوا کی درخواست بھجوائی ہے،ملزم محسن حبیب کو دو ہفتوں میں گرفتار کرکے رپورٹ دی جائے۔عدالت نے کیس کی سماعت دو ہفتوں کیلئے ملتوی کردی ۔

سپریم کورٹ

لاہور(نامہ نگار)چیف جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے سیشن عدالتوں میں 22(اے)اور22(بی )کے تحت دائر کی جانیوالی اندراج مقدمہ کی درخواستوں پر پابندی عائد کردی ،اب سائل کو اندراج مقدمہ کیلئے پہلے ضلعی شکایت سیل سے رجوع کرنا ہوگا ،ضلعی شکایت سیل ایس پی کی سربراہی میں کام کرے گا ،ایس ایچ اومقدمہ درج نہ کرے توایس پی کے پاس جانا ہوگا اگر تب بھی مقدمہ درج نہ ہواتوپھر اندراج مقدمہ کی درخواست کیساتھ ایس پی کے فیصلے کی نقل لگاناہوگی۔عدالت عظمیٰ کے حکم کے بعد سیشن جج لاہور نے 25ہزار سے زائد درخواستیں نمٹا کر ضلعی شکایت سیل کو بھجوا دی ہیں،حکومت کی جانب سے بھی پنجاب کے36 اضلاع میں ضلعی شکایت افسران کی تعیناتی کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیاگیاہے ،ایڈووکیٹ جنرل پنجاب شان گل کا کہنا ہے کہ اب سائلین کے پاس دادرسی کیلئے دو فورم موجود ہیں،اب اندراج مقدمہ کے کیسوں کا عدالتوں سے بوجھ کم ہوجائے گااور جوڈیشل پالیسی سازکمیٹی اور حکومت پنجاب کے فیصلے سے عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ کم ہوگا۔اس فیصلے کے بعد سائلین کا کہناتھا کہ پولیس پہلے ہی انہیں پریشان کرتی تھی تو وہ دادرسی کیلئے سیشن کورٹ آتے تھے،اب وہ پھر سے تھانوں میں خوارہوں گے ،دوسری جانب وکلاء نے بھی اس عدالتی فیصلے پر تشویش کا اظہارکیاہے ،فرہاد علی شاہ ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ نیشنل جوڈیشل پالیسی کمیٹی کے فیصلے پرنظر ثانی کی ضرورت ہے۔

ضلعی شکایت سیل

مزید : صفحہ اول