منی لانڈرنگ کی روک تھام کیلئے متعلقہ ادارے اقدامات تیز کریں: وزیر اعظم

منی لانڈرنگ کی روک تھام کیلئے متعلقہ ادارے اقدامات تیز کریں: وزیر اعظم

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ منی لانڈرنگ سے معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا، روک تھام یقینی بنائیں گے، متعلقہ ادارے اقدامات تیز کر دیں۔وزیراعظم عمران خان کے زیر صدارت منی لانڈرنگ کی روک تھام سے متعلق اجلاس میں وزیر خزانہ اسد عمر، وزیر قانون فروغ نسیم، وزیر اطلاعات فواد چودھری اور وزیر مملکت داخلہ شہریار آفریدی، ندیم افضل چن، افتخار درانی اور یوسف بیگ مرزا نے شرکت کی۔اجلاس میں ایف آئی اے، ایف بی آر، سٹیٹ بینک اور نادرا حکام نے وزیراعظم عمران خان کو منی لانڈرنگ کی روک تھام کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات اور وزیر قانون فروغ نسیم نے منی لانڈرنگ قوانین میں مجوزہ ترامیم پر بریفنگ دی۔ وزیراعظم نے اس موقع پر منی لانڈرنگ روکنے کیلئے اقدامات میں تیزی لانے کی ہدایت کی۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ منی لانڈرنگ روکنے کیلئے تمام متعلقہ ادارے اپنے درمیان روابط بہتر بنائیں۔علاوہ ازیں دو روزہ سرمایہ کاری کانفرنس میں 25 ممالک سے شریک مندوبین نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ نیا پاکستان پرْامن اور ابھرتے سماجی و معاشی مواقعوں سے بھرپور پاکستان ہے۔ عمران خان نے کہا کہ آج کا پاکستان یکسر تبدیل ہو چکا ہے اور نیا پاکستان پرْامن اور ابھرتے سماجی و معاشی مواقعوں سے بھرپور ہے۔انہوں نے کہا کہ معروف بین الاقوامی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں اور یہ حکومت کی سرمایہ کار دوست پالیسیوں اور سہولیات میں بہتری کا مظہر ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ حکومت سرمایہ کاروں اور تاجروں کے لیے منافع بخش کاروبار کے مواقع پر یقین رکھتی ہے کیونکہ کاروباری برادری کے منافع بنانے سے کاروباری عمل میں تیزی آئے گی اور کاروباری سرگرمیوں سے روزگار کے مواقع میسر آئیں گے۔وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد سمٹ کا انعقاد بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے پاکستان پر اعتماد کا مظہر ہے۔دریں اثناء وزیراعظم عمران خان سے پاکستان کی سکھ اور ہندو کمیونٹی کے نمائندوں نے وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی ۔ ملاقات کرنیوالوں میں ڈاکٹر رمیش کمار ، سردار منندر پال سنگھ ، سردار تارا سنگھ اور روی کمار شامل تھے اس موقع پر وفاقی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری ، معاون خصوصی نعیم الحق بھی موجود تھے۔ملاقات کا مقصد وزیراعظم کے اقلیتی برادری ، متروکہ املاک کے حوالے سے ویژن پر سکھ اور ہندو کمیونٹی کے نمائندوں کو مشاورتی عمل میں اعتماد میں لینا تھا۔اس موقع پروزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ اور فلاح و بہبود حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے،اسلام اقلیتوں کی عبادت گاہوں کی حفاظت کی مکمل ضمانت دیتا ہے،متروکہ وقف املاک میں ہونیوالی کرپشن کے فوری خاتمے کیلئے ٹاسک فورس تشکیل دی جارہی ہے جو بورڈ کو ری سٹرکچر کر کے اپنی سفارشات حکومت کو دیگی،متروکہ وقف املاک کے پالیسی معاملات ایک بورڈ آف مینجمنٹ کے سپرد کئے جائینگے جس میں سکھ اور ہندو کمیونٹی کے نمائندے بھی شا مل ہونگے۔سیکرٹری مذہبی امور نے اجلاس کو بریفنگ دی کہ بورڈ کا کام گوردواروں اور مندروں کی دیکھ بھال، اثاثوں کی دیکھ بھال، مذہبی سیاحت کے فروغ، تعلیم ، صحت اور شیلٹر ہومز کے پالیسی امور کی نگرانی ہوگا۔ اس کے علاوہ قبضہ گروپوں سے متروکہ وقف املاک واگزار کروانا بھی بورڈ کا مینڈیٹ ہوگا۔ اس ضمن میں ضروری ترامیم اور لیگل فریم ورک وضع کیا جارہاہے۔سکھ اور ہندوکمیونٹی کے نمائندوں نے وزیراعظم عمران خان کا متروکہ وقف املاک بورڈ اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے اپنا وژن شیئر کرنے اور اقلیتی برادری سے مشاورت کرنے پر وزیراعظم کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ متروکہ وقف املاک بورڈ کی تشکیل نو اور اس کو شفاف بنانے کے حوالے سے جو اقدامات وزیراعظم لے رہے ہیں ان کی ماضی میں نظیر نہیں ملتی۔بعدازاں اقتصادی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر ہادی سلیمان پورنے ملاقات کی، جس میں وزیراعظم عمران خان کو تنظیم کی سرگرمیوں سے آگاہ کیا ۔ سیکرٹری جنرل نے کہاکہ ای سی او علاقائی اقتصادی تنظیم کے طورپر اہم کردارادا کررہی ہے۔ تنظیم کا مقصد علاقائی سماجی رابطوں اورآزادانہ تجارت کا فروغ ہے ۔ سیکرٹری جنرل ای سی او نے وزیراعظم کوتعلیم اور ثقافتی تبادلوں پر تنظیم کے کردار سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ای سی او مختلف شعبوں میں اہم معاہدوں پر عملدرآمد کرارہی ہے ۔ وزیراعظمنے اقتصادی تعاون تنظیم کے کردار کو سراہا۔ وزیراعظم نے سیکرٹری جنرل کو مختلف چیلنجز سے نمٹنے کیلئے حمایت کی یقین دہانی کرائی ۔ وزیراعظم نے کہا کہ توقع ہے کہ ای سی او اورڈاکٹر ہادی سلیمان پور کی قیادت میں اہداف حاصل کرے گی۔

وزیراعظم عمران خان

مزید : صفحہ اول