بلاول بھٹو کی سندھ اسمبلی کے اسیر اسپیکر سے ملاقات، تحریک چلانے کا عندیہ

بلاول بھٹو کی سندھ اسمبلی کے اسیر اسپیکر سے ملاقات، تحریک چلانے کا عندیہ

(تجزیاتی رپورٹ نعیم الدین )پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کی سندھ اسمبلی آمد اور نیب کی زیر حراست اسپیکر آغا سراج درانی سے ملاقات کو سیاسی حلقے انتہائی اہمیت کا قرار دے رہے ہں ۔اس ملاقات کے بعد چیئرمین پیپلزپارٹی نے میڈیا سے بات چیت بھی کی اور نیب کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ۔انہوں نے اسپیکر سندھ اسمبلی کی گرفتاری کو سیاسی انجینئرنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمارا ٹرائل ہمیشہ راوالپنڈی میں ہی کیوں ہوتا ہے یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ۔بلاول بھٹو نے حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی کے خلاف سیاسی انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا تو وہ سڑکوں پر آجائے گی ۔سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ نیب کا گھیرا سیاستدانوں کے گرد تنگ ہوتاجارہا ہے اس لیے سیاسی رہنما بھی اپنے تمام داؤ پیچ آزمارہے ہیں ۔بلاول کی گزشتہ روز وزیر سابق وزیراعظم نواز شریف سے جیل میں ملاقات بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ بلاول بھٹو زرداری نے اپنے سیاسی کیریئر میں پہلی مرتبہ کراچی کے صحافیوں سے اتنی طویل گفتگو کی ہے ۔چیئرمین پیپلزپارٹی کا لہجہ انتہائی سخت تھا اور وہ اعتماد کے ساتھ صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیتے رہے ۔انہوں نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے جن تین وفاقی وزراء پر کالعدم تنظیموں سے رابطوں کا الزام لگایا ہے ان کے بارے میں پیپلزپارٹی کے حلقوں کا کہنا ہے کہ چیئرمین کا اشارہ شیخ رشید ،شہریار آفریدی اور اسد عمر کی طرف تھا ۔بلاول نے صحافیوں کے سامنے یہ دعویٰ بھی کیا کہ سندھ کے اسپتال ملک بھر کے اسپتالوں سے بہتر ہے ۔اگر ایسا ہی تو پھر بلاول بھٹو زرداری کو نواز شریف سے ملاقات کے دوران ان کو سندھ کے کسی اسپتال میں علاج کرانے کی دعوت دینی چاہیے تھی ۔پیپلزپارٹی کے چیئرمین نے ایک مرتبہ پھر اٹھارہویں ترمیم کے حوالے سے گفتگو کی اور کہا کہ اس کے خلاف کوئی سازش کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی ۔سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی کا اٹھارہویں ترمیم کے حوالے سے شور محض ایک سیاسی حربہ ہے کیونکہ تحریک انصاف کو قومی اسمبلی میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ سادہ اکثریت حاصل ہے جبکہ سینیٹ میں بھی پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن)کے ارکان کی تعداد تحریک انصاف سے زیادہ ہے ۔ایسی صورت میں جب کسی آئینی ترمیم کے لیے ایوان میں دوتہائی اکثریت کی ضرورت ہے تحریک انصاف کس طرح اٹھارہویں ترمیم کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرسکتی ہے ۔

مزید : صفحہ اول