حب ڈیم کے قریب سے گلا کٹی اور تشدد زدہ نعشیں ملنے کا معمہ حل

حب ڈیم کے قریب سے گلا کٹی اور تشدد زدہ نعشیں ملنے کا معمہ حل

کراچی(کرائم رپورٹر)حب ڈیم کے قریب سے گلا کٹی اور تشدد زدہ نعشیں ملنے کا معمہ حل ہوگیا۔ پولیس نے غیرت کے نام پر بیٹی اور داماد کو قتل کرنے والے ملزم باپ کو گرفتار کرکے آلہ قتل، خون آلود کپڑے اورپستول برآمد کرلیاہے۔کراچی کے علاقے سرجانی ٹاون سے 20 فروری کو نصیب زر خان اور عائشہ بی بی کی لاشیں ملیں تھیں جنہیں گلا کاٹ کر قتل کیا گیا تھا۔دونوں نے تقریبا 8 ماہ پہلے گھر سے بھاگ کر شادی کی تھی، پولیس نے تحقیقات کے بعد لڑکی کے باپ واجد کو قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ایس ایس پی ویسٹ نے اس ضمن میں ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ پولیس نے تفتیش کے بعد قتل کیے جانے والے نصیب اور عائشہ کے قاتل باپ کو گرفتار کرلیا ہے۔ ملزم نے اپنے چار ساتھیوں کے ساتھ مل کر قتل کی واردات کی۔ایس ایس پی کے مطابق ملزم واجد نے دونوں کو پسند کی شادی کرنے پر قتل کیا۔ ملزم نے پولیس کو دیئے گئے ابتدائی بیان میں تسلیم کیا کہ اس نے چار ساتھیوں کے ساتھ مل کر قتل کیاہے۔پولیس کے مطابق قتل میں ملوث دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں اورجلد انہیں بھی گرفتار کرلیا جائے گا۔ذرائع نے بتایا کہ لڑکی اور لڑکے کے فرار کے بعد مبینہ طور پر لڑکی کے گھر والوں نے جرگہ بلایا تھا جس میں دونوں کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا، تاہم پولیس کا موقف ہے کہ کسی جرگے کا ثبوت نہیں ملا۔لاشیں ملنے کے واقعے کے بعد لڑکی کے گھر والے فرار ہو گئے تھے جبکہ لڑکے کی لاش اس کے گھر والوں نے وصول کی تھی۔دہرے قتل کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف قتل اور کاروکاری کی دفعات کے تحت درج کیا گیا تھا۔ نعشیں ملنے کے دو دن بعد سرکاری کی مدعیت میں قتل کا مقدمہ درج کیا تھا۔ تشدد زدہ اور گلا کٹی نعشوں کی شناخت ہوگئی تھی۔لڑکے کی نعش کی شناخت نصیب زر خان کے نام سے ہوئی تھی۔ مقتول کے ورثا نے سرد خانے سے نعش وصول کی تھی۔پولیس نے بتایا تھا کہ مقتول نصیب زر خان اورنگی ٹاؤن مومن آباد کا رہائشی تھا جب کہ اس کا آبائی تعلق خیبر پختونخوا کے علاقے کالا ڈھاکہ سے تھا۔مقتول نوجوان گزشتہ سال جولائی میں گھر والوں سے جھگڑا کر کے چلا گیا تھا جس کے بعد اس نے صرف ایک بار اپنے گھر والوں سے رابطہ قائم کیا تھا۔پولیس ذرائع نے بتایا تھا کہ مقتول نصیب کے گھر چھوڑ کر چلے جانے کے چند روز بعد سے محلے کی ایک لڑکی بھی لا پتہ ہوگئی تھی۔ جس کا نام بی بی معلوم ہوا تھا۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر