جب بھی وطن نے پکارا تو ہمارا لہو حاضر ہے

جب بھی وطن نے پکارا تو ہمارا لہو حاضر ہے
جب بھی وطن نے پکارا تو ہمارا لہو حاضر ہے

  

ہمارے دوست کہتے ہیں کہ جماعتہ الدعوہ پر پہلی بار نہیں چوتھی بار پابندی لگائی گئی ہے، اسی طرح اس کی فلاحی تنظیم فلاح انسانیت فاؤنڈیشن بھی چوتھی بار پابندی کی زد میں آئی ہے۔ اصل میں ان دونوں تنظیموں پر پابندی کی بنیادی وجہ ان کے قائد حافظ محمد سعید ہیں جو کسی زمانے میں مشہور جہادی تنظیم لشکر طیبہ کے سربراہ تھے۔ جب پاکستان میں جہادی تنظیموں پر پابندی لگی تو حافظ محمد سعید نے مذہبی تنظیم جماعتہ الدعوہ قائم کرلی جس کا بنیادی منشور اسلام کی دعوت اور تبلیغ ہے، جب کہ لشکر طیبہ کا تنظیمی ڈھانچہ مقبوضہ کشمیر منتقل ہوگیا جہاں وہ دوسری زیر زمین جہادی تنظیموں کے ساتھ مل کر قابض بھارتی فوجوں کے خلاف مزاحمت کررہی ہے اور اس کا واحد مقصد مقبوضہ کشمیر کو بھارتی قبضے سے آزاد کرانا ہے۔

لشکر طیبہ کا تعلق اب حافظ سعید سے نہیں ہے لیکن بھارت عالمی طاقتوں اور بین الاقوامی رائے عامہ کو یہ باور کراتا رہتا ہے کہ لشکر طیبہ کے ماسٹر مائنڈ حافظ سعید ہی ہیں اور وہ پاکستان میں بیٹھ کر لشکر طیبہ کی کمان کررہے ہیں اور اس طرح مقبوضہ کشمیر میں دہشت گردی کے مرتکب ہورہے ہیں۔ حافظ صاحب پر دہشت گردی کی یہ وہ چھاپ ہے جسے بھارتی پروپیگنڈے کے زیر اثر امریکا بھی قبول کررہا ہے، یورپ بھی قبول کررہا ہے، اور عالمی ادارے بھی قبول کررہے ہیں۔ ایف اے ٹی ایف (فنانشل ایکشن ٹاسک فورس) بھی ایک عالمی ادارہ ہے جو دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے اور ان کی کڑی نگرانی کے لیے قائم کیا گیا ہے۔

پاکستان اس کی گرے لسٹ پر ہے اور اسے شبہ ہے کہ پاکستان سے دہشت گردوں کی مالی معاونت ہورہی ہے۔ اس شبہ میں ایف اے ٹی ایف کی نظر حافظ سعید پر بھی پڑی ہے جن کے بارے میں بھارت نے اس عالمی تنظیم کو باور کرا رکھا ہے کہ وہ دہشت گردوں کے سرپرست ہیں اور پاکستان میں بیٹھ کر مقبوضہ کشمیر میں دہشت گردوں کی مالی معاونت کررہے ہیں۔ چنانچہ ان پر اور ان کی تنظیموں پر بھی پابندی لگائی جائے تا کہ یہ یقین کیا جاسکے کہ پاکستان دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے میں مخلص ہے۔ جب پلوامہ میں بھارتی فوج پر حملہ ہوا تو ایف اے ٹی ایف کی ٹیم پاکستان میں موجود تھی اور اس موضوع پر مذاکرات کررہی تھی اس ٹیم کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان میں حافظ سعید کی تنظیموں پر پابندی نہیں لگائی جاتی تو اس کے بلیک لسٹ میں جانے کا امکان برقرار رہے گا اور یہ فیصلہ کسی وقت بھی ہوسکتا ہے۔

چنانچہ اعلیٰ ترین سطح پر صورت حال کا جائزہ لینے کے بعد جماعتہ الدعوہ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن پر پابندی کی کارروائی کرنا پڑی۔جماعتہ الدعوہ والے کہتے ہیں کہ ہم پر جب بھی پابندی لگی ہے ہم نے اسے عدالت میں چیلنج کیا ہے اور حکومت سے کہا ہے کہ اگر ہمارے خلاف کسی قسم کی دہشت گردی، فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے یا قانون کی خلاف ورزی کا کوئی الزام ہے تو عدالت میں پیش کیا جائے، ہم سزا بھگتنے کو تیار ہیں۔ عدالت نے بھی ہمارے خلاف شواہد طلب کیے لیکن حکام ہمارے خلاف کوئی بھی الزام ثابت کرنے سے قاصر رہے۔ عدالتیں تو شواہد کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہیں، ملزم بے قصور ہو تو اسے سزا دینا خود قانون کی خلاف ورزی ہے۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ عدالت نے ہمیشہ ہمیں ریلیف دیا ہے اور جماعتہ الدعوہ پر پابندی کالعدم قرار دی ہے۔

رہی فلاح انسانیت فاؤنڈیشن تو وہ بلا امتیاز پاکستانیوں کی خدمت کررہی ہے۔ تھر میں وہ غریب ہندوؤں کی خدمت میں پیش پیش ہے اس نے موسم سرما میں ان کے اندر ونٹر پیکیج تقسیم کیا ہے، اگر اس پر پابندی کے خلاف عدالت سے رجوع کیا جائے تو عدالت اس پابندی کو ختم کرنے میں ذرا سی بھی تاخیر نہ کرے گی۔ جماعتہ الدعوہ کے رہنما کہتے ہیں کہ اب کی دفعہ بھی ہم عدالت سے رجوع کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں البتہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ یہ اس عالمی تنظیم کا مطالبہ ہے جو پاکستان کو بلیک لسٹ کرکے اس پر اقتصادی پابندیاں لگانا چاہتی ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ پاکستان ایسی کسی مشکل سے دوچار ہو۔ پاکستان ہی ہمارا خواب اور ہماری منزل ہے اس کے لیے ہم اپنی جان بھی قربان کرسکتے ہیں اور ماضی میں کرتے بھی رہے ہیں۔ اب بھی وطن نے پکارا تو ہمارا لہو حاضر ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ جماعتہ الدعووہ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن سے کسی کو کیا خطرہ ہوسکتا ہے۔ یہ دونوں تنظیمیں تو خود دہشت گردی کے خلاف ہیں لیکن اس تعصب کا کیا کیا جائے جو عالمی سطح پر اسلامی تنظیموں کے خلاف پھیلا ہوا ہے اور پاکستان میں ابھی تک کوئی ایسی مضبوط اور غیرت مند حکومت نہیں آئی جو معترضین کو ٹھونک کر جواب دے سکے اور اہل وطن کی حمایت میں ڈٹ کر کھڑی ہوجائے۔ حکومت عالمی اداروں کے مطالبے کے آگے بھیگی بلی بن جاتی ہے۔ جماعتہ الدعوہ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے معاملے میں بھی یہی ہوا ہے۔ یہ لوگ حکومت کی اس کمزوری کو سمجھتے ہیں اس لیے انہوں نے چپ سادھ لی ہے، ان کی وفاداری حکومت سے نہیں، پاکستان سے ہے۔ یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان پر کوئی آنچ نہ آنے پائے، ان کی خیر ہے، یہ کہتے ہیں کہ ہم کسی شناخت کے بغیر اپنا کام کرتے رہیں گے کہ پاکستان کی خدمت ہی ہمارا نصب العین ہے، مبارک ہیں یہ لوگ ہمیں ان کی قدر کرنی چاہیے۔

مزید : رائے /کالم