تعلیمی اداروں میں قبیح رسم ۔۔۔۔’’ہولی‘‘

تعلیمی اداروں میں قبیح رسم ۔۔۔۔’’ہولی‘‘

ملک بھر کے بڑے نجی تعلیمی اداروں میں بالعموم اور چھوٹے اداروں میں بالخصوص بھارتی کلچر تیزی سے سرایت کر رہا ہے انڈین فلموں اور ڈراموں کے اثرات نے ہماری نوجوان نسل اور مستقبل کے معماروں کو گھیرے میں لے لیا ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے تعلیمی اداروں میں اخلاقی قدروں نے تیزی سے دم توڑنا شروع کر دیا ہے۔ طلبہ طالبات ذہنی پستی کے مضر اثرات کا شکار ہو رہے ہیں۔

نجی تعلیمی ادارے جو پہلے ہی مدر پدر آزاد ہیں۔ ان پر مرکز سمیت صوبوں میں کوئی کنٹرولنگ اور مانیٹرنگ اتھارٹی نہیں ہے۔ محکمہ تعلیم کے ڈھیلے ڈھالے نظام میں نجی تعلیمی ادارے اپنے اپنے نصاب تعلیم کے ساتھ معاشرے میں اثر انداز ہو رہے ہیں اسی طرح قوائد ضوابط بھی بڑے چھوٹے اداروں نے اپنے قائم کر رکھے ہیں۔

غیر نصابی سرگرمیوں میں ہمارے سرکاری اور غیر سرکاری ادارے خاص پہچان رکھتے تھے۔ کھیل، تقریری مقابلے ، مباحثے ، مضامین کے مقابلے، اسلامی کلچر پر مبنی ڈرامے ،تعلیمی اداروں کی شان ہوتے تھے۔ صبح کی اسمبلی تلاوت ،درس قرآن ،درس حدیث ،قومی ترانہ ، ملی نغمے، کلام اقبال ،بچے بچیوں کو وطن عزیز سے محبت۔ والدین کے احترام ،بہن بھائیوں سے پیار ، دین اسلام سے آگاہی کا سبق دیتے تھے۔ نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں کا مرکز ہمارے تعلیمی اداروں میں ایک خاص پہچان رکھتے تھے۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں دنیا کے ساتھ دین کا بھی علم ملتا تھا۔ ہمارے ادارے علمی ادبی سرگرمیوں کے مرکز تھے۔ اخلاقی اقدار کی درس گاہیں تھے۔ ہمارے تعلیمی اداروں سے اپنے تربیت یافتہ معمار نکلتے تھے جو تحریر اور تقریر کے ساتھ ساتھ دنیا جہان کے علوم سے واقف ہوتے تھے جس شعبہ میں جاتے تھے وہ انہیں نئی تربیت کی بھی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ سرکاری اداروں کے فارغ التحصیل ہوں یا پرائیویٹ اداروں سے نکلنے والے معمار وہ جہاں بھی جاتے تھے نمایاں مقام پاتے تھے ان کے لئے کوئی مخصوص شعبہ بھی نہیں ہوتا تھا جہاں بھی ذمہ داری ملے وہی جوہر دکھانا شروع کر دیتے تھے اور یہ علم و عمل سے مزین ادارے ہمارے دشمنوں کو ایک آنکھ نہیں بھاتے تھے۔ انہوں نے باقاعدہ منصوبہ بندی سے ہماری نوجوان نسل کو بالعموم اور تعلیمی ادارے کو بالخصوص ہدف کا نشانہ بنانا اور منصوبہ بندی کے ذریعے اہداف کے حصول کے لئے ہندوانہ کلچر کے فروغ کے لئے اپنی فلموں اور ڈراموں کے ذریعے نفوذ شروع کیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ہمارے نوجوان نسل اور تعلیمی ادارے اس کی زد میں آتے چلے گئے۔ تازہ ترین سروے میں ہمارے 80فیصد ادارے انڈین کلچر اور ہندوانہ رسم و رواج خواہ وہ شادی کی تقریبات ہوں یا ہندوؤں کی مذہبی رسومات اس میں بڑی طرح جکڑے جا چکے ہیں۔

بھارتی کلچر نے پہلے فحاشی عریانی کے ذریعے پھر انڈین گانوں کے ذریعے اور اب ہندوؤں کی مذہبی رسم ہولی کے ذریعے ہمارے نوجوان نسل کو بالعموم اور تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم بچے بچیوں کو بالخصوص اپنی زد میں لے لیا ہے۔ مادر پدر آزاد نجی تعلیمی اداروں نے ان رسومات کی حوصلہ شکنی کرنے کی بجائے ان خاص مواقع پر ہونے والے پروگرامات وہ ہولی کے پروگرام ہوں، آگ جلانے کے پروگرام ہوں، میوزیکل شو ہوں ان کو کمائی کا ذریعہ بھی بنا لیا ہے۔

ہولی کی رسم میں رنگ پھینکنے ایک دوسرے پر غبارے مارنے اور دیگر بیہودہ انداز تعلیمی اداروں سے ہمارے گھروں میں یلغار کر رہے ہیں۔ پہلے پہل بڑے نجی اداروں میں یہ پروگرام دن کی روشنی اور رات کے اندھیروں میں دھڑلے سے جاری ہیں المیہ یہ ہے ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔

اسلامی شعار سے سرشار والدین کی بچی اور بچہ جب شام کو نیلے، پیلے اور سرخ رنگ سے اپنی یونیفارم خراب کرکے آتا ہے تو والدہ کی آنکھوں میں آنسو ہوتے ہیں اور جب والد کو پتہ چلتا ہے اس کی نیندیں بھی اڑ جاتی ہیں۔ ان پروگرامات کو بچے بچیوں کا ایک ساتھ کرنے کا خوف بھی اب جاتا رہا ہے والدین خاموش احتجاج کررہے ہیں۔ اللہ سے دعا کے ساتھ حکام بالا کی توجہ اس طرف مبذول کروانے کے لئے سراپا احتجاج ہیں۔ والدین کا احترام ان رسومات کی وجہ سے ہوا ہو رہا ہے۔ اساتذہ کی قدر دم توڑ رہی ہے۔ نئے پاکستان میں وزیراعظم عمران خان کی توجہ بھی اس طرف کبھی ہوگی یا خاتون اول کو والدین اس بڑھتے ہوئے ناسور کو روکنے کے لئے متوجہ کر سکیں گے۔

***

مزید : ایڈیشن 1