پولیس تھانہ میں تشدد کے الزامات من گھڑت ہیں،شاہ خالد

پولیس تھانہ میں تشدد کے الزامات من گھڑت ہیں،شاہ خالد

  



شیرگڑھ (نا مہ نگار)ممتاز سماجی وسیاسی کارکن شاہ خالد خان کے ہمراہ تحصیل تخت بھائی کے سابق نائب ناظم جاوید اقبال،انجمن دکانداران شیرگڑھ کے صدر ارشاد عزیز،جنرل سیکرٹری حاجی بخت زادہ،ویلیج کونسل کے سابق نائب ناظم شمشاد خان،عوامی نیشنل پارٹی کے جاوید گل،نصیر مہمند،تاجر برادری اور مختلف جماعتوں کے درجنوں مقامی نمائندوں نے شیرگڑھ پریس کلب میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس کے دوران ایس ایچ او شیرگڑھ سب انسپکٹر داؤد خان پر لگائے گئے الزامات اور دفعہ107میں پولیس تھانہ میں 3دن تک رکھنے اور ان پر تشدد کے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ 7مارچ کو دوفریقین آئی ہسپتال کے تنازع پر ایک دوسرے کے خلاف پولیس تھانہ شیرگڑھ میں پرچہ درج کروایا پولیس نے فریقین کو گرفتار کرکے ان سے دفعہ 107میں ضمانت لے لیا بعد میں حافظ صاحب داد اور ان کے ساتھیوں نے ایک من گھڑت ڈرامہ رچاکر سوشل میڈیا پردفعہ 107میں گرفتار اپنے ساتھی کی تصویر کو وائرل کرکے الزام لگایا کہ ایس ایچ او شیرگڑھ داؤد خان نے مذکورہ ملزم کو تین دن تک پولیس تھانہ میں رکھ کر ان پر زبردست تشدد کیا اور پھر ایم ایم سی کے ایک جونیئرڈاکٹرصفی اللہ کے ذریعے سے ایک جھوٹا اور من گھڑت گریوئس میڈیکل رپورٹ بنایا انہوں نے کہاکہ ایس ایچ او شیرگڑھ نے ضابطے کے مطابق فریقین کو دفعہ 107میں چالان کرکے عدالت میں پیش کیا کسی کو ان ملزمان میں سے تین روز تک حبس بے جا میں نہیں رکھا اور نہ حافظ صاحب داد کے ساتھی ولی رحمان پر پولیس نے کوئی تشدد کیاہے تشدد کی سوشل میڈیا پر وائرل تصویر اور میڈیکل رپورٹ من گھڑت اور بے بنیاد افسانہ ہے انہوں نے پولیس کے اعلیٰ افسران،ڈپٹی کمشنر مردان نے اس پورے واقعہ اور بنائے گئے من گھڑت افسانے کی غیر جانبدارانہ انکوائری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ ایس ایچ او شیرگڑھ داؤد خان ایک مہذب،تعلیم یافتہ اور ایماندار پولیس افیسر ہے اور پولیس تھانہ شیرگڑھ کے جملہ چوکیات کے انچارجوں سمیت شیرگڑھ پولیس کا عوام کے ساتھ برتاؤ قابل ستائش ہے انہوں نے ڈی پی او مردان سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ ایس ایچ او شیرگڑھ داؤد خان کو حسن اخلاق کا ایوارڈ دے کر علاقہ کے باشندوں کی خواہش کی تکمیل کریں پریس کانفرنس کے تمام شرکاء نے بار بار ہاتھ اٹھاکر ایس ایچ اوداؤدخان کو خراج تحسین پیش کیا اور ان کے اچھے اخلاق اور کردار کو خوب سراہا

مزید : ملتان صفحہ آخر