”سیاسی کرونا“ بھی پھیلنے لگا؟

”سیاسی کرونا“ بھی پھیلنے لگا؟
”سیاسی کرونا“ بھی پھیلنے لگا؟

  



چین سے شروع ہونے والی ”کرونا وائرس“ وباء نے پوری دُنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ پاکستان میں حالات میں تبدیلی دیر بعد ہوئی، جب اِکا دُکا لوگوں میں وائرس کی تصدیق ہوئی، یہ سب باہر سے آئے،جب تک تعداد پانچ سے سات تک رہی فکر بھی اسی قدر تھی، اب یہ بڑھ کر20 تک ہی پہنچی تو پریشانی لاحق ہو گئی ہے اور اب صوبوں سے وفاق تک نے بھی سوچ و بچار کا آغاز کر دیا، سندھ میں حوصلہ کا مظاہرہ تو کیا گیا،لیکن کب تک اب وہاں بھی کرکٹ میچ تماشائیوں کے بغیر کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے،پی ایس ایل کو ملتوی نہیں کیاگیا، بعض بیرونی ممالک کی طرح میچ خالی سٹیڈیم میں کرائے جائیں گے۔بہرحال ہنگامی حالات تو خودبخود ہو گئے،پنجاب میں جہاں کوئی مریض ثابت نہیں ہوا، ہنگامی حالات نافذ کر دیئے گئے اور انہی کے مطابق بھی عملے اور ہسپتالوں کا اہتمام کیا جائے گا،سندھ میں تو تعلیمی ادارے طویل مدت (30مئی) تک بند کر دیئے گئے اور بلوچستان والوں نے اسے31مارچ تک محدود کیا ہے، اس طرح بچاؤ کی تدابیر اختیار کی جا رہی ہیں، بلوچستان اور سندھ میں تو ایران سے آنے والے حضرات کے ذریعے وائرس پھیلنے کے خطرات کا تدارک کیا گیا۔اگرچہ تفتان کی سرحد پر سکریننگ اور قرنطینہ کے انتظامات کئے گئے تاہم یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کچھ لوگ دوسرے راستے سے خفیہ طور پر سرحد پار کر آئے ہیں، ایسے لوگوں کی تلاش جاری ہے، تاہم قوم توقع کرتی ہے کہ وہ سب رضا کارانہ طور پر سکریننگ کرا لیں گے کہ یہ خود ان کے اور ان کے خاندانوں کے لئے بھی بہتر ہے۔

دوسری طرف دُنیا میں اب ایک نئی بحث بھی شروع ہونے والی ہے۔ اگرچہ چین یا امریکہ کی طرف سے واضح الزام نہیں لگایا گیا، تاہم چینی ذرائع نے یہ شبہ ظاہر کر دیا کہ یہ وائرس امریکی فوجیوں کے ذریعے منتقل ہوا ہے۔یہ اپنی نوعیت کا الگ سا جرثومہ ہے کہ نمونیہ سے بڑھ کر بیک وقت تین چار امراض پیدا کر دیتا ہے اور جراثیم سے متاثر ہونے والے کا جب تک علم ہوتا ہے، پھیپھڑے پچاس فیصد تک متاثر ہو چکے ہوتے ہیں۔چین میں جہاں پھیلاؤ کی رفتار تیز بھی، وہاں اب صحت یابی بھی تیز ہوتی چلی جا رہی ہے۔اموات کم ہو گئیں، متاثرین بھی تھوڑے ہو رہے ہیں اور صحت یاب زیادہ ہونے لگے ہیں، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ چین والوں نے نزلہ، زکام، بخار اور پھیپھڑوں کے انفیکشن کی ادویات ہی سے طریقہ علاج دریافت کر لیا ہے،اس کے باوجود اب ضرورت اس کے لئے ویکسین کی ہو گی اور امریکی صدر ٹرمپ کو اس ملک کی فارما سیوٹیکل کمپنیوں نے اس کے لئے ڈیڑھ سال کی مدت مانگی اورتعین کیا ہے، تب تک کیا صورتِ حال ہو گی، اللہ جانے، ایک طرفہ یہ صورتِ حال ہے تو دوسری طرف روایت کے مطابق ہر روز ایک نیا علاج سامنے آنے لگا ہے۔ ہومیو پیتھک سے یونانی اور طب نبویؐ والے میدان میں ہیں، جبکہ ٹوٹکا بازی بھی شروع ہے۔ادھر سوشل میڈیا پر ایک نیا رجحان بھی سامنے آیا ہے۔

یہ حضرات سوال اُٹھا رہے ہیں کہ کرونا سے تو اموات چار ہزار کے قریب ہوئی ہیں۔ یہ ممالک بتائیں کہ کینسر، تپ دق اور ایسی دوسری مہلک بیماریوں سے دُنیا میں سالانہ کتنی اموات ہوتی ہیں اِن امراض کے حوالے سے اتنا ہنگامہ کیوں نہیں ہوتا، جتنا ”کرونا“ کے باعث ہو رہا ہے؟حالانکہ جن امراض کا ذکر ہے وہ وبائی نہیں، حتیٰ کہ سب متعددی بھی نہیں ہیں اور ان کے علاج بھی ہو رہے ہیں۔یہ تو وبائی صورت ہے سنا تھا کہ ایک بار برصغیر میں ہیضہ پھوٹا، جب حالات یہ تھے کہ دو مریض قبر میں اتار کے واپسی ہوتی تو مزید اموات ہوچکی ہوتیں، حتیٰ کہ ایک ایک محلہ سے چالیس چایس جنازے بھی اُٹھائے گئے تھے، وہ بلا بھی ٹل ہی گئی تھی، انشاء اللہ یہ بھی ٹل جائے گی،لیکن دِل یہی مانتا ہے کہ یہ خود انسانوں ہی کا کیا دھرا ہے؟ اس سے پہلے ڈینگی اور اس سے بھی پہلے ایڈز کے پھیلاؤ کا ذریعہ بھی انسان ہی تھے۔ ایڈز بھی تجربے کے لئے پھیلائی گئی،بخار بھی مچھروں پر تجربات کی وجہ سے پھیلا تھا۔ یوں اب اگر چین کی طرف سے شبہ ظاہر کیا گیا تو یہ ایک نئی بحث ہو گی کہ کیا یہ ”جراثیمی جنگ“ کے لئے تجربہ ہے؟

یہ سب اپنی جگہ، ہمیں تو آج اپنے ملک کی سیاست ہی کے حوالے سے عرض کرنا تھا کہ کرونا کی نئی صورتِ حال سامنے آ گئی، تاہم اگر غور کیا جائے تو ہماری سیاست تو عرصہ سے کرونا ہو چکی اور اس پر بھی وائرس کا اثر ہے۔یہ بھی کرونا ہی طرح چھپا رہا اور اب اچانک چند اراکین پنجاب اسمبلی کی طرف سے وزیراعلیٰ پنجاب سے ملاقات اور ان کی حمایت پر ظاہر ہو گیا، جبکہ اس کے اثرات مسلم لیگ(ن) کی پارلیمانی پارٹی پر بھی ظاہر ہونے لگے، چنانچہ اول تو اجلاس کی حاضری پوری نہیں تھی، اس کے بعد ابتدا ہی خواجہ آصف پر تنقید سے ہوئی اور ان کو وضاحت کرنا پڑی، اس سے یوں ظاہر ہوا کہ جس قیادت کا انہوں نے ذکر کیا وہ چھوٹے بھائی تک محدود تھی اور یہاں تاثر پھیلا کہ شاید بڑے بھائی والا بیانیہ ترک کر دیا گیا ہے،حالانکہ خواجہ آصف لندن گئے تو ان کی ملاقاتیں سابق وزیراعظم محمد نواز شریف سے بھی ہوئی تھیں،لیکن ان کی طرف سے واپسی پر جس رویے کا اظہار کیا گیا اسی نے شکوک پیدا کئے، چنانچہ اعتراض بھی اسی بناء پر ہوئے، اور اس اجلاس کی کارروائی کو مسلم لیگ(ن) میں تقسیم قرار دیا جانے لگا۔اگرچہ خاقان عباسی اور احسن اقبال نے اسے جمہوری روایت اور اختلاف رائے قرار دیا، تاہم اس ”کرونا“ کا علاج گذشتہ روز کا اجلاس بُلا کر کیاگیا، اس میں خواجہ آصف تو نہیں تھے تاہم مریم نواز لاہور سے چل کر پہنچیں اور طویل مدت کے بعد میڈیا سے بھی بات کی۔ پارلیمانی پارٹی کے اس اجلاس کی صدارت بھی خاقان عباسی نے کی۔ مریم نواز نے بات کرتے ہوئے گھن گرج کی بجائے دھیما اور مضبوط لہجہ اختیار کیا اور دہرایا کہ بیانیہ نواز شریف کا چلے گا ”ووٹ کو عزت دو“ اور نہ صرف مسلم لیگ(ن) پھر برسر اقتدار آئے گی،بلکہ محمد نواز شریف واپس آ کر (اللہ ان کو مکمل صحت دے) قیادت کریں گے یوں خاقان عباسی اور احسن اقبال نے ”سیاسی کرونا“ کا تریاق دریافت کر لیا۔

دوسری طرف پیپلزپارٹی بھی تشویش میں مبتلا ہوئی کہ ان کے ایک رکن تو متاثر ہوئے۔ اگرچہ اس کے سوا افراتفری نہ ہوئی، تاہم مرکزی پنجاب اور مرکزی قیادت نے تحریک کے پہلے مرحلے کا جو پروگرام بنایا اور بتایا تھا اس پر تو عمل شروع نہیں ہوا، آج جب یہ سطور لکھی جا رہی ہیں،13مارچ ہے اور بلاول بھٹو زرداری کا دورہ شروع نہیں ہوا، جو 10مارچ سے ہونا تھا، اور پہلے مرحلے میں اوکاڑہ، پاکپتن اور ساہیوال کے جیالوں کو جگانا تھا، لیکن بلاول اسلام آباد پائے گئے جہاں ان کے ساتھ احسن اقبال اور شاہد خاقان عباسی نے ملاقات بھی کی، اور یہ خبر سامنے آئی کہ بلاول نے بھی مطالبہ کر دیا کہ قائد حزبِ اختلاف محمد شہباز شریف واپس آ کر قومی اسمبلی اور سیاست میں اپنا کردار ادا کریں۔ یوں یہ وائرس اب پھیل رہا ہے اور ہم اسے ”سیاسی کرونا“ کہنے پر مجبور ہیں۔

مزید : رائے /کالم