کرونا وائرس اور پاکستانی طبی کھیپ

کرونا وائرس اور پاکستانی طبی کھیپ

  



چین کے صوبہ ووہان سے شروع ہونے والا خطرناک وائرس اب چین کے علاوہ دُنیا بھر میں تباہ کاریاں پھیلا رہا ہے۔اس موذی مرض کے دُنیا بھر میں وار جاری ہونے کے باوجود یہ بات اب تک معمہ ہے کہ مہلک کرونا وائرس جانوروں سے انسانوں میں کیسے پہنچا،مگر یہ وبائی مرض ایک انسان سے دوسرے انسان میں اتنی تیزی سے منتقل ہو رہاہے کہ اب تک ایک سو نو ممالک میں پھیل چکا ہے اور79 ہزار افراد میں سے ڈھائی ہزار سے زائد لقمہ ئ اجل بن چکے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں جن وائرسوں کا پتہ چلا وہ سب جنگلی حیات سے انسانوں میں منتقل ہوئے تھے چاہے وہ امپولا ہو یا سارس اور اب کرونا وائرس…… چین کے بعد اٹلی اور ایران میں کرونا وائرس کے سب سے زیادہ کیس سامنے آئے، جس کے بعد ہمسایہ ملک پاکستان کو بھی اس نے اپنی لپیٹ میں لے لیا اور پھر وہی ہوا، جس کا ڈر تھا۔26 فروری 2020ء کو وزیر مملکت برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے دو پاکستانیوں میں کرونا وائرس کی تصدیق بھی کر دی،جس میں سے ایک شہر قائد کا22 سالہ رہائشی یحییٰ جعفری ہے جو حال ہی میں تفتان بارڈر کے ذریعے ایران سے پاکستان پہنچا اور آغا خان ہسپتال کراچی میں قرنطینہ میں طبی امداد مہیا کی گئی۔ وہ اب صحت یاب ہو چکا اور دوسرا کیس اسلام آباد میں دیکھا گیا، جس کا تعلق گلگت سے ہے جسے علامات ظاہر ہونے کے بعد پمز ہسپتال اسلام آباد آئسولیشن وارڈ میں منتقل کر دیا گیا اوراب دو روز قبل مزید دو افراد اس وباء کا شکار ہو گئے،جن میں سے ایک سندھ اور دوسرا وفاق سے تعلق رکھتا ہے۔

پاک ایران سرحد پر پاکستان ہاؤس برائے زائرین کو قرنطینہ سینٹر میں تبدیل کر دیا گیا، جس میں سکریننگ کا عمل جاری ہے،مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ باہر سے آنے والے ہر شخص کی سکریننگ کے بعد بھی پاکستان کرونا کے حملے سے کیوں نہ بچ سکا؟اس قرنطینہ سینٹر میں اب تک 800افراد جمع ہو چکے ہیں۔بہت سے زائرین نے بتایا کہ پہلے پہل وطن واپسی کے بعد قرنطینہ میں رکھنا تو دور کی بات، کسی نے ان کا ٹیسٹ کرنے کی بھی ضرورت محسوس نہیں کی۔اس وقت صرف اسلام آباد میں کرونا وائرس کا ٹیسٹ کرنے کی سہولت موجود ہے۔کراچی یا کسی بھی دوسرے شہر میں کرونا وائرس کے شُبے میں خون کا نمونہ لے کراسلام آباد ہی بھیجا جاتا ہے۔ کرونا وائرس سے پاکستانیوں میں خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی ہے،جس کے نتیجے میں سندھ اور بلوچستان کے تعلیمی ادارے13مارچ تک بند رکھنے کا حکم نامی جاری اور سندھ میں ہونے والے امتحانات ملتوی ہو گئے۔(اب یہ تعلیمی ادارے 16مارچ کو کھلیں گے)

مزید پڑھئے، چند روز قبل ڈاکٹر ظفر مرزا اور ان کے معاونِ خصوصی زلفی بخاری چین میں پھنسے طلباء کے اہل ِ خانہ کی تسلی و تشفی کرنے سے قاصر رہے اور ان کے احتجاج پر کمرہئ احتجاج سے بھاگ کھڑے ہوئے، جبکہ چین میں سات پاکستانی طلباء میں کرونا وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔ ہیلتھ منسٹر اور چیف منسٹر عثمان بزدار سے خصوصی گزارش ہے کہ ”بحث برائے بحث“ اور ”گھبرانا نہیں چاہئے“ کی بجائے ذمہ دارانہ تسلی بخش اقدام اٹھائیں، پاکستان میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوتے ہی ملک میں ماسک کے حوالے سے خبریں آنے لگیں کہ میڈیکل سٹورز پر ماسک کا فقدان ہے اور جن کے پاس دستیاب ہیں، وہ مبینہ طور پر اصل قیمت سے زیادہ پر فروخت کر رہے ہیں،یعنی یہ طے ہے ہم نے منافع خوری کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دینا پھر چاہے وہ آٹا ہو، چینی ہو یا اب ماسک۔اب یہاں پر سب سے زیادہ ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔احتیاطی تدابیر اور حفاظتی اقدامات کی اہمیت اپنی جگہ، لیکن ساتھ ہی علاج کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔

عوام سے بھی اپیل ہے کہ وہ ذمہ دار شہری ہونے کا مظاہرہ کریں۔بظاہر بخار اور کھانسی سے شروع ہونے والا یہ جان لیوا مرض انسانی پھیپھڑوں کو متاثرکرتا، سانس لینے میں دشواری کا سبب بھی بنتا ہے اور اگر بیماری شدت اختیار کر جائے تو مریض کو نمونیہ ہو سکتا ہے۔انفیکشن سے علامات ظاہرہونے تک کا عرصہ14دن پر پر محیط ہے۔حکومتی ذمہ داری ہے ماسک مہیا کرنے کے ساتھ عوامی اجتماعات والے مقامات پر سینٹائرز بھی نصب کرے۔ہر مریض کے لئے ڈسپوزیبل آلات کا استعمال یقینی بنایا جائے۔جیسا کہ کرونا وائرس انسانی پھیپھڑوں کو شدید متاثر کرتا ہے تو کوئی ایسی ادویات بنائی جائیں، جن سے قوتِ مدافعت کو بہتر کیا جا سکے۔کسی بھی بیماری سے لڑنے کے لئے بہترین ہتھیار انسان کا مدافعتی نظام ہوتا ہے۔ کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کے مدافعتی نظام کو فعال بنانے کی کوشش کی جائے۔کرونا وائرس کے لئے عالمی سطح پر ویکسین بنانے کی سر توڑ کوششیں جاری و ساری ہیں۔ممکنہ ویکسین کا اب تک صرف چوہوں پر تجربہ کیا گیا ہے اور اس سے مدافعتی نظام میں تحریک ہوتے دیکھی گئی ہے۔گویا امید کی جا سکتی ہے یہ ویکسین وائرس کے خلاف کارگر ثابت ہو سکتی ہے۔

مزید : رائے /کالم