خواتین کے حقوق کی جنگ

خواتین کے حقوق کی جنگ
خواتین کے حقوق کی جنگ

  



8مارچ کو خواتین کے حقوق کے دن کے حوالے سے ملک میں میڈیا پر بڑی زوردار بحث ہوئی۔ ایک چینل پر ماروی سرمد اور خلیل الرحمان قمر کے درمیان ایک ناخوشگوار صورت حال سے اس بحث میں مزید شدت پیدا ہوگئی پھر خواتین کے جلوس پر اسلام آباد میں پتھراؤ کیا گیا،جو سراسر نامناسب حرکت تھی۔ اس دفعہ جماعت اسلامی اور کچھ اور مذہبی جماعتوں نے بھی اس مہم میں اس طرح حصہ لیا کہ انہوں نے بھی پُرامن جلوس نکالے، لیکن ایسا لگتا ہے کہ یہ جلوس خواتین کے حقوق کے لئے نہیں،بلکہ خواتین کے جلوس کا جواب تھے۔ کاش یہ جماعتیں خواتین کے حقوق کے لئے مستقل مزاجی سے جدوجہد کریں۔ بہرحال اس معاملے پر بدمزگی افسوسناک ہے۔ خواتین یا معاشرے کے کسی اور طبقے کے حقوق کی بات کرنے کی ہمارا قانون اور آئین اجازت دیتا ہے، لیکن احتجاج قانون اور تہذیب کے اندر ہونا چاہئے۔

8 مارچ کو عالمی سطح پر خواتین کے حقوق کا دن منایا جاتا ہے، جس کا مقصد خواتین کے حقوق اُجاگر کرنا ہے اور ہر شعبے میں خواتین کے کاز کو آگے بڑھانا ہے۔پاکستان میں بھی ماڈرن طبقے کی نمائندہ خواتین یہ دن زور و شور سے مناتی ہیں، لیکن یہ خواتین جس طرح پریڈ کرتی نظر آتی ہیں،جو ذومعنی نعرے لگاتی ہیں اس سے سوسائٹی میں ایک ردعمل پیدا ہوتا ہے اور اس دفعہ بھی ایسا ہی ہوا ہے۔ جہاں تک حقوق کی بات ہے وہ تو ضرور کرنی چاہئے، تقریروں کے ذریعے، سیمینار زکے ذریعے اور میڈیا پر اپنا نقطہ نظر ضرور بیان کرنا چاہئے۔ ساری مہم کا مقصد تو یہی ہے کہ عام لوگوں میں خواتین کے حقوق کا شعور پیدا کیا جائے، لیکن منفی نعرے لگا کر ایک ردعمل پیدا کرنے کا کیا مقصد ہو سکتا ہے۔ اپنی مہم کو عوام کی سطح پر قابل قبول بنانا ہے یا مقصد کوئی اور ہے۔ یہ بات تو کوئی راز نہیں کہ مغربی ممالک انسانی حقوق کے نام پر ایسی تحریکوں کے لئے این جی اوز کو فنڈز فراہم کرتے ہیں۔ اس صورتحال سے معاشرے کے بہت سے طبقوں میں اس کے خلاف مزاحمت پیدا ہوتی ہے اور یوں کسی حد تک اس جدوجہد کے مقاصد کو نقصان پہنچتا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے ہاں خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے کی بہت گنجائش ہے۔ ہمارے ہاں تعلیم کی کمی ہے، لہٰذا جاہلانہ رسموں کے نام پر خواتین کے ساتھ بڑی زیادتیاں کی جاتی ہیں خصوصاً سندھ کے دیہی علاقوں اور خیبرپختونخوا کے کچھ علاقوں میں خواتین کے حقوق کے معاملات بہت افسوسناک ہیں۔ ونی، سوارا اور کم عمری کی شادیوں کا کوئی قانونی، مذہبی یا اخلاقی جواز نہیں بنتا۔دفتروں میں جنسی ہراسگی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے کچھ سال پہلے اس مسئلے کی اہمیت محسوس کی گئی اور اس مقصد کے لئے محتسب کا تقرر کیا گیا۔ ہمارا معاشرہ بلاشبہ پدر سری ہے اور بچی کی پیدائش ایک ناخوشگوار واقعہ سمجھا جاتا ہے، حالانکہ ہمارے نبی اکرمؐ نے تو کہا تھا کہ بچی کی پیدائش اللہ کی رحمت ہے۔ بہرحال ہمارے ہاں بدقسمتی سے عملی طور پر اللہ اور رسولؐ کے واضح احکامات پر مقامی کلچر کو فوقیت حاصل ہے۔ بہنوں اور بیٹیوں کو جائیداد میں حصہ نہیں دیا جاتا،حالانکہ اس معاملے میں اسلامی احکامات میں قطعاً کوئی ابہام نہیں۔ تحریک کی لیڈر خواتین کو ایسے مطالبات سامنے رکھنے چاہئیں ان معاملات پر کافی قانون سازی بھی ہوئی ہے، لیکن مسئلہ قوانین پر عملدرآمد کا ہے۔ علمائے کرام اس تحریک کے جواب میں اسلام کے احکامات کا ذکر کرتے ہیں بلاشبہہ اسلام نے عورت کو بلند مقام دیا ہے، لیکن ان علماء نے ان احکامات پر عملدرآمد کے لئے کبھی کوئی تحریک نہیں چلائی۔

مرد اور عورت کی برابری کا ایشو کوئی معمولی معاملہ نہیں یہ نہ صرف پاکستان تک محدود ہے۔ مردوں کے مساوی حقوق حاصل کرنے کی عالمی سطح پر جنگ کوئی دو سو سال پر محیط ہے مغربی دنیا میں جب انسانی برابری،آزادی اور جمہوری طرزِ حکومت جیسے اصولوں کو تسلیم کیا گیا تو اُس وقت ساری سکیم میں عورت تقریباً نہ ہونے کے برابر تھی۔ انسانی حقوق کے اعلامیے پر اگست 1789ء میں دستخط ہوئے،جس میں بنیادی انسانی حقوق یعنی آزادی، برابری اور جائیداد وغیرہ کو شامل کیا گیا۔ 1791ء کے فرانسیسی دستور کی بنیاد یہی اعلامیہ تھا۔ جب یہ دستور نافذ ہوا تو ایک ماہ کے اندر فرنچ ایکٹرس اور ڈرامہ نگار Olympe de Gouges نے مردوں اور عورتوں کے حقوق کا اعلامیہ جاری کیا، جس میں کہا گیا تھا کہ عورت آزاد پیدا ہوئی ہے اور حقوق کے معاملے میں مردوں کے برابر ہے۔ عورت کے حقوق میں شادی تحفظ اور جائیداد جیسے سارے حقوق شامل ہیں جو ایک شہری کے حقوق و فرائض ہیں۔

نیوزی لینڈ وہ پہلا ملک تھا،جہاں 1873ء میں قومی انتخابات میں عورتوں کو ووٹ کا حق دیا گیا۔

آسٹریلیا میں یہ حق 1902ء میں دیا گیا۔ کینیڈا نے خواتین کو ووٹ کا حق 1918ء اور امریکہ نے 1920ء میں دیا۔ برطانیہ میں خواتین کو دارالعوام کے انتخابات میں ووٹ کا حق 1918ء میں دیا گیا اور چین میں یہ حق 1947ء میں تسلیم کیا گیا۔ امریکہ میں ایک خاتون Elizbeth Cady Stanton نے نیویارک میں 1948ء میں Seneca Falls کے مقام پر ایک کنونشن میں Declaration of Sentiments پیش کیا۔ ڈیکلریشن میں اس بات پر افسوس کا اظہار کیا گیا کہ مردوں نے شادی، ملازمت اور جائیداد کے معاملات میں خواتین کے حقوق بڑی دیر سے غصب کئے ہوئے ہیں۔ برطانیہ میں 1867ء میں Millicent Faweett کی قیادت میں Movement Suffragette شروع ہوئی 6 سال بعد Ennucline Pankhurst کی قیادت میں اس تحریک میں جان پڑی اور آخر کار 1918ء میں 30 سال سے اوپر خواتین کو ووٹ کا محدود حق دیا گیا، یعنی صرف انہی خواتین کو یہ حق ملا جو پانچ پونڈ سے زیادہ کرایہ ادا کرتی ہوں اور برطانوی یونیورسٹی کی گریجوایٹ ہوں اب تک برطانیہ میں صرف دو خواتین مارگریٹ تھیچر اور تھریسامے وزیراعظم کے عہدے تک پہنچی ہیں۔ امریکہ میں اب تک کوئی خاتون صدر نہیں بن سکی۔

پاکستان میں بھی خواتین کو بااختیار بنانے کی کوششوں کا طویل پس منظر ہے۔ مذہبی اثرات اور جاگیردارانہ معاشرے کے پس منظر میں خواتین کو آگے آنے کے لئے کافی جدوجہد کرنی پڑی ہے اب پاکستان میں خواتین زندگی کے تمام شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دے رہی ہیں۔ابتدائی دور میں محترمہ فاطمہ جناحؒ، رعنا لیاقت علی، سلمیٰ تصدیق حسین، شائستہ اکرام اللہ، بیگم جہاں آرا شاہنواز کا کردار قابل ِ ذکر ہے۔موجودہ دور میں محترمہ بینظیر بھٹو دو دفعہ وزیراعظم بن چکی ہیں۔ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا قومی اسمبلی کی سپیکر رہ چکی ہیں۔ اب سیاست اور سول سروس کے علاوہ تعلیم، میڈیکل اور کئی دوسرے شعبوں میں خواتین نمایاں ہیں۔ پارلیمنٹ میں خواتین کے کوٹے کے حساب سے پاکستان عالمی معیار کے قریب پہنچ چکا ہے۔ سول سروس میں 10 فیصد کوٹہ خواتین کے لئے مخصوص ہے اور فوج میں فائٹر پائلٹ اور جنرل کے عہدوں تک پہنچی ہیں۔سیکنڈری بورڈز کے امتحانات میں پہلی پوزیشنیں لڑکیاں حاصل کر رہی ہیں۔ سرگودھا یونیورسٹی میں لڑکوں کی نسبت لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہے۔

2018ء میں تہمینہ جنجوعہ پاکستان کی سیکرٹری خارجہ رہی ہیں۔ ملیحہ لودھی طویل عرصہ تک امریکہ، برطانیہ اور اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی کرتی رہی ہیں۔حنا ربانی کھر وزیر خارجہ تھیں۔ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا 2016ء میں تین سال تک پنجاب کی وزیر خزانہ تھیں۔ ڈاکٹر شمشاد اختر سٹیٹ بینک کی گورنر رہی ہیں۔ ہر کابینہ میں خواتین کی نمائندگی ہوتی ہے اس وقت بھی زبیدہ جلال، ڈاکٹر فہمیدہ مرزا، شیریں مزاری اور زرتاج گل کابینہ میں شامل ہیں۔ ڈاکٹر ثانیہ نشتر احساس پروگرام کی سربراہی کر رہی ہیں ثانیہ ادریس ابھی وزیراعظم کی خصوصی معاون بنی ہیں۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان وزیراعظم کی معاون خصوصی ہیں۔ سیاست کے علاوہ علم و ادب، صحافت، آرٹ، کھیل اور کئی دوسرے شعبوں میں خواتین نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ فوزیہ سعید، عاصمہ جہانگیر، خاور ممتاز، حنا جیلانی، شہلا ضیاء، فریدہ شہیداور کئی دوسری خواتین نے خواتین کاز کے لئے بڑا کام کیا ہے۔ علم و ادب میں بانو قدسیہ، پروین شاکر، بشریٰ رحمان، فہمیدہ ریاض، حسینہ معین، فاطمہ ثریا بجیا اور کئی دوسری خواتین نے بڑا نام پیدا کیا۔ یہ صورتِ حال بہت حوصلہ افزا ہے تاہم مردوں کے ساتھ برابری کی جدوجہد میں ابھی بہت کچھ کرنا ہو گا۔

مزید : رائے /کالم