کرونا وائرس سے نمٹنے کیلئے مناسب انتظامات نہ ہونے پر اپوزیشن سراپا احتجاج

کرونا وائرس سے نمٹنے کیلئے مناسب انتظامات نہ ہونے پر اپوزیشن سراپا احتجاج

  



لاہور(آئی این پی) پنجاب اسمبلی میں کرونا وائرس سے نمٹنے کیلئے مناسب انتظامات نہ کرنے پر اپوزیشن کا ایوان میں شدید احتجاج،صوبائی وزیر قانو ن راجہ محمد بشارت سمیت اراکین اسمبلی ڈیڑھ گھنٹہ تک صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کا ایوان میں انتظار کرتے رہے،پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی سید حسن مرتضی نے کہا کہ کرونا وائر س پر حالات تیزی کیساتھ خراب رہے ہیں مگر حکومت ہاتھ پر ہاتھ رکھ کے بیٹھی ہے،(ن) لیگ کے اویس لغاری نے کہا پورے صوبے کو چھوڑ کر حکومت نے ڈی جی خان میں سکریننگ کا انتخاب کیوں کیا حقائق سے آگاہ کیا جائے جس کے جواب میں صوبائی وزیر قانون راجہ محمد بشارت نے تمام ذمہ داری وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد پر ڈال دی جبکہ حکومت کی درخواست پر پنجاب اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب اسمبلی کا اجلاس پینل آف چیئرمین میاں شفیع کی زیر صدارت دو گھنٹے پندرہ منٹ تاخیر سے شروع ہوا،اسمبلی کے ایجنڈے پر محکمہ مال،کالونیز اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے متعلق سوالوں کے جواب پارلیمانی سیکرٹری چوہدری عدنان،صوبائی وزیر فیاض چوہان اور صوبائی وزیر خالد محمود کی جانب سے دیے گئے،پیپلزپارٹی کے پارلیمانی لیڈر سید حسن مرتضی نے نقطہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا میرا ذاتی ملازم سروسز ہسپتال میں کرونا وائرس کا ٹیسٹ کرانے گیا تو ہسپتال میں موجود عملے نے کہا وارڈز ضرور بنائے گئے ہیں لیکن ہمارے پاس ٹیسٹ کرنے کی سہولت میسر نہیں ہے،کرونا وائرس کے ٹیسٹ دس ہزار کے باہر سے ہو رہے ہیں۔مسلم لیگ ن کے رکن اویس لغاری نے کہا پنجاب حکومت نے پورے صوبے کو چھوڑ کر ڈی جی خان میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تشخیص کیلئے سکریننگ وارڈ بنادی ۔کیا پورے صوبے میں سے سب سے زیادہ وائرس ڈی جی خان میں واپس آرہے ہیں؟اس کے جواب میں وزیر قانون راجہ بشارت نے کہا معز ز رکن جو بتا رہے ہیں وہ درست نہیں۔ اس وقت خوف پھیلانے کی ضرورت نہیں۔ہم سب کو مل کراچھا بیان دینا چائیے۔ہر تحصیل تک کرونا وائرس ٹیسٹ سنٹر بنائیں گے۔ایران جو زائرین آرہے ہیں ان کو14 دن کی طبی قید میں رکھا کر سکرینگ کی جارہی ہے۔وزیر اطلاعات فیاض چوہان نے کہا پنجاب میں کرونا وائرس کے 72کیس سامنے آئے ہیں۔جن میں سے 71کی سکریننگ ہو چکی ہے اور وہ مکمل صحتیاب ہیں اور ان کو گھروں کو بھیج دیا گیا ہے۔لیکن فی الحال ایک کیس کے ٹیسٹ ہو رہے ہیں۔حسن مرتضی کو اس مہلک وائرس کے متعلق خوف پھیلانے کی بجائے احتیاط سے بات کرنے چاہیے۔بعدازاں مسلم لیگ(ن) کے رانا اقبال نے کہا خواجہ عمران نذیر کے معاملے میں ان کی کوئی غلطی ہوئی تو وہ ہاؤس میں معافی مانگیں گے۔اس کے جواب میں وزیر قانون نے راجہ بشارت نے کہا وہ ایک افسوسناک واقعہ تھا۔چیئر مین میاں شفیع کیخلاف نعرہ بازی نہیں ہونی چاہیے تھی۔ہم ایوان کو پرامن انداز میں چلانا چاہتے ہیں، واقعہ کی ویڈیوز چیک کی جائیں اگر عمران نذیر ذمہ دار ہوں گے تو چیئرمین کا ان کے متعلق فیصلہ درست ہے۔ایجنڈے پر موجود اورنج لائن ٹرین اور اس کے کرائے کے تعین پر بحث دوسرے روز بھی نہ ہوسکی۔اجلاس کا وقت ختم ہونے پر پینل آف چیئرمین میاں شفیع نے اجلاس غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردیا۔

پنجاب اسمبلی

مزید : صفحہ آخر /رائے