سانحہ مسجد النور کو ایک سال مکمل، ہزاروں مسلمانوں کی سخت پہرے میں نماز جمعہ کی ادائیگی، وزیراعظم نیوزی لینڈ کی خصوصی شرکت

سانحہ مسجد النور کو ایک سال مکمل، ہزاروں مسلمانوں کی سخت پہرے میں نماز جمعہ ...

  



کرائسٹ کرچ (این این آئی)نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ کرچ کی مسجد النور پر ہونے والے حملے کو ایک سال مکمل ہونے پر جمعہ کا اجتماع ہارن کیسل ایرینا میں منعقد کیا گیا جس میں نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جسینڈا آرڈرن نے خصوصی طورپر شرکت اور مسلم خواتین سے ملاقات کی، اس موقع پر سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کئے گئے، ہیلی کاپٹر کے ذریعے علاقے کی فضائی نگرانی کی جاتی رہی۔ ایرینا کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا اور سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے اور تمام نمازیوں کو تلاشی کے بعد اندر جانے کی اجازت دی گئی۔پولیس کے مسلح دستوں نے سٹیڈیم کو چاروں طرف سے گھیرے میں لئے رکھا۔جمعہ کے اجتماع کو دیکھنے کیلئے نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جسینڈا آرڈرن بھی ایرینا میں موجود رہیں اور اس موقع پر وزیراعظم نے مسلمان خواتین سے ملاقات بھی کی۔اجتماع میں بڑی تعداد میں مسلمانوں نے شرکت کی اور جمعہ کی نماز ادا کی، النور مسجد کے امام نے خطبہ دیا، لنوڈ مسجد کے امام نے نماز جمعہ پڑھائی،شہداء کے ایصال ثواب کیلئے خصوصی دعاکی گئی،اس موقع پررقت آمیز مناظر دیکھنے ملے۔جمعہ کی اذان کے بعد مصر سے آئے ہوئے قراء حضرات نے تلاوت قرآن پاک کی سعادت حاصل کی۔جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے سکالر فرید احمد جن کی بیوی مسجد النور میں شہید ہوگئی تھیں نے کہاکہ اسلام امن کا درس دیتا ہے اور کرائسٹ چرچ کے مسلمانوں نے اس کا عملی مظاہرہ کیا باوجود اس کے کہ ہم نے اپنے پیاروں کو کھودیا۔ہم نے صبر کے ساتھ اس سانحہ کو برداشت کیا اور پوری دنیا میں امن کا پیغام دیا اور ہم دنیا کو دکھانا چاہتے ہیں کہ مسلمان دنیا میں امن چاہتے ہیں۔مسجد النور کے امام جمال فودا نے بھی شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ پر امن طورپر نیوزی لینڈ میں اپنا کر دار ادا کر یں۔آخر میں شہداء کے ایصال ثواب اور زخمیوں کیلئے خصوصی دعا کی گئی۔

مسجد النور

مزید : صفحہ اول