میر شکیل الرحمن 12روزہ ریمانڈ پر نیب کے حوالے، آئندہ سماعت پر ملزمہ سے ہونیوالی تفتیش سے متعلق رپورٹ بھی طلب

میر شکیل الرحمن 12روزہ ریمانڈ پر نیب کے حوالے، آئندہ سماعت پر ملزمہ سے ...

  



لاہور(نامہ نگار)احتساب عدالت کے جج چودھری امیرمحمدخان نے جنگ اورجیوگروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمن کو غیرقانونی طور پر 54کنال زمین اپنے نام کروانے کے کیس میں 12روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا۔عدالت نے آئندہ سماعت پر ملزم سے ہونیوالی تفتیش سے متعلق رپورٹ بھی طلب کرلی۔ عدالت نے میر شکیل الرحمن کی جانب سے انہیں سونے کیلئے معاونت دینے والی مشین فر ا ہم کرنے کی درخواست پر قانون کے مطابق عملدرآمد کا حکم دیا جبکہ ملزم کو ادویات، گھر کا کھانا اور میڈیکل کروانے کی درخواست پر قانون کے مطابق عملدرآمدکی ہدایت کی ہے، دوران سماعت جسمانی ریمانڈ کا حکم سنتے ہی میر شکیل کا بلڈ پریشر کنٹرول نہ رہ سکا جس پر وہ بار بار پانی مانگتے رہے۔ احتسا ب عدالت کی جانب سے جاری تحریری فیصلے میں کہا گیاہے کہ ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے سابق وزیراعظم نواز شریف نے میر شکیل الرحمن کو 54 پلاٹ دئیے، میر شکیل الرحمن نے مختار عام کے ذریعے ایگزیمپشن پر پلاٹ حاصل کئے، سابق وزیراعظم نواز شریف نے میر شکیل کو محمد علی کے مختار عام پر 30 فیصد کوٹہ پر پلاٹ الاٹ کئے، پبلک آفس ہولڈر کی جانب سے 30 فیصد کوٹہ پر پلاٹ الاٹ کرنے کا معاملہ قابل تحقیقات ہے، اگر جرم ظاہر ہوتا ہے تو 34 سال پرانا معاملہ نیب کے سکوپ سے باہر نہیں۔ تفتیشی افسر کو نواز شریف کی جانب سے میر شکیل کو ایگزیمپشن پر ملنے والے پلاٹوں کی تحقیقات کے نتیجے کیلئے وقت کی ضرورت ہے، ملزم کا پہلا ریمانڈ ہے جس میں اسکی گہرائی تک جانے کی ضرورت ہے، چیئرمین نیب کا صوابدیدی اختیار ہے کہ وہ مناسب مواد ہونے کی صورت میں ملزم کی گرفتاری کے وارنٹ جار ی کر سکتا ہے، ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملزم میر شکیل الرحمان غیرمعمولی ایگزیمپشن پر وضاحت دینے کا پابند ہے، ملزم کی مقدمہ خارج کر نے کی استدعا قبل از وقت ہے،قبل ازیں کیس کی سماعت شروع ہوئی تو سخت سکیورٹی میں میر شکیل الرحمن کو نیب نے احتساب عدالت میں پیش کیا،سپیشل پراسکیوٹر نیب حافظ اسد اللہ اعوان عدالت میں پیش ہوئے،عدالت میں دلائل دیتے ہوئے انہوں نے کہا بزنس مین وہ ہوتا ہے جن کا کمپنیوں کا معاملہ ہوتا ہے، میر شکیل نے زمین حاصل کی ہے، سپیشل پراسیکیوٹر نیب نے عدالت کو بتایا ہم نے کب کہا ہے میر شکیل کا ٹیکس یا کمپنیز معاملہ ہے، ملزم میر شکیل الرحمن نے ایک کنال کے 54 پلاٹ جوہر ٹاؤن کے ایچ بلاک میں مبینہ طورپرنواز شریف سے حاصل کئے، ملزم نے ایگزیمپٹڈ پلاٹس حاصل کئے، میرشکیل الرحمن نے نیب سے تعاون نہیں کیا،ملزم سے تحقیقات کرنی ہیں،عدالت سے استد عاہے ملزم کا 15 روزہ جسمانی ریمانڈ دیا جائے، عدالت میں ملزم میرشکیل الرحمن کے وکیل اعتراز احسن نے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ پہلے میر شکیل سے ملاقات کرنے کی اجازت دی جائے،ملزم کا وکیل ہونے کی حیثیت سے اسکا موقف لینا ہے، جس پر فاضل جج نے کہا آپ اہلمد کے کمرے میں بیٹھ جائیں، مذکورہ بالا حکم کیساتھ فاضل جج نے کیس کی سماعت کچھ دیر کیلئے ملتوی کردی، ملاقات کے دوران میر شکیل الرحمن سے لیگی رہنماؤں خواجہ عمران نذیر اور چودھری شہباز نے بھی ملاقات کی،اس موقع پرکمرہ عدالت کے ریکارڈ روم میں ملزم میر شکیل کے داماد بھی موجود تھے،کمرہ عدالت کے علیحدہ کمرے میں جیو کے دیگر ملازمین بھی چلے گئے،واضح رہے عدا لت نے صرف اعتزاز احسن اور ملزم شکیل الرحمن کی ملاقات کی اجازت دی تھی،میر شکیل الرحمن کا اپنے وکیل سے ملاقات کا وقت ختم ہوا تو ا حتساب عدالت کے جج امیر محمد خان نے کیس کی دوبارہ سماعت شروع کی،میر شکیل الرحمن کے وکیل اعتراز احسن نے کہا 34 سال پرانے جرم سے متعلق نیب خاموش رہا اور اچانک اس پر کارروائی شروع کر دی اور ان کے موکل کو گرفتارکرلیا، میر شکیل بزنس مین کی کیٹیگری میں آ تے ہیں،وہ پبلک آفس ہولڈر نہیں تھے،ملزم کو جواب دینے کیلئے مہلت نہیں دی گئی، کارروائی دوبارہ سے قانون کے مطابق کی جائے۔ میر شکیل نے کس طرح قانون کی خلاف ورزی کی، انہوں نے پرائیوٹ افراد سے زمین خریدی، ایل ڈی اے نے اگر رعایت دی ہے تو محمد، حکمت علی اوردیگر کو دی گئی ہے۔ نیب نے میر شکیل کو کوئی نوٹس نہیں دیا، بزنس مین کو طلب کرنے سے پہلے قانونی طریقہ کار اختیار نہیں کیا گیا، خلاف قانون کارروائی نیب کی بدنیتی کو ظاہر کرتا ہے، ملزم کو غیر قانونی طور پر گرفتار کیا گیا، ملزم کی گرفتاری کی وجوہات مجھے فراہم نہیں کی گئیں، نیب کے پراسیکیوٹر نے کہا ملزم میر شکیل الرحمن کو گرفتاری کی وجوہات فراہم کر دی گئی تھیں، جس پر اعترازاحسن نے کہا میر شکیل کہیں نہیں بھاگ رہے لیکن نیب نے ملزم کا موقف نہیں سنا اور گرفتار کر لیا، شاہد خاقان عباسی کو بھی نیب نے اس طرح گرفتار کیا۔ آرٹیکل 10 (اے)ملزم کے سول حقوق کے تحفظ اور فوجداری چارج کی صورت میں فیئر ٹرائل کا حق دیتا ہے، جس پر فاضل جج نے کہا ڈی جی نے گرفتا ری کا اختیار قانون سے لیا ہوا ہے، اعتزاز احسن نے کہا عدالت سے استدعاہے میر شکیل الرحمن کو مقدمہ سے بری کیا جائے، عدالت نے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد ملزم میر شکیل الرحمن کو 12روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کی تحویل میں دیتے ہوئے آئندہ سماعت پر انہیں دوبارہ عدالت میں پیش کرنے کاحکم دیا۔دریں اثناء کیس کی سماعت کے موقع پرجنگ جیو کے ورکرز احاطہ عدالت میں نعرے بازی کرتے رہے، عدالتی سماعت کے موقع پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی تاکہ کسی بھی قسم کے ناخوشگوار واقع سے نمٹا جاسکے،نیب کی جانب سے جنگ اورجیو گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمن کو ایک روز قبل ایگزیمپشن پرملنے والے پلاٹوں کے کیس میں گرفتارکیا گیا تھا۔اس کیس کی مزید سماعت25مارچ کو ہوگی۔

میر شکیل ریمانڈ

مزید : صفحہ اول