نیب خود مختار ادارہ لیکن حکومت کو بھی اس پر کچھ تحفظات ہیں: فردوس عاشق اعوان

  نیب خود مختار ادارہ لیکن حکومت کو بھی اس پر کچھ تحفظات ہیں: فردوس عاشق اعوان

  



اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہاہے کہ نیب خود مختارادارہ ہے، حکومت کو بھی اس پر کچھ تحفظات ہیں،صحافتی برادری سے تعلق رکھنے والے ایک رکن نے صحافتی برادری کے دوسرے رکن کے خلاف درخواست دی جس پر حکومت کا کوئی اختیار نہیں، میر شکیل الرحمن کی گرفتاری کا میڈیا کے ذریعے پتہ چلا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا احتساب کا نعرہ ہے اور وہ کرپشن فری پاکستان چاہتے ہیں، پاکستان کے 22 کروڑ عوام کی طرح ہم بھی نیب سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ قانون کا یکساں اطلاق کرے گا، ہم چاہتے ہیں کہ نیب کے اقدامات سے ایسی بو نہیں آنی چاہیے کہ کمزور کو پکڑ لیا جائے اور طاقتور کو چھوڑ دیا جائے، ہم نیب کو ایک طاقتور ادارے کے طور پر آگے بڑھتا دیکھنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ عمران خان کی قیادت میں آزاد ادارے غیر جانبدارانہ طریقے سے اپنا کام کر رہے ہیں، میرشکیل الرحمن کی گرفتاری میں نیب کے کردار کو حکومت کے ساتھ نتھی کرنا اور یہ تاثر دینا کہ حکومت نے صحافتی برادری کو قتل کر دیا ہے یہ صحافتی اقدار کی خلاف ورزی ہے۔فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ کسی ادارے کے مالک کی کاروباری اور مالی معاملات میں ہونے والی انکوائری یا گرفتاری کو میڈیا کے ساتھ جوڑنا اور اسے حکومت کے خلاف رائے دینے کیلئے جوڑنا بھی صحافتی اقدار کی نفی ہے، اس عمل کو ایک آزاد اور خود مختار ادارہ جو کر رہا ہے اسے حکومت کی خواہش کے تابع کرنے کا بیان دینا بھی ناانصافی ہے۔انہوں نے کہا کہ مجھے یقین کامل ہے کہ اگر نیب میر شکیل الرحمن صاحب کو ایسے الزامات کے تحت گرفتار کرتی ہے جس کے تحت انھوں نے اس وقت کے وزیراعظم سے ایسے پلاٹ لیے اور ان پلاٹس سے وزیراعلیٰ سے کوئی رعایت لی اور اسے کسی ذاتی فائدے کیلئے استعمال کیا تو الزام لگتے رہتے ہیں، بہت سارے سیاستدان اور دیگر افراد بھی ان الزامات کا سامنا کرتے رہتے ہیں، جب دونوں فریق اپنا مؤقف عدالت میں لاتے ہیں تو عدالت حقائق کی بنیاد پر فیصلہ کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ نیب نے جن حقائق کی بنیاد پر میر شکیل الرحمن کا ریمانڈ لیا ہے، ہم امید رکھتے ہیں کہ نیب ٹھوس ثبوت سامنے لائے گا تاکہ نیب کے مؤقف کو آئین اور قانون کی بالادستی حاصل ہو، اسی طرح میر شکیل الرحمن اور ان کے میڈیا گروپ سے وابستہ صحافی بھی حکومت پر تیر برسانے کے بجائے ثبوت عدالت میں پیش کریں کیونکہ عدالتوں پر کسی کو شک نہیں ہے، جیو اور جنگ گروپ کو بھی عدالت سے یہی توقع رکھنی چاہیے۔وزیراعظم کی معاون خصوصی نے کہا میر شکیل الرحمن کی گرفتاری کے واقعہ کو حکومت یا وزیراعظم کے ساتھ جوڑنا صحافتی اقدار کی نفی ہے، اگر وہ سمجھتے ہیں کہ زیادتی ہوئی ہے تو آپ اس پر اپنا ضرور مؤقف پیش کریں لیکن حکومت کا مؤقف بھی لیں کیونکہ یہ میڈیا کی صحافتی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ جیو اور جنگ کی آراء کا ہمیشہ سے احترام کیا ہے کیونکہ جیو اور جنگ دوسروں کیلئے ٹرینڈ سیٹ کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب حکومتی نہیں آزاد ادارہ ہے، میر شکیل الرحمن کی گرفتاری کے ساتھ جڑے ثبوت اور حقائق عدالتوں میں پیش کرنا ان کی ذمہ داری ہے جبکہ جنگ اور جیو گروپ کے حکام اور ادارے سے وابستہ صحافیوں کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ اپنے اوپر لگنے والے الزامات کا عدالت میں دفاع کریں، توقع رکھتے ہیں کہ عدالتیں آئین اور قانون کی روشنی میں ثبوتوں کی بنیاد پر فیصلہ کریں گی۔فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ میڈیا پر حکومت کو فریق ملزم کے طور پر کٹہرے میں کھڑا کیا گیا ہے، توقع کرتے ہیں کہ ایسا کیس جو عدالت میں آ گیا ہے اس کا مقدمہ جج صاحب کے سامنے لڑا جائے گا۔

فردوس عاشق اعوان

مزید : صفحہ اول