پڑوسیوں کی خبر لیں

پڑوسیوں کی خبر لیں

  



کچھ دنوں سے سیف کا دل کسی چیز میں نہیں لگ رہا تھا نہ ہی پہننے میں نہ کھانے میں اور نہ ہی پڑھنے میں اسے کچھ زیادہ دلچسپی ہورہی تھی ہر وقت وہ کھویا کھویا سا رہتا تھا،سیف!دیکھو میرے پیارے بیٹے میں تمہارے لئے کتنا خوبصورت اور مہنگا سوٹ لایا ہوں یہ سوٹ بارہ سو روپے کا ہے ابو بازار سے لوٹے تو سیف سے کہا ابو کے ہاتھوں میں سوٹ دیکھ کر سیف کو ذرا بھی خوشی نہیں ہوئی،کیا بات ہے؟تم اپنا نیا سوٹ دیکھ کر خوش نہیں ہوئے ابو کا حیرت سے برا حال تھا سیف نے ابو کی بات کا جواب نہ دیا اور اپنے کمرے میں جاکر دروازہ بندکرلیا ابو پھٹی پھٹی آنکھوں سے سیف کو دیکھ رہے تھے آج میں نے اپنے بیٹے کے لئے مزے مزے کے پکوان تیار کئے ہیں بریانی مچھلی کے پکوڑے اور بھی بہت کچھ امی جان نے پکوانوں کا چٹخارہ لیتے ہوئے مسکرا کر کہا مگر یوسف تو خالی پلیٹوں کو تکے جارہا تھا امی جان اور ابو نے حیرانی کے عالم میں ایک دوسرے کو دیکھا سیف ارے بیٹا دیکھ تو تمہاری امی نے کس قدر لذیذ کھانے بنائے ہیں دیکھو گے تو تمہارے منہ میں پانی بھر آئیگا ابو نے سیف کو دوسری دنیا سے نکالتے ہوئے کہا اور وہ ابو کی آواز سن کر چونک گیا سیف بیٹے تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے امی جان نے پریشانی سے سیف کی گال پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا اس بار یوسف نے کچھ ہمت کرکے امی ابو سے بات کہہ ڈالی امی ابو آپ لوگوں کو معلوم ہوگا کہ ہمارے پڑوسی نوید انکل کا انتقال ہوگیا تھا ان کی بیوی اور بچے بہت غریب ہیں وہ بھوک سے تڑپ رہے ہوتے ہیں نوید انکل کی بیوہ سکینہ بی بی سلائی مشین سے لوگوں کے کپڑے سیتی ہے اور اپنا اور اپنے بچوں کا بمشکل پیٹ بھرتی ہے گھر کے اخراجات بھی بہت ہیں کرائے کے مکان میں رہتی ہیں مکان والا روز انہیں کہتا ہے کہ کرایہ نہ دیا تو گھر سے نکال دوں گا انہیں ایک کھانا بمشکل نصیب ہوتا ہے اور ہم یہاں مزے مزے کے پکوان کھائیں ابو آپ میرے لئے پرسوں نیا سوٹ لائے تھے نا وہ سکینہ آنٹی کے بچوں کو دے دونگا مجھ سے یہ نہیں دیکھاجاتا کہ میں اچھے اچھے اور مہنگے لباس پہنوں جبکہ ہمارے پڑوسی کسی کی اْترن پہنیں سیف بول چکا توامی ابو کو حیرت زدہ کھڑے پایا،ہاں بیٹے تم سچ بولتے ہو، ہم اپنی زندگی میں ایسے کھوگئے تھے کہ ہم نے اپنے غریب پڑوسیوں کی خبر ہی نہیں لی ہم لوگ بہت برے ہیں ابو شرمندگی سے بولے تو امی نے بھی کہا ہاں آپ درست کہتے ہیں میں آج جاکر سکینہ بہن کے حال احوال معلوم کرونگی اور ہم سب مل کر ان کی مدد کریں گے تاکہ وہ بھی ایک آرام دہ زندگی بسر کر سکیں اور ان کے بچوں کے لئے کھانے کا سامان اور کپڑے بھی لے جاؤں گی سیف امی ابو کی باتوں سے مطمن ہوگیا اور اس کو سچا سکون ملا،اچھا تو آپ بھی اپنے آس پاس نظر ڈالئے کہیں کیا پتہ کوئی درد مند انسان درد میں مبتلا ہو اور اسے آپ لوگوں کی ضرورت ہو میری نصیحت پر ضرور عمل کیجیے۔

مزید : ایڈیشن 1