بچے ہم سب کے

بچے ہم سب کے

  



میری اپنی رائے ہے کہ انسان میں تبدیلی کے کئی دور آتے ہیں جب وہ غیر شادی شدہ ہوتا ہے تو اس وقت دل۔ ذہن اور سوچ اور ہوتی ہے…… جب شادی ہوجاتی ہے اس وقت خیالات اور……اور جب بچے ہوجاتے ہیں تو اس وقت تو یہ کہہ لیں اس کا دل اتنا نرم ہو جاتا ہے دوسرے بچوں میں اپنے بچوں کا عکس اور دوسرے بچوں کا دکھ اپنے بچوں کا دکھ لگنے لگتا ایسا ہی کچھ میرے ساتھ بھی ہوا ہے مجھے دوسروں کے بچوں میں اپنے بچوں کا چہرہ نظر آتا کسی بچے کو دکھ اور تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا ایسا ہی گزشتہ روز ایک واقعہ میرے ساتھ پیش آیا جب میں بازار میں ایک دکان پر اپنے دوست کے ساتھ بیٹھا تھا کہ اچانک میری نظر دو بچوں پر پڑی سردی ہونے کے باوجود بھی ان کے کپڑے آدھے پھٹے ہوئے تھے ایک بچہ دوسرے بچے نے اپنی پیٹھ پر اٹھا رکھا ہے ان دونوں بچوں کی حالت دیکھ کر یہ تو واضح تھا کہ وہ مانگنے والوں کے بچے ہیں سوال یہ تھا کہ وہ رو کیوں رہے تھے اور مجھے سے ان کا رونا برادشت نا ہوا میں جلد سے دکان کا کاؤنٹر کراس کرکے ان بچوں کے پاس پہنچا تو وہ بچے روئے جارئے تھے مَیں نے ان کے ساتھ ہوکر انہیں روکا اور دیکھا تو انکے آنسو سے انکے چہروں پر پانی جاری تھا خیر میں نے انہیں حوصلہ/دلاسہ دیا اور وجہ پوچھنے پر خاموش ہو گئے، دو تین دفعہ پوچھنے کے بعد بڑے بچے نے ہچکچاتے ہوئے بتایا کہ ہم فلاں سبزی فروش کی دکان کے ساتھ گلے سڑے پھلوں میں سے اپنے کھانے کے لیے پھل اکٹھے کررہے تھے تو دکان دار اچانک آیا اور ہمیں مارا بھی اور کہا کہ یہ گندگی جو تم بکھیر رہے ہو تمہارا باپ اکٹھی کرے گا چلو اٹھاؤ اور گندگی کے ڈھیر پر پھینک کر آؤ ہم نے بڑی منتیں کیں کہ ہم تو صرف کھانے کے لیے اس میں سے پھل دیکھ رہے تھے، مگر اس نے ایک نا سنی ہمیں مارا بھی اور دکان سے وہ کوڑا بھی اٹھایا جس پر جو میں محسوس کررہا تھا مجھے ہی پتہ ہے میں بچوں کو ساتھ لے کر اسی دوکان کی طرف چل پڑا حالانکہ بچے جانے کو تیار ہی نہیں تھے، مگر مَیں انہیں ساتھ دکان پر لے کر پہنچا واقعہ پر دوکاندار سے کافی دیر بحث کرنی پڑی تب جاکر اس کو اپنی غلطی کا احساس ہوا کہ اس نے جو بچوں کے ساتھ سلوک کیا وہ انسانیت سے گری ہوئی حرکت تھی اس دوران کافی دوسرے لوگ بھی جمع ہو چکے تھے خیر میں نے جو محسوس کیا وہ لکھ دیا تھا اس تحریر کا مقصد یہ تھا ہمارے قریب/سامنے آئے دن ایسے واقعات پیش آتے رہتے ہیں، مگر ہم نے کبھی اس طرف سوچنے کی زحمت بھی گوارہ نہیں کی، کیونکہ ہمارے پاس اتنا وقت ہی نہیں کہ دوسرے کی تکلیف محسوس کر سکیں ہمیں چاہیے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ اچھے طریقوں سے پیش آئیں کچھ نہیں دے سکتے تو ان کو اچھا اخلاق اور ان کے سردست شفقت بھرا ہاتھ تو رکھ سکتے ہیں، کسی دن ایسا کر کے دیکھیں تو سہی یقین کریں آپ کو وہ حقیقی خوشی ملے گی شائد ہزاروں روپے خرچ کرنے پر بھی ناملے اللہ تعالیٰ ہمیں دردانسانیت سمجھنے کی توفیق عطا ء فرمائے آمین۔

مزید : ایڈیشن 1