پاکستان میں تبدیلی آ گئی ہے،ادریس کوٹھاری

پاکستان میں تبدیلی آ گئی ہے،ادریس کوٹھاری

  



کراچی(پ ر)سیلیکون ویلی سے صفِ اوّل کے پاکستانی-امریکی اونٹری پرینیور ادریس کوٹھاری نے ایک گفتگو بعنوانPakistan - a Perspective, Irrespective میں سوسائٹی فار گلوبل ماڈریشن (ایس جی ایم) کے ارکان اور دیگر مہمانوں سے خطاب کیا۔ اس Talk کا انعقادسی ایم سی کے دفتر میں کیا گیا تھا۔کوٹھاری کے مطابق پاکستان کے بہت اچھے دن آنے والے ہیں کیونکہ مُلک ایک ایسے موڑ پر ہے جہاں تمام ستارے اس کے موافق ہیں؛ اس کے پاس ایک سچا حکمران اور زبردست نوجوان ہیں جو بے حد پُرجوش اور ذہین ہیں۔ادریس کوٹھاری نے کہا کہ پاکستان میں تبدیلی آ گئی ہے اور ہر پاکستانی کوکسی نہ کسی درجے میں مُلک کے لیے کچھ کرنا چاہیے۔ 22 کروڑ کی آبادی بہت بڑی تبدیلی لا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہر کوئی ذاتی مفاد کے بجائے وسیع تر مفاد کے لیے کام کرے تو مُلک کی کایا پلٹ سکتی ہے۔

ٹھاری نے کہا کہ وہ اپنی صلاحیتوں پر بھرپور اعتماد رکھتے ہیں اور اُنھیں یقین ہے کہ وہ اکیلے نہیں ہیں کیونکہ انہوں نے امریکا میں لوگوں کو کہتے ہوئے سُنا ہے کہ کسی شخص کو پاکستان سے تو نکالا جا سکتا ہے لیکن کسی شخص سے پاکستان کو نہیں نکالا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی اپنے مُلک سے بے حد مخلص ہیں، اور بھارتیوں کے ساتھ کام کرتے ہوئے انہوں نے دیکھا تھا کہ وہ اپنے مُلک سے اس کا نصف لگاؤ بھی نہیں رکھتے۔

ادریس کوٹھاری حال ہی میں صدر اور وزیر اعظم پاکستان کے ڈیجیٹل اقدامات کا حصہ تھے اور اُن کے مطابق بیرونِ مُلک مقیم پاکستانیوں میں سے دس لاکھ سے زائد اعلیٰ تعلیم یافتہ اور بے حد پُرجوش پاکستانی ایسے ہیں جو اپنے مُلک کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں جناب کوٹھاری نے کہا کہ پاکستان کو زیادہ ڈیجیٹل افرادی قو ّت برآمد کرنے کی ضرورت ہے لیکن ایسا نہیں ہو رہا ہے اور اس کمی کو پورا کیا جانا چاہیے ہے تاکہ پاکستان زیادہ ڈالر کما سکے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس NADRA ہے جو ایک شاندار چیز ہے۔ NADRA کے ذریعے مُلک کی مدد اس طرح ہو سکتی ہے کہ بیرونِ مُلک کام کرنے والے باصلاحیت پاکستانیوں کے بارے میں کچھ مزید معلومات حاصل کی جائیں تاکہ پاکستان میں شروع کیے گئے اقدامات کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا آغازکردہ ڈیجیٹل پروگرام بھی، جس کی قیادت سابقہ گوگل ایمپلائی تانیہ ایدروس کررہی ہیں، درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔

پڑھے لکھے ذہین لوگوں کے پاکستان سے باہر چلے جانے (brain drain) کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں ادریس کوٹھاری نے کہا کہ ڈیجیٹل سیکٹر میں روزگار کے متعدد مواقع پیدا ہو رہے ہیں کیونکہ مُلک میں ہر سال گریجویٹس کی تعداد میں کثیر اضافہ ہو رہا ہے اور یہ افراد brain drain کے نتیجے میں پیدا ہونے والی خلا سے فائدہ اُٹھا سکتے ہیں۔

جناب ادریس کوٹھاری ویسکونا سسٹمز انٹرنیشنل، سین فرینسسکو کے نائب صدر ہیں اور اوپن سیلیکون ویلی کے اساسی رُکن، سابق صدر اور موجودہ بورڈ کے چیئرمین ہیں۔وہ 35 سال سے زائد کے پیشہ ورانہ اور اونٹری پرینیورل تجربے کے حامل ہیں اور VSi کے سچیف ٹیکنالوجی آفیسر (سی ٹی او)اور بورڈ کے رُکن کے طور پر مہمان نوازی اور طب کی صنعتوں کو سافٹ ویئر بحیثیت سروس (ایس اے ایس)فراہم کر رہے ہیں۔ وہ سیلیکون ویلی کے این ای ڈی ایلمنائی ایسو سی ایشن اور فرینڈز آف LUMS امریکا کے بورڈ میں بھی خدمات فراہم کرتے ہیں۔ موصوف ایس ایم سائنس کالج، کراچی سے فزکس میں بی ایس ڈگری، این ای ڈی یونیورسٹی، کراچی سے الیکٹریکل انجنیئرنگ میں بی ایس ڈگری، اور الینوئس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، شکاگو سے ایم ایس ڈگری کے حامل ہیں۔

تقریب میں اس سے قبل سوسائٹی فار گلوبل ماڈریشن کے چیئرمین سیّد جاوید اقبال نے جناب ادریس کوٹھاری کو خوش آمدید کہتے ہوئے ان کا تعارف کرایا اور کہا کہ وہ دونوں ساتھ کالج جاتے تھے اور انہوں نے ہمیشہ ادریس کوٹھاری کو ایک ذہین طالب علم پایا۔ موصوف کراچی میں انجنیئرنگ کی ابتدائی تعلیم اور این ای ڈی سے فرسٹ کلاس فرسٹ حاصل کرنے کے بعد امریکا گئے جہاں انہوں نے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی میں اُس وقت کیریئر بنایا جب اس شعبے کا آغاز ہو رہا تھا۔

مزید : کامرس