ایس بی سی اے کے بد عنوان عناصر سے کراچی کو بچا یا جائے: حافظ نعیم الرحمن

ایس بی سی اے کے بد عنوان عناصر سے کراچی کو بچا یا جائے: حافظ نعیم الرحمن

  



کراچی (اسٹا ف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ SBCA کے بدعنوان عناصر کے ہاتھوں شہر کو بربادہونے سے بچایا جائے،کراچی میں توڑ پھوڑ اور غیر قانونی تعمیرات کے خلاف احکامات دینے کے ساتھ ساتھ کراچی کے ماسٹر پلان کو بھی دیکھا جائے اور جن اداروں اوران کے افسران اور عملے نے شہریوں کے ساتھ جعل سازی کی ہے ان کے خلاف سخت کاروائی کی جائے، شہریو ں کو متبادل جگہ کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور ان کی مالی معاونت کی جائے،سرکلر ریلوے کے متاثرہ فریقین سمیت دیگرعلاقوں کے متاثرین کو بھی اپنا مؤقف پیش کرنے کا مکمل موقع فراہم کیا جائے اور پھر فیصلہ کیاجائے،سندھ حکومت نے کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے تعلیمی اداروں کی بندش کے سوا عملاً کوئی اقدامات نہیں کیے، طلباء و طالبات اور والدین ابہام کا شکار ہیں،میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات کا واضح اعلان کیا جائے،المیہ ہے کہ سانحہ گلبہار پرخود حکومتی نمائندے احتجاج کررہے ہیں،انہیں احتجاج کے بجائے متاثرین کو ریلیف دینا چاہیئے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ادارہ نورحق میں کراچی میں غیر قانونی تعمیرات پر حکومت اور متعلقہ اداروں کی خاموشی،سپریم کورٹ کے احکامات پرتجاوزات کے خاتمے کے نام پرہزاروں افراد کے بے گھراورکاروبار تباہ ہونے کے حوالے سے ایک اہم ”پریس کانفرنس“ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔کانفرنس میں نائب امیر جماعت اسلامی کراچی ڈاکٹر اسامہ رضی،صدر پبلک ایڈ کمیٹی جماعت اسلامی کراچی سیف الدین ایڈوکیٹ، سکریٹری اطلاعات زاہد عسکری ودیگر بھی موجود تھے۔حافظ نعیم الرحمن نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مزیدکہاکہ ہم ان تمام معاملات میں عدالت سے مکمل تعاون کرنا چاھتے ہیں اور عدالت عظمی سے بھی یہ توقع کرتے ہیں کہ وہ اس طرح کے احکامات جاری کرے گی جس سے آئندہ ناجائز قبضے اور غیر قانونی تعمیرات کا راستہ مکمل طور پر بند ہوسکے اور عام شہری متاثر نہ ہو۔تجاوزات کے حوالے سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کوخط بھی لکھ رہے ہیں اور سابق سٹی ناظم نعمت اللہ خان کے انتقال کے بعد ان کی دائرکردہ پٹیشن میں درخواست کنندہ بننے کی درخواست بھی داخل کررہے ہیں۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر