نوجوان سائنس دان جذبے اور محنت سے کام کریں‘ ڈاکٹر عظمیٰ قریشی

نوجوان سائنس دان جذبے اور محنت سے کام کریں‘ ڈاکٹر عظمیٰ قریشی

  



ملتان (سٹاف رپو رٹر) سائنس دان اور ریسرچرز معاشرے کا اہم ستون ہیں‘ یونیورسٹیاں علم وآگہی کا مزکر ہیں اور ریسرچ پروجیکٹس کسی بھی یونیورسٹی میں ریڑھ کی ہڈی (بقیہ نمبر37صفحہ12پر)

کی حیثیت رکھتے ہیں اس لیے نوجوان سائنس دان جذبے محنت لگن سے کام کر کے اپنا اور اپنے ادارے کا نام روشن کریں۔ انہوں نے کہا کہ اصل مقصد ایک منظم اور مربوط نظام بننا اور پھر اسے رائج کرنا ہے تاکہ پاکستان کو ترقی پذیر سے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں لا کر ریسرچ گیپ ختم کیا جا سکے۔ ان خیالات کا اظہار وائس چانسلر ڈاکٹر عظمی قریشی نے شعبہ بایؤ کیمسٹری اور بایؤ ٹیکنالوجی کے زیر اہتمام ایک روزہ بین الاقوامی تربیتی ورکشاپ بعنوان Research methodology,Publication, Grant Proposal innovative patent and writing techniques سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس ورکشاپ میں ڈاکٹر عصمت ناز اور شعبہ جات کی چیئرپرسن نے شرکت کی۔ ورکشاپ کی فوکل پرسن ڈاکٹر مریم زین تھیں۔ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے وی سی ڈاکٹر عظمیٰ قریشی نے کہا کہ ویمن یونیورسٹی ملتان معیاری تعلیم اور تحقیق کے میدان میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔ اس مقصد کے لئے حال ہی میں نامور ملکی جامعات اور اداروں سے اشتراک کو بڑھایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معیاری تعلیم کی فراہمی بنیادی طور پر اساتذہ اور گریجویٹ کے معیار پر منحصر ہے۔ ڈاکٹر عصمت ناز نے کہا کہ لیبارٹریز میں کی جانے والی ریسرچ کمیونٹی سے مسنلک ہوتی ہے یہ اپنے علم اور تحقیق کے ذریعے معاشرے کے مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ورکشاپ کے سپیکر ڈاکٹر خرم جویۂ نے شرکا کو تحقیقی طریقہ کار کے مختلف پہلوؤں کے متعلق آگاہی فراہم کی جس میں تحقیقی تعارف، تحقیقی عمل، paper writing, proposal writing اور صنعتی تعلقات کو استوار کرنے اور بڑھانے کے طریقے کار اور اہمیت کو بھی اجاگر کیاگیا۔ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر مریم زین نے کہا کہ ہمارے اساتذہ اور طالبات ذہانت اور قابلیت سے مالا مال ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنی توانائیوں کو مثبت انداز میں بروئے کار لا کر اپنے ملک اور قوم کے لیے فاہدہ مند بنایا جائے۔انہوں نے تربیتی ورکشاپوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کے ذریعے سکالز کو تحقیقی عمل میں درپیش چیلنجوں کو حل کرنے میں مدد ملتی ہے۔

ڈاکٹر علمی

مزید : پشاورصفحہ آخر