کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کرنے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں: سعید غنی

کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کرنے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں: سعید غنی

  



کراچی(اسٹاف رپورٹر)وزیر تعلیم ومحنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ سندھ حکومت تمام محکموں بشمول محکمہ تعلیم میں ایسے تمام ملازمین کو جو کنٹریکٹ پر یا کسی اور بنا پر تعینات ہوئے ہیں ان کو مستقل کرنے کے لئے تمام اقدامات کررہی ہے۔ ملازمین کو مستقل کرنے کے حوالے سے عدلیہ کے تمام فیصلوں پر عمل درآمد کیا جارہا ہے اور اسی لئے وزیر اعلی سندھ نے کابینہ کے ارکان کی ایک کمیٹی برائے ریگولائزیشن آف ایمپلائزبنا دی ہے اور یہ کمیٹی تمام محکموں کے ملازمین کی فہرستیں مرتب کرکے اس کو میرٹ کی بنیاد پر اپنی رپورٹ مرتب کرکے وزیر اعلی سندھ اور کابینہ کے سامنے پیش کرے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو ریگولائیزیشن آف ایمپلائیز کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں کمیٹی کے ارکان صوبائی وزیر سید سردار احمد شاہ، سیکرٹری تعلیم سندھ خالد حیدر شاہ اور محکمہ تعلیم کے دیگر افسران بھی شریک ہوئے۔ کمیٹی 3 ارکان پر مشتمل ہے، جس میں کمیٹی کے چیئرمین صوبائی وزیر تعلیم سعید غنی جبکہ ممبران میں صوبائی وزیرسید سردار احمد شاہ اور وزیر اعلی کے مشیر برائے قانون مرتضی وہاب شامل ہیں۔ کمیٹی کے جمعہ کے روز اجلاس میں محکمہ تعلیم نے سندھ یونیورسٹی اوراقرا یونیورسٹی کے ٹیسٹ پاس اساتذہ کے کیس جو ریگولائیزڈ کرنے ہیں، ان پر تفصیلی بحث کی گئی۔ سیکرٹری تعلیم نے ان اساتذہ کے حوالے سے کمیٹی کو مکمل بریفنگ دی اور بتایا کہ ان اساتذہ نے ان دونوں یونیورسٹیوں کے ذریعے ٹیسٹ پاس کئے اور اس کے بعد انہیں ملازمت دی گئی تھی۔ اس موقع پر وزیر تعلیم سندھ و چیئرمین کمیٹی سعید غنی نے کہا کہ ہم کسی بھی اساتذہ کے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں ہونے دیں گے اور ان تمام اساتذہ کو ان کا حق دیا جائے گا، جس کے وہ مستحق ہیں۔ انہوں نے ہدایات دی کہ سیکرٹری تعلیم اس سلسلے میں محکمہ تعلیم کے ساتھ ساتھ تمام محکموں کے سیکرٹریز سے رابطہ کرکے ان کے محکموں میں اس طرح کے جو بھی کیسز ہیں ان کی مکمل تفصیلی رپورٹ بنا کر ان تمام ملازمین کی کیٹگری کے تحت فہرستیوں کو مرتب کیا جائے۔ اس موقع پر سید سردار شاہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا منشور روزگار دو ہے روزگار بند کرو نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت اور بالخصوص سندھ کابینہ نے اس حوالے سے اپنے اجلاسوں میں ایسے ملازمین کے حوالے سے تفصیلی بحث کی ہے اور اس کے بعد وزیر اعلی سندھ نے مذکورہ کمیٹی بنا کر ہمیں یہ ٹاسک دیا ہے کہ ہم صوبے میں محکمہ تعلیم سمیت تمام محکموں میں ایسے ملازمین کو جنہیں ماضی میں ایڈہاک، کنٹریکٹ یا دیگر مد میں ملازمتیں دی گئی ہیں لیکن وہ کسی بنا پر ابھی تک ریگولر نہیں ہوئے ہیں، ان کو مکمل رپورٹ مرتب کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ صوبے میں جہاں نئی ملازمتوں کے موقع فراہم ہوں وہاں وہ ملازمین جو ابھی تک مستقل نہیں ہوئے ہیں انہیں مستقل کیا جائے۔

مزید : صفحہ اول