بھارت آزادی صحافت کے 20بدترین دشمنوں میں شامل

بھارت آزادی صحافت کے 20بدترین دشمنوں میں شامل

  



پیرس(این این آئی)صحافتی آزادی اور صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے پیرس میں قائم تنظیم ”رپوٹرزود آؤٹ بارڈرز“ نے بھارت سمیت 20ایسے ملکوں کی ایک فہرست جاری کی ہے جو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے سچ کا گلا گھونٹ رہے ہیں۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق ”رپورٹز ود آؤٹ بارڈرز“نے یہ فہرست سائبر سنسر شپ کے خلاف دن کی مناسبت سے جاری کی ہے جو ہر سال 12مارچ کو منایا جاتا ہے۔ تنظیم نے ان ملکوں کو آزادی صحافت کے 20بدترین دشمنوں کا نام دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان ملکوں کے سرکاری ادارے اور نجی تنظیمیں صحافیوں کی جاسوسی اور انہیں ہراساں کرنے کیلئے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کااستعمال کر رہی ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ بیس شکاری یا دشمن اظہار رائے کی آزادی کیلئے خطرہ بنے ہوئے ہیں جسکی ضمانت اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سے متعلق اعلامیہ کی شق نمبر 19میں دی گئی ہے۔ تنظیم نے اپنی فہرست کو چار حصوں میں تقسیم کیا ہے جن میں سنسر شپ کرنے والی حکومتیں، صحافیوں کو ہراساں کرنی والی حکومتیں اور ادارے، جھوٹی خبریں پھیلانے والے اور صحافیوں کی جاسوسی کرنے والے شامل ہیں۔آزادی صحافت کے یہ دشمن ان صحافیوں کا پتہ لگاتے ہیں جن کے کام کی وجہ سے مقتدر شخصیات کو پریشانی ہوتی ہے۔ ”رپورٹز ود آؤٹ بارڈرز“ نے مقبوضہ کشمیر میں چھ ماہ تک انٹرنیٹ بند کرنے پر بھارتی وزارت داخلہ کا نام بھی لیا ہے جس کی وجہ سے صحافیو ں کو اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دینے میں مشکلات پیش آئیں۔ فہرست میں بھارت کے علاوہ امریکہ، جرمنی، چین، اسرائیل اور ایران کے نام بھی شامل ہیں۔

آزادی صحافت

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر