سعودی عرب کی ملازمین کو 72 گھنٹوں میں واپسی کی مہلت کے بعد پاکستانی متحرک، کتنی تعداد میں کہاں پہنچ گئے؟ نیا بحران پیدا ہوگیا

سعودی عرب کی ملازمین کو 72 گھنٹوں میں واپسی کی مہلت کے بعد پاکستانی متحرک، ...
سعودی عرب کی ملازمین کو 72 گھنٹوں میں واپسی کی مہلت کے بعد پاکستانی متحرک، کتنی تعداد میں کہاں پہنچ گئے؟ نیا بحران پیدا ہوگیا

  



کراچی، ریاض (ویب ڈیسک) کورونا وائرس کے باعث سعودی عرب کی جانب سے پاکستان سمیت دیگر ممالک کے تمام رہائشی، اقامہ ہولڈراور عمرہ زائرین کو واپسی کے لیے 72 گھنٹے کی ہدایت کے بعد 10 ہزار سے زائد پاکستانی پی آئی اے کے دفاتر پہنچ گئے جس سے بحرانی کیفیت پیدا ہوگئی ہے۔

ایکسپریس کے مطابق سعودی حکومت نے کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے چند ممالک میں موجود اقامہ ہولڈرز مسافروں کو واپسی کے لیے 72 گھنٹے کی ہدایت دی گی تھی۔ ذرائع کے مطابق پاکستان میں 10 ہزار ایسے اوورسیز پاکستانی موجود ہیں جو سعودیہ سے چھٹی پر پاکستان واپس آئے تھے اور سعودی حکومت کے اعلان کے بعد تمام مسافر واپس جانا چاہتے ہیں۔

پی آئی اے نے 6 پروازوں کے ذریعے صرف 2200 اقامہ ہولڈرز کو سعودیہ منتقل کرنے کے لیے بکنگ کا عمل مکمل کرلیا ہے جب کہ سعودیہ واپس جانے والے مسافروں کا پی آئی اے کے ہیڈ آفس اور ریجنل دفاتر میں رش لگ گیا ہے جس سے بحرانی کیفیت پیدا ہوچکی ہے۔

ترجمان پی آئی اے نے کہا ہے کہ پی آئی اے کے پاس مزید فلائٹوں یا بکنگ کی گنجائش نہیں ہے، شیڈول کی گئی 6 خصوصی پروازوں کی بکنگ مکمل ہو چکی، 6 پروازوں سے تقریباً 2200 مسافر سفر کریں گے، 6 میں سے 5 پروازیں جدہ، ایک مدینہ کے لئے آپریٹ ہوگی، انتظامیہ لاہور سے بھی سعودی عرب کے لئے پرواز کا پلان تیار کر رہی ہے، لاہور سے پرواز دمام کے لئے آپریٹ کی جائے گی، مزید مسافروں کو سعودی عرب پہنچانے کے لئے جہاز لینے پڑیں گے۔

مزید : عرب دنیا