کرونا وائرس کے کئی مریض صحت یاب لیکن ان کے پھیپھڑوں میں کیا مسئلہ ہوسکتا ہے؟ چینی میڈیا نے تہلکہ خیز دعویٰ کردیا

کرونا وائرس کے کئی مریض صحت یاب لیکن ان کے پھیپھڑوں میں کیا مسئلہ ہوسکتا ہے؟ ...
کرونا وائرس کے کئی مریض صحت یاب لیکن ان کے پھیپھڑوں میں کیا مسئلہ ہوسکتا ہے؟ چینی میڈیا نے تہلکہ خیز دعویٰ کردیا

  



ہانگ کانگ (ویب ڈیسک) ہانگ کانگ ہاسپٹل اتھارٹی کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ نئے نوول کرونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے افراد کے پھیپھڑے کمزوری کا شکار ہوسکتے ہیں اور کچھ افراد کو تیز چلنے پر سانس پھولنے کا مسئلہ ہوسکتا ہے۔ساﺅتھ چائنا مارننگ پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق ہسپتال نے یہ نتیجہ کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 سے صحت یاب ہونے والے ابتدائی مریضوں کا جائزہ لینے کے بعد نکالا۔ڈاکٹروں نے دریافت کیا کہ 12 میں سے 2 سے تین مریضوں کے پھیپھڑوں کی گنجائش میں تبدیلیاں آئیں۔

ہسپتال کے انفیکشیز ڈیزیز سینٹر کے میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر اوئن تسانگ تک ین نے جمعرات کو پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ ان افراد کا سانس کچھ تیز چلنے پر پھول جاتا ہے، جبکہ مرض سے مکمل نجات کے بعد کچھ مریضوں کے پھیپھڑوں کے افعال میں 20 سے 30 فیصد کمی آسکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس مرض کے طویل المعیاد اثرات کا تعین کرنا ابھی تو قبل از وقت ہے مگر 9 مریضوں کے پھیپھڑوں کے اسکین میں شیشے پر غبار جیسا پیٹرن دریافت ہوا، جس سے عضو کو نقصان پہنچنے کا عندیہ ملتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ان مریضوں کے مزید ٹیسٹ کرکے تعین کیا جائے گا ان کے پھیپھڑوں کے افعال اب کس حد تک کام کررہے ہیں جبکہ پھیپھڑوں کی مضبوطی کے لیے فزیوتھراپی کا انتظام بھی کیا جائے گا۔

ڈاکٹر نے بتایا کہ صحت یاب مریض مختلف ورزشوں جیسے سوئمنگ سے اپنے پھیپھڑوں کو بتدریج مکمل صحت یاب ہونے میں مدد فراہم کرسکتے ہیں۔ہانگ کانگ میں اب تک 131 کیسز سامنے آئے ہیں، 3 ہلاک اور 74 صحت یاب ہوکر ہسپتالوں سے ڈسچارج ہوچکے ہیں۔

خیال رہے کہ 13 مارچ کی سہ پہر تک کورونا وائرس سے دنیا کے مختلف ممالک میں ایک لاکھ 31 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے جن میں سے 68 ہزار سے زائد صحت یاب ہوچکے ہیں جبکہ اب تک 4925 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ پاکستان میں اب تک 21 کیسز کی تصدیق ہوئی ہے جن میں سے 2 صحت یاب ہوچکے ہیں۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق کووڈ 19 کے شکار 80 فیصد افراد میں اس کی شدت زیادہ نہیں ہوتی اور صحت یابی کا امکان زیادہ ہوتا ہے تاہم معمر افراد یا کسی بیماری کے شکار لوگوں میں اس کی شدت زیادہ ہوتی ہے۔

مزید : بین الاقوامی