ممتاز دانشور،پیپلز پارٹی کے بانی کارکن اور سابق وزیر خزانہ مبشر حسن انتقال کرگئے

ممتاز دانشور،پیپلز پارٹی کے بانی کارکن اور سابق وزیر خزانہ مبشر حسن انتقال ...
ممتاز دانشور،پیپلز پارٹی کے بانی کارکن اور سابق وزیر خزانہ مبشر حسن انتقال کرگئے

  



لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما ڈاکٹر مبشر حسن لاہور میں انتقال کرگئے۔ نجی ٹی وی 92نیوز کے مطابق وہ کئی دن سے علیل تھے آج صبح ان کی طبیعت اچانک بگڑ گئی۔اٹھانوے سالہ مبشر حسن کو ہسپتال لے جایا گیا مگر وہ جانبر نہ ہوسکے اور خالق حقیقی سے جاملے۔

مبشر حسن پیپلز پارٹی کے بانی کارکنا ن میں شامل تھے اور ذوالفقار علی بھٹو نے انہی کے گھر میں ہی پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی تھی۔مبشر حسن کا ذوالفقار علی بھٹوکے انتہائی قریبی ساتھیوں میں ان کا شمار ہوتا تھا۔

ڈاکٹر مبشر حسن پاکستان کے ممتاز دانشور ،سائنس دان، سول انجینئر، استاد، سیاست دان، محقق، مبصر، صحافی، تجزیہ نگار ہیں۔ وہ پاکستان کے وزیر خزانہ اور مشیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی بھی رہ چکے ہیں۔

مبشر حسن 22 جنوری 1922 کو پانی پت، ہریانہ، پنجاب، برطانوی ہند میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم وہیں سے حاصل کی اور سول انجینئری میں گریجویشن کی ڈگری پائی۔ 1950 میں وہ امریکا چلے گئے اور آئیووا اسٹیٹ یونیورسٹی،امریکا (Iowa State University)سے سول انجینئری میں ماسٹر کیا۔ اور اس کے بعد پی ایچ ڈی کی غرض سے ایک مقالہ بعنوان (fundamental problems and their solution on Hydraulic engineering, a sub-discipline of civil engineering) مکمل کر کے پیش کیا اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ مغربی پاکستان واپس آنے کے بعد لاہور میں انجینئری اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی میں بحیثیت استاد سول انجینئری کے شعبہ سے وابستہ ہوئے۔ تدریس ان کا زندگی بھر کا شوق رہا ہے۔

1965 میں پاک بھارت جنگ نے ڈاکٹر مبشر حسن کی فکری نہج کو ایک نئی راہ دی اور 1967 میں ان کی سیاسی زندگی کا آغاز ہوا۔ انہوں نے ایک سیاسی منشور بعنوان "A Declaration of Unity of People"شائع کروایا۔ جو مشرقی پاکستان میں ٹیکنو ڈیموکریٹک سوشلزم کی حمایت میں لکھا گیا تھا۔ اس دوران میں وہ ڈھاکہ یونیورسٹی میں انجینئیرنگ فزکس پر لیکچر دے رہے تھے۔ ڈاکٹر مبشر حسن کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو دیکھ کر 1967 میں ڈاکٹر مبشر حسن ہی کے گھر پر ہونے والے ایک تاسیسی کنونشن میں ذو الفقار علی بھٹو نے پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی تھی۔

سائنس اور سیاست میں گہرے علم اور مشاہدے کے باعث ڈاکٹر مبشر حسن بہت جلد ذو الفقار علی بھٹو کے نزدیک ترین اور معتمد ترین مشیر مقرر ہوئے۔1971 کی جنگ کے بعد ڈاکٹر مبشر حسن(24 دسمبر، 1971ئ تا 22 اکتوبر، 1974ئ ) پاکستان کے دسویں وزیر خزانہ رہے ہیں۔ بھٹو کی پہلی کابینہ میں بحیثیت وزیر خزانہ انہوں نے بجٹ میں تعلیم اور صحت کے لیے ریکارڈ رقوم مختص کیں۔

1972 میں بحیثیت وزیر خزانہ ڈاکٹر مبشر حسن نے سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت تشکیل دینے میں ذوالفقارعلی بھٹو کی بہت معاونت کی۔1972 میں ہی انہوں نے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے تحت پاکستان میں ایٹمی منصوبے کے سلسلے میں عملی اور سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کیا اور ذوالفقارعلی بھٹو کی خواہش کے مطابق ڈاکٹر مبشر نے اس سلسلے میں اہم اجلاس اور میٹنگز میں فعال کردار ادا کیا۔ 1974 میں ملک معراج خالد کی معطلی کے فیصلے نے ان کو کچھ حد تک سیاسی صورت حال سے مایوس کیا اور وہ1974 وزارتِ خزانہ سے مستغفی ہو گئے تاہم وہ ذو الفقار علی بھٹو کے سیاسی نصب العین سے متفق اور وفادار رہے۔

1974 میں انہیں ذو الفقار علی بھٹو نے وزیر اعظم سیکریٹیریٹ میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے امور کا مشیر مقرر کیا۔ ڈاکٹر مبشر حسن نے وزارتِ سائنس میں ڈائریکٹر کی حیثیت سے اہم اور مثالی کردار ادا کیا۔ اور کہوٹہ پراجیکٹ کو مختلف پہلوو¿ں سے مننظم و مرتب کیا۔1976 میں پاکستان نیشنل الائنس کی سیاسی قیادت سے مذاکرات کی ناکام کوششوں کے نتیجے میں 1977 میں ملٹری پولیس نے ڈاکٹر مبشر حسن کی گرفتاری کا حکم دیا۔ انہیں اڈیالہ جیل میں ذو الفقار علی بھٹو کے ساتھ رکھا گیا۔ جہاں وہ ذو الفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد بھی سات سال تک قید رہے۔1984 میں رہائی پانے کے بعد ڈاکٹر مبشر حسن نے انجینئری اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی، لاہور میں شعبہِ انجینئری کے استاد کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں۔

1988 میں بے نظیر بھٹو نے انہیں وزارتِ خزانہ کا قلمدان سنبھالنے کی پیش کش کی جسے انہوں نے بعض سیاسی اختلافات کے باعث رد کر دیا۔ بعد میں پاکستان پیپلز پارٹی (مرتضی بھٹو گروپ)کا جب آغاز ہوا تو ڈاکٹر مبشر حسن بھی اس سے وابستہ ہوئے۔

اگرچہ ڈاکٹر مبشر حسن نے بحیثیت سیاست دان عملی طور پرسیاسی امور میں شرکت سے ریٹائر منٹ اختیار کر لی تاہم تشکیلِ معاشرہ کے لیے اپنا قلمی جہاد جاری رکھا اور بہت سے آرٹیکلز اپنے شعبہ انجینئری کے لیے رقم کیے۔ انہوں نے ملک کے معاشی مسائل سے متعلق بھی بہت کچھ لکھا۔ ان کے آرٹیکلز انگریزی جریدہ دی نیوز انٹرنیشنل میں باقاعدگی سے شائع ہوتے رہے ہیں۔ وہ روزنامہ دنیا میں بھی باقاعدگی سے کالم لکھتے ہیں۔

مزید : قومی