کورونا کیخلاف جنگ،دنیا کے وہ تمام ممالک جہاں ایمرجنسی نافذ کردی گئی،موذی وائرس کا نیا مرکز بھی سامنے آگیا

کورونا کیخلاف جنگ،دنیا کے وہ تمام ممالک جہاں ایمرجنسی نافذ کردی گئی،موذی ...
کورونا کیخلاف جنگ،دنیا کے وہ تمام ممالک جہاں ایمرجنسی نافذ کردی گئی،موذی وائرس کا نیا مرکز بھی سامنے آگیا

  



میڈرڈ(ڈیلی پاکستان آن لائن)عالمی برادری کورونا وائرس کے خلاف صف آرا ہوگئی۔اٹلی، سلواکیہ، ہنگری، چیک ری پبلک ،بلغاریہ اور امریکا کے بعد سپین نے بھی ملک بھرمیں ایمرجنسی نافذ کردی۔چین اوراٹلی کے بعد کروناوائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک سپین بن گیاہے جہاںپندرہ روز کیلئے ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کیاگیاہے جبکہ یورپ کو کورونا کا نیا مرکز قرار دیاجارہاہے۔

ہسپانوی وزیراعظم نے ملک بھر میں ہائی الرٹ جاری کرتے ہوئے فوج کو تعینات کرنے کااعلان کیاہے۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق سپین میں ایمرجنسی کے نفاذ سے لوگوں کے تمام معاملات زندگی کو محدود کردیا جائے گا جبکہ یہ ایمرجنسی حکومت کو اس بات کا اختیاربھی دے دے گی کہ وہ لوگوں کے گھروں کے علاوہ فیکٹریاں کاروبار، صنعتیںجو چاہے اپنے قبضہ میں لے سکتی ہے جن علاقوں کو چاہے خالی کراسکتی ہے۔

رپورٹس کا جائزے سے پتہ چلتا ہے کہ براعظم یورپ کورونا وائرس کا نیا مرکز بن گیا ہے جہاں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 35 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔

چین کے بعد اٹلی کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ اٹلی میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 17 ہزار سے زیادہ ہو چکی ہے اور وائرس سے 1244 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔اٹلی میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں کورونا وائرس سے 250 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔اٹلی کے بعد سپین میں کورونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے۔ سپین میں کورونا وائرس سے مرنے والوں کی کل تعداد 122 ہو چکی ہے جبکہ متاثرہ افراد کی تعداد42سو ہوگئی ہے۔گزشتہ روز 35 ہسپانوی باشندوں کی ہلاکت رپورٹ کی گئی جبکہ چین جہاں سے کورونا وائرس کا آغاز ہو ا تھا، وہاں اس کا پھیلاو¿ تھم گیا ہے۔

چین میں گزشتہ روزآٹھ افراد کی ہلاکت رپورٹ کی گئی تھی جبکہ 22 نئے مریض سامنے آئے ہیں۔ چین اور اٹلی کے بعد ایران کورونا وائرس سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔ایران میں کورونا وائرس کے گیارہ ہزار سے زیادہ مریض ہیں اور گذشتہ چوبیس گھنٹوں میں 85 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

یاد رہے دنیا بھر میں کووڈ-19 نامی اس وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد ایک لاکھ 42 ہزار سے بڑھ چکی ہے جبکہ 5300 سے زیادہ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔

مزید : اہم خبریں /بین الاقوامی