اقوام متحدہ کی پوری دنیا سے وباء کیخلاف اعلان جنگ کرنے کی اپیل،چینی صدرکا اٹلی کی بھر پور حمایت کا اعلان لیکن چین میں اب کیا صورتحال ہے؟

اقوام متحدہ کی پوری دنیا سے وباء کیخلاف اعلان جنگ کرنے کی اپیل،چینی صدرکا ...
اقوام متحدہ کی پوری دنیا سے وباء کیخلاف اعلان جنگ کرنے کی اپیل،چینی صدرکا اٹلی کی بھر پور حمایت کا اعلان لیکن چین میں اب کیا صورتحال ہے؟

  



بیجنگ/ووہان/منیلا/سیول/واشنگٹن/جنیوا(شِنہوا) دنیا بھر میں کرونا وائرس سے ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے ،اقوام متحدہ نے پوری دنیا سے کرونا وائرس کیخلاف جنگ کااعلان کرنے کی اپیل ،عالمی ادارہ صحت کی جانب سے یورپ کو اس عالمی وبا کا نیا مرکز قرار دیے جانے کے بعد کئی ملکوں نے اپنی سرحدیں بند کر دیں،فلپائن نے کرونا وائرس کا پھیلا ﺅروکنے کےلئے منیلا میں کرفیونافذکردیا،امریکہ میں آئی ایم ایف کے ہیڈ کوآرٹر کے ایک ملازم میں کروناوائرس کی تشخیص ہوئی ہے جبکہ چینی صدرنے نوول کرونا وائرس کیخلاف جنگ میں اٹلی کی بھر پور حمایت کا اعلان کیا ہے ۔چین میںنوول کرونا وائرس کے مریضوں میں مسلسل کمی آرہی ہے ۔

ہفتہ کو چین کے محکمہ صحت نے کہا ہے کہ چینی مین لینڈ پر جمعہ کو نوول کرونا وائرس کے مزید11مصدقہ مریضوں اور 13ہلاکتوں کی رپورٹس موصول ہوئی ہیں۔ قومی صحت کمیشن کے مطابق تمام ہلاکتیں صوبہ ہوبے میں ہوئیں۔اسی دوران 17نئے مشتبہ مریض بھی سامنے آئے۔جمعہ کو ہی 1ہزار430 افراد کو صحت یاب ہونے پر ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا جبکہ شدید بیمار افراد کی تعداد 410کمی کے بعد 3ہزار610 رہ گئی۔جمعہ کے آخر تک مین لینڈ پر کل تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 80ہزار824تک پہنچ گئی جن میں سے 12ہزار94مریضوں کا تاحال علاج جاری ہے جبکہ صحت یاب ہونے والے 65ہزار 541 مریضوں کو ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔ بیماری کی وجہ سے 3ہزار189افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔کمیشن نے کہا کہ 115افراد کے وائرس سے متاثر ہونے کا تاحال خدشہ ہے جبکہ 10ہزار879 قریبی رابطہ کار تاحال طبی نگرانی میں ہیں، جمعہ کو 2ہزار174افراد کو طبی نگرانی سے فارغ کردیا گیا۔کمیشن نے کہا کہ جمعہ کو مین لینڈ پر7درآمدی کیسز کی اطلاعات بھی موصول ہوئی جن میں سے 4 شنگھائی میں، 2 صوبہ گانسو اور ایک بیجنگ میں ہے۔جمعہ کے آخر تک درآمدی مریضوں کی تعداد 95 ہوچکی ہے۔جمعہ کے آخر تک ہانگ کانگ خصوصی انتظامی علاقہ میں4ہلاکتوں سمیت 137مصدقہ مریض، مکا خصوصی انتظامی علاقہ میں 10اور تائیوان میں ایک ہلاکت سمیت 50 مصدقہ مریض سامنے آچکے ہیں۔ہانگ کانگ میں78، مکا میں10 اور تائیوان میں 20 مریضوں کو صحت یاب ہونے پر ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔فلپائن نے کرونا وائرس کا پھیلا ﺅروکنے کےلئے منیلا میں کرفیونافذکرنے کا اعلان کیا ہے ۔

ہفتہ کوبلدیہ منیلا ڈویلپمنٹ اتھارٹی(ایم ایم ڈی اے)نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کا پھیلاﺅ روکنے کےلئے اتوار سے فلپائن کی بلدیہ منیلا میں کرفیو کا نفاذ کیا جائیگا۔یہ انکشاف کیا گیا کہ کرفیو کا نفاذ رات 8 بجے سے صبح 5 تک ہو گا جو 15 مارچ سے 14اپریل تک جاری رہے گا۔فلپائن میں کرونا وائرس کے 64 مریضوں کی تصدیق ہو چکی ہے جس میں 6اموات بھی شامل ہیں۔بلدیہ منیلا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے بونگ نیبریجا نے ایک نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ وائرس کے پھیلا کو محدود کرنے کےلئے ہمیں لوگوں کی نقل وحرکت محدود کرنی ہو گی۔بلدیہ منیلا شہر اور قصبے کے حکام نے کرفیو کو متفقہ طور پر منظور کر لیا ہے۔نیبریجا نے کہا کہ وہ افراد جو کرفیو کے اوقات میں نوکری یا کوئی ضروری کام کررہے ہوں انہیں باہر نکلنے کی آزادی ہو گی ، ان افراد میں نوکری پیشہ ، طبی اہلکار ،سپر مارکیٹس اور اشیائے ضروریہ کی دکانوں پر کام کرنے والے افراد ودیگر شامل ہیں۔

ادھر انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ(آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ اس کے واشنگٹن ڈی سی میں ہیڈکوارٹر عملہ کے ایک رکن میں وبائی کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔آئی ایم ایف پیرس سنٹر کی جانب سے بھیجی گئی ایک ای میل کے مطابق ملازم کو تنہائی میں رکھا گیا ہے اور مناسب طبی نگہداشت فراہم کی جا رہی ہے اور ہم مقامی حکام کے ساتھ مل کر ملازم کے ساتھ قریبی تعلق رکھنے والے اور مبینہ متاثرہ افراد کی شناخت کےلئے کام کر رہے ہیں۔ای میل میں کہا گیا ہے کہ کرونا وائرس سے متعلق تیزی سے ہونیوالی پیش رفت کے طور پر ہیڈکوارٹر کے عملہ کو اگلے حکم تک گھر سے ہی کام کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے جس کا اطلاق فوری ہوگا۔جمہوریہ کوریا میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے مزید 107 کیسز سامنے آ گئے ہیں جس کے بعد مریضوں کی مجموعی تعداد 8ہزار 86 ہو گئی ہے ۔

یہ اعلان ہفتہ کو مقامی وقت کے مطابق نصف شب کو کیا گیا۔جمہوریہ کوریا میں مسلسل تیسرے دن نئے کیسز کی تعداد 200سے نیچے رہی جہاں جمعرات کو 114 اور جمعہ کو 110 مریض رپورٹ ہوئے۔پانچ مزید اموات بھی رپورٹ ہوئی ہیں جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 72 ہو گئی، اموات کی مجموعی شرح 0.84 فیصد ہے۔مکمل صحت یابی کے بعد کل 204 مریضوں کو قرنطینہ سے فارغ کیا گیا ہے جس کے بعد مجموعی تعداد 714 ہو گئی۔گزشتہ کچھ ہفتوں سے وائرس کا پھیلا بڑھ گیا ہے۔شمال مغربی چین کے سنکیانگ ویغور خود اختیار علاقہ نے کرونا وائرس کا پھیلا ﺅ روکنے کی کوششوں کیلئے 2ارب40 کروڑ یوآن(33 کروڑ 80 لاکھ امریکی ڈالر) مختص کردیئے۔

علاقائی محکمہ خزانہ کے مطابق اس فنڈز کا ایک حصہ وائرس سے متاثر ہونے والے 76 مریضوں کے علاج اور اگلے محاذ پر کام کرنے والے طبی کارکنوں کیلئے ڈیوٹی سبسڈی کیلئے استعمال کئے گئے ہیں۔ان فنڈز سے ان لوگوں کی مالی مدد کی گئی ہے جن کی زندگیاں اس وبا کی وجہ سے متاثر ہوئی ہیں یا وہ کاروباری ادارے جنہوں نے معذور افراد کو ملازمت دے رکھی ہے یا جو وبا پر قابو پانے میں ضروری اشیا تیار کرتے ہیں۔اس کے علاوہ علاقائی حکام نے ٹیلی مواصلات کیلئے 6 کروڑ 50 لاکھ یوآن اور علاقے کے باہر سے سبزیاں لانے پر آنے والی لاگت کیلئے 40 لاکھ یوآن مختص کئے گئے ہیں۔چین کے صدر شی جن پھنگ نے کہاہے کہ چین اور اس کے عوام نوول کرونا وائرس کیخلاف جنگ میں اٹلی کی بھر پور حمایت کرتے ہیں۔

اٹلی کے صدر سیرگیو ماٹریلا کو بھیجے گئے ہمدردی کے ایک پیغام میں شی نے کہا کہ اس مشکل وقت میں چین اٹلی کے ساتھ تعاون کرنے اور مدد کی پیشکش کرنے کیلئے تیار ہے۔دوسری جانب عالمی ادارہ صحت کے سربراہ کا کہنا ہے کہ اموات اور نئے کیسز رپورٹ ہونے کے اعتبار سے چین کے سوا اب تک یورپ دنیا کے مقابلے میں نوول کرونا وائرس مرض کا مرکز بن چکا ہے۔ اپنی روزانہ بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ یہاں اب چین میں اس وبا کے عروج پر ہونے کی نسبت روزانہ زیادہ سے زیادہ نئے کیسز سامنے آ رہے ہیں۔ٹیڈروس نے اس بات کی نشاندہی کی کہ یہ ایک افسوسناک سنگ میل ہے کہ دنیا بھر میں کرونا وائرس سے 5ہزار افراد کی موت ہوچکی ہے جبکہ 123 ممالک اور خطوں سے 1لاکھ 32ہزار سے زائد کیسز ڈبلیو ایچ او کو رپورٹ ہوئے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وبا کسی سے بھی ہو سکتی ہے ، تمام ممالک کو جامع نقطہ نظر اپنانا چاہیئے۔ٹیڈروس نے خبردار کیا کہ کوئی بھی ملک جو وبائی مرض کے شکار دوسرے ملک کو دیکھ کر یہ سوچتا ہے کہ یہ ہمارے ساتھ نہیں ہو گا وہ ایک مہلک غلطی کر رہا ہے۔

مزید : بین الاقوامی