میر شکیل الرحمن اور نوازشریف

میر شکیل الرحمن اور نوازشریف
میر شکیل الرحمن اور نوازشریف

  



تحریر: ذکاءاللہ محسن

سیاسی ہتھکنڈے بھی بڑے ظلم ڈھاتے ہیں گزشتہ روز جیو اور جنگ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمن کو نیب نے گرفتار کیا اور بارہ روزہ ریمانڈ بھی حاصل کر لیا جس کے بعد نیب اور حکومتی حلقوں کی جانب سے وضاحتی بیان دیا گیا کہ " سابق وزیراعظم نوازشریف جب 34 سال قبل پنجاب کے وزیراعلیٰ تھے انہوں نے میر شکیل الرحمن کو فائدہ پہنچایا اور میر شکیل الرحمن کی جانب سے خریدے گئے پلاٹوں کی غلط الاٹ منٹ کی گئی جس کی وجہ سے گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے. 

بات یہاں ختم نہیں ہوتی نیب اور حکومت کی جانب سے عوام کے اندر یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ نوازشریف اور میر شکیل الرحمن کا گٹھ جوڑ ہے جس کی وجہ سے جیو اور جنگ حکومت کے خلاف بولتے اور لکھتے ہیں مگر یہ تاثر اس وقت قابل توجہ ہوسکتا تھا جب ملک کے اندر " تبدیلی " رونما ہوچکی ہوتی اور ریاست مدینہ کی ریاست بن چکی ہوتی اور عوام مسائل کی دلدل سے نکل کر خوشحال زندگی بسر کر رہے ہوتے مزدور کے گھر کا چولہا ٹھنڈا نا پڑا ہوتا اور کسان کو اپنی فصل کی فکر نا ہوتی نوجوان طبقے کو کروڑوں نوکریاں مل چکی ہوتیں اور لاکھوں گھر بننے کے آخری مراحل میں ہوتے تو یقیناََ نیب اور حکومت جو بھی دعوی کرتے عوام آنکھیں بندکرکے اس پر یقین کر لیتی مگر اب ایسا ممکن نہیں ہے ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم کے انٹرویو سے لیکر چیرمین نیب کی ویڈیو لیک ہونے تک اور نیب کی جانب سے اپوزیشن رہنماؤں کی گرفتاریوں پر جیو کے تبصرہ نگاروں کے تبصروں اور خبروں سے نا تو حکومت خوش تھی اور نا ہی نیب خوش نظر آتی تھی جس کی وجہ سے میر شکیل الرحمن کو گرفتار تو کیا ہی جانا تھا اور ان کا تعلق نوازشریف سے جوڑ کر جنگ اور جیو کی رپورٹنگ اور پروگراموں کے اثر کو کم کرنا تھا مگر ماضی قریب میں ہی جب وزیراعظم عمران خان ڈی چوک میں دھرنا دئیے بیٹھے تھے وہ تب بھی کہتے پائے جاتے تھے کہ " میر شکیل الرحمن میں تجھے نہیں چھوڑوں گا " جیو اور جنگ اخبار کا بائیکاٹ کر دیا جائے " اور آج جب عمران خان طاقت میں ہیں تو انہوں نے اپنا وعدہ پورا کر دیکھایا ہے. 

نوازشریف کو بھولے بادشاہ کہنے والے عمران خان خود جتنے بھولے ہیں اس کا احساس شاید انہیں نہیں ہے کیونکہ ان کی اپنی کابینہ میں ٹیکس چور اور نیب زدہ افراد بیٹھے ہیں جن پر وزیراعظم کی نا تو نظر پڑتی ہے اور نا ہی وزیراعظم کو ان کی کرپشن اور کالے کرتوت نظر آتے ہیں اسے بھولاپن ہی کہا جائے تو زیادہ مناسب رہے گا کیونکہ عمران خان اپنی دھن کے ایسے پکے انسان ہیں کہ نیب کی جانب سے اپوزیشن جماعتوں کے رہنماوں کے خلاف نیب نت نئے ریفرنس نکلتے ہیں اور انکی گرفتاری سے قبل حکومتی وزیر پیش گوئی کرتے ہیں اور پھر سیاسی رہنما گرفتار ہوکر نیب کی حراست میں بھی کئی کئی ماہ رہتے ہیں مگر آخرکار جب نیب کے پاس ان کے حوالے سے کچھ نہیں نکلتا تو ہائی کورٹ سے انہیں ریلیف مل جاتا یے اور وہ باعزت ضمانت پر باہر آجاتے ہیں اسی طرح نیب بھی بڑی بھولی ہے کیونکہ جیسے ہی ہائی کورٹس سے سیاست دانوں کو ضمانت ملتی ہے تو نیب کا بیان سامنے آتا ہے کہ ہم سپریم کورٹ میں اس ضمانت کے خلاف اپیل دائر کریں گے کئی کئی ماہ زیر حراست رکھنے اور تفتیش کرنے کے بعد بھی اگر نیب کے ہاتھ کچھ نہیں آتا تو پھر سپریم کورٹ میں اپیل کرکے بھی کچھ ہاتھ آنے والا نہیں، ایسا ہی کچھ میر شکیل الرحمن کے کیس میں بھی ہونے جا رہا ہے میر شکیل چاہے نوے روزہ ریمانڈ پر نیب کی حراست میں رہیں یہ بہت بڑی حقیقت ہے کہ وہ بھی کسی دن ہائی کورٹ سے ضمانت پر رہا ہوکر باہر آجاہیں گے اور نیب پھر سے سپریم کورٹ جانے کا بیان داغ دے گی مگر میرے نزدیک میر شکیل الرحمن کی گرفتاری اہم نہیں ہے حکومت اور نیب جیو اور نوازشریف کے تعلق کو بنا کر عوام کے سامنے پیش کرنا چاہتی ہے جبکہ حکومت کے اپنے ایسے بہت سے مشئیر ہیں جو نجی ٹی وی چینلز کے مالکان بھی ہیں جن کے ذریعے کبھی نیب چیرمین کے خلاف ویڈیو لیک کروائی جاتی ہے تو کبھی حکومت کے مورال کو بلند کرنے کا کام بھی لیا جاتا ہے ۔

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

.

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ