حکومتی ہدایات غیر شرعی اور اللہ پر توکل کے خلاف نہیں،کرونا وائرس کے حوالے سے بڑا فتویٰ جاری

حکومتی ہدایات غیر شرعی اور اللہ پر توکل کے خلاف نہیں،کرونا وائرس کے حوالے سے ...
حکومتی ہدایات غیر شرعی اور اللہ پر توکل کے خلاف نہیں،کرونا وائرس کے حوالے سے بڑا فتویٰ جاری

  



لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)دارالافتاء پاکستان (رجسٹرڈ) ، پاکستان علما کونسل اور وفاق المساجد و المدارس کے قائدین حافظ محمد طاہر محمود اشرفی ، مولانا اسد زکریا قاسمی ، علامہ عبد الحق مجاہد، مولانا محمد رفیق جامی ، مولانا عبدالکریم ندیم، مولانا محمد شفیع قاسمی، مولانا محمد ایوب صفدر، مولانا نعمان حاشر ، مولانا اسد اللہ فاروق ، ، قاضی مطیع اللہ سعیدی، مفتی عمر فاروق، مفتی حفیظ الرحمن ، مفتی عمران معاویہ، مولانا محمد نواس، علامہ طاہر الحسن ، مولانا اسید الرحمن سعید، مولانا اسلم صدیقی ، مولانا پیر اسعد اللہ شاہ جمالی، مولانا ابو بکر صابری ، مولانا طاہر عقیل اعوان، مولانا محمد حسین درخواستی، مولانا عمار نذیر بلوچ، مولانا سعد اللہ شفیق، مولانا شکیل الرحمن قاسمی اور دیگر نے عوام الناس کیلئے پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ کرونا وائرس کی وبا سے متعلق حکومت سے جاری ہونے والی احتیاطی تدابیر پر مکمل عمل کریں، یہ ہدایات شریعت اسلامیہ کی تعلیمات کے عین مطابق ہے ۔

علماء و مشائخ و مفتیان عظام نے کہا کہ کرونا کی وبا عام ہو رہی ہے اور یہ وائرس پوری دنیا میں پھیل چکا ہے، اس کی روک تھام اور خود محفوظ رہنے اور دوسروں کو محفوظ کرنے کیلئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا وقت اور حالات کا تقاضہ ہے اور شریعت اسلامیہ اس کا حکم دیتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ تصور کہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے میں اللہ پر توکل کرنے کی خلاف ورزی ہوتی ہے،درست نہیں ہے،رسول کریم ﷺ نے حکم دیا ہے کہ ایسے موقع پر احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں، آپ ﷺ نے طاعون کے بارے میں یہ فرمایا تھا کہ جب کسی جگہ طاعون پھیلے تو باہر کے لوگ اندر اور اندر کے لوگ باہر نہ آئیں،لہذا احتیاطی تدابیر اختیار کرنا اللہ پر توکل کی خلاف ورزی نہیں ہے۔

دارالافتاءپاکستان اورپاکستان علماء کونسل کے قائدین نے کہا ہے کہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنا شریعت کا تقاضہ ہے، حکومت اور محکمہ صحت کی طرف سے جو ہدایات جاری کی گئیں ان کی پابندی شرعی اعتبار سے ضروری اور مناسب ہے۔قائدین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کسی مصلحت کے تحت کوئی حکم دے تو سب پر اس کی پابندی لازم ہوجاتی ہے، بالخصوص بڑے اجتماعات میں وائرس کے پھیلنے کے خطرات زیادہ ہیں، اس لیے شادی بیاہ بڑے اجتماعات موخر کریں اور اگر بہت ضروری ہے تو ان کو بالکل ہی مختصر کریں،اسی طرح سکولز ، کالجز اور مدارس میں چھٹیاں کرنے کی حکومتی فیصلے کی بھی تائید کی جاتی ہے۔

علماء و مشائخ و مفتیان عظام کا کہنا تھا کہ باجماعت نمازوں کے حوالے سے اس بات کا خیال رکھا جائے کہ نمازکی سنتیں گھر سے ادا کر کے آئیں اور نماز کے بعد کی سنتیں بھی مسجد کے بجائے گھر جاکر ہی ادا کریں کیونکہ گھر میں سنتیں پڑھنا زیادہ افضل ہے۔ انہوں نے اپیل کی کہ نمازی حضرات وضو بھی گھر سے ہی کر کے آئیں، آئمہ کرام نمازِ جمعہ اور دیگر نمازوں میں اختصار سے کام لیں کیونکہ ضرورت کے وقت عبادات کو مختصر کرنا ہی بہتر ہے۔علماءو مفتیان عظام نے کہا ہے کہ ’اگر خدانخواستہ وباء زیادہ پھیل جائے یا اس کا خطرہ ہے تو محکمہ صحت کی ہدایت کے مطابق مصافحہ (ہاتھ ملانے) سے بھی پرہیز کریں، زبانی سلام و دعا کریں، ایسی صورتحال میں جو کام شرعی طور پر فرض اور واجب نہیں تو انہیں وبا کی وجہ سے چھوڑنے میں کوئی مضحکہ نہیں ہے، ہمیں رسول کریم ﷺکی ہدایات کے عین مطابق خود ہی ان باتوں کا اہتمام کرنا چاہیے، یہ اپنے لیے بہتر ہے اور دوسروں کو وبا سے محفوظ رکھنے کا طریقہ بھی ہے،شریعت اسلامیہ خطرات ، وباء اور امراض سے خود بھی محفوظ رہنے اور دوسروں کو محفوظ کرنے کا حکم دیتی ہے ۔علماء و مشائخ و مفتیان نے اپیل کی کہ عوام الناس استغفار ، درود شریف ، آیت کریمہ کا ورد زیادہ سے زیادہ کریں اور صدقات و خیرات کا اہتمام کریں۔

مزید : قومی