چین کا وہ اقدام جس کی وجہ سے کرونا وائرس لمبے عرصے تک دنیا میں نہ پھیل سکا، نئی تحقیق میں دلچسپ انکشاف

چین کا وہ اقدام جس کی وجہ سے کرونا وائرس لمبے عرصے تک دنیا میں نہ پھیل سکا، ...
چین کا وہ اقدام جس کی وجہ سے کرونا وائرس لمبے عرصے تک دنیا میں نہ پھیل سکا، نئی تحقیق میں دلچسپ انکشاف

  



ووہان (ڈیلی پاکستان آن لائن) سائنسدانوں کی جانب سے کرونا وائرس پر کی جانے والی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ چین کے ووہان شہر کو لاک ڈاﺅن کرنے کے فیصلے کے باعث یہ لمبے عرصے تک باہر کی دنیا میں نہیں پھیل پایا۔

انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق چین نے ووہان شہر میں کرونا وائرس آتے ہی اس کو لاک ڈاﺅن کرکے قومی ایمرجنسی نافذ کردی جس کے باعث یہ کم از کم تین دن دوسرے کسی شہر میں نہیں پھیل پایا، چین یہ قدم نہ اٹھاتا تو ووہان سے باہر فروری کے وسط تک کم از کم 7 لاکھ 44 ہزار لوگ کرونا وائرس کا شکار ہوسکتے تھے۔

ووہان پر سفری پابندیاں عائد کرنے کے باعث 2 لاکھ 2 ہزار لوگ کرونا وائرس سے محفوظ ہوئے ، اس عرصے کے دوران دوسرے لوگوں کو موقع ملا اور انہوں نے احتیاطی تدابیر اختیار کرکے کرونا وائرس سے جان بچالی۔

یہ تحقیق چین کے 15 اداروں کے 22 سائنسدانوں نے کی ہے، اس تحقیق کو ابھی تک پرنٹ نہیں کیا گیا جس کے باعث یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس میں پیش کیے گئے اعدادو شمار پر بحث ہوسکتی ہے۔ چین کی جانب سے ہوبائی صوبے کو اس کے دارالحکومت ووہان سمیت لاک ڈاﺅن کرکے 5 کروڑ سے زائد لوگوں کی زندگیوں کو محدود کیا گیا جس کی ڈبلیو ایچ او نے بھی تعریف کی۔

چین کے اقدامات کے باعث مین لینڈ چائنہ میں کرونا وائرس کے کیسز میں تیزی سے کمی آتی جارہی ہے، ہفتے کے روز چین میں کرونا کی وجہ سے 13 ہلاکتیں ہوئی ہیں جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 3 ہزار 189 تک پہنچ گئی ہے۔ چینی محکمہ صحت نے ہفتہ کو بتایا کہ جمعہ تک مین لینڈ میں کرونا وائرس کے مجموعی کیسز کی تعداد 80 ہزار 824 ہوگئی تھی۔

مزید : بین الاقوامی