مقبوضہ کشمیر میں  بھارتی فوج نے خواتین پر مظالم کی  انتہا کر دی

مقبوضہ کشمیر میں  بھارتی فوج نے خواتین پر مظالم کی  انتہا کر دی

  

کشمیر کے مظلوم عوام 74 سال سے بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خلاف جدو جہد ِآزادی میں مصروف ہیں۔ اس طویل تحریک ِآزادی کے دوران نہتے کشمیریوں نے لاکھوں جانوں کی قربانی دی اور ہزاروں عصمتوں کو لٹایا۔ اس وقت کشمیر کا کوئی گھر ایسا نہیں کہ جس کا کوئی فرد بھارتی فوج کی درندگی کی بھینٹ نہ چڑھا ہو۔ ظالم بھارتی فوج نے اس تحریک ِآزادی کو دبانے کے لئے ہر حربہ آزمایا۔ ظلم وستم کے پہاڑ توڑے۔ اس سے بات نہ بنی تو کھوکھلے جھوٹے وعدے کیے اور پھر وقت آنے پر ان سے مکر گئے۔ بھارتی سرکار نے ہر دور میں مکارانہ حربوں سے آزادی کی آواز کو دبائے رکھا۔ جیسے جیسے وقت بڑھا، ویسے ویسے تحریک ِآزادی جموں و کشمیر کو تقویت ملی اور اب کشمیری مسلمانوں کی تیسری نسل پیلٹ گنوں سے جسم چھلنی کروا کر آزادی مانگ رہی ہے۔ حالیہ تحریک کے دوران سینکڑوں کشمیری بھارتی فوج کے ہاتھوں شہید ہو چکے ہیں۔ ہر آنے والے دن میں کسی ماں کا جوان بیٹا بھارتی فوج کے ہاتھوں قبر میں اُتر کر رات  کی صورت میں ڈھل جاتا ہے۔ اپنے ہاتھوں سے مائیں جوان بیٹوں کو قبر ستانوں کی طرف روانہ کررہی ہیں۔ با ہمت بیٹیاں اپنے باپوں کے لاشے اٹھا رہی ہیں اور دلیر بہنیں اپنے بھائیوں کو آزادی کے لئے شہید ہوتا دیکھ رہی ہیں،مگر ان قربانیوں سے ان کے عزم متزلزل ہونے کی بجائے مزید پختہ ہو رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب کشمیر کی آزادی کے لیے جو آواز وادی میں زیادہ گونج رہی ہے وہ دخترانِ کشمیر کی آواز ہے۔ 

یہ جذبہ تحریک ِآزادیئ کشمیرکی 74 سالہ تاریخ میں پہلی دفعہ دیکھنے کو مل رہا ہے کہ ہزاروں مائیں، بہنیں اور بیٹیاں سیاہ لباس میں ملبوس سڑکوں پر بھارتی فوجیوں کے سامنے ”ہم کیا مانگیں،آزادی“  کے نعرے لگا رہی ہیں۔ سکول و کالج کی طالبات اور ”دخترانِ ملت“ کی بیٹیاں کشمیرکی آزادی کے لئے ہر طرح سے آواز بلند کر رہی ہیں۔کشمیری خواتین میں بیدا ر ہونے والے اس جذبہئ آزادی نے بھارتی فوجیوں کو ہی نہیں بھارتی سرکار کو بھی تلملا کر رکھ دیا ہے۔ کشمیری خواتین کے اس جذبہئ آزادی سے تنگ بھارتی فوجی اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئے ہیں اور کشمیری خواتین کو ہراساں کرنے کے لئے انہوں نے بداخلاقی  کے ساتھ ساتھ ان کے بال بھی کاٹنا شروع کر دیئے ہیں۔

سری نگر سے شائع ہونے والے ”روزنامہ آفتاب“ نے اپنے ایک اداریے میں لکھا کہ کشمیری خواتین کے بال کاٹنے کے واقعات میں جو اضافہ ہو رہا ہے، اس پر عوامی حلقوں میں زبردست تشویش پائی جاتی ہے اور لوگ اب اپنی بہو، بیٹیوں کو گھروں ہی میں رکھنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ خاص طور پر طالبات اب سکولوں اور کالجوں میں جانے کی بجائے گھروں ہی میں رہنے کو ترجیح دے رہی ہیں۔  گزشتہ ڈیڑھ دو سال سے اس طرح کے واقعات رونما ہو رہے ہیں، لیکن حکومت لوگوں میں احساسِ تحفظ پیدا کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔  پورے کشمیر میں خواتین کے خلاف اس قدر بھیانک جرائم کا ارتکاب ہو رہا ہے، لیکن پولیس ابھی تک ایک بھی مجرم کو گرفتار نہیں کرسکی۔  لوگوں نے بہت سے مشتبہ افراد کو گرفتار کرکے پولیس کے حوالے کیا لیکن پولیس یہ کہہ کر ان کو چھوڑتی رہی کہ وہ بال کاٹنے کے واقعات میں  ملوث  نہیں۔

بھارت میں تو اس حوالے سے مکمل خاموشی ہے لیکن مقبوضہ کشمیر میں ایک حشر کا سا سماں ہے۔ خواتین اکیلے باہر نہیں نکل سکتیں، گھروں میں مرد رات کو پہرہ دیتے ہیں، دن کو  باہر ساتھ جاتے ہیں، تعلیم کے لیے اور کام پر جانے والی خواتین کی پہرہ داری پر باقاعدہ مرد ڈیوٹی دے رہے ہیں۔ جن خواتین اور لڑکیوں پر حملے ہوتے ہیں ان میں سے کئی ایک شدید صدمے کی حالت میں ہیں اور ذہنی امراض کا شکار ہیں۔ جو گھروں میں ہیں ہر وقت اسی خوف میں مبتلا ہیں کہ کوئی آکر ان کی چٹیا نہ کاٹ دے۔ اس پر مستزاد حملہ کرنے والے بھارتی فوجی اب صرف بال ہی نہیں کاٹتے بلکہ قتل تک کرنے کے لیے چھریاں استعمال کر رہے ہیں۔ خواتین کے زیورات لوٹ رہے ہیں اور گھروں میں ڈاکے ڈال رہے ہیں۔ کشمیری خواتین پر حالیہ حملوں پر تو عالمی سطح پر مکمل خاموشی ہے۔ حیران کن طور پر پاکستان میں بھی اس حوالے سے کوئی ردِ عمل دیکھنے اور سننے کونہیں ملا۔ پاکستان میں سرکاری طور پر تو مکمل خاموشی اختیار کی گئی کہ گویا مودی سرکار اور بھارتی فوج کے ظلم و ستم کے خلاف کوئی آواز نکالنا گناہِ کبیرہ ہے۔انڈین فوج کے ہاتھوں کشمیری عورتوں پر ہونے والے ان بے پناہ مظالم پر کشمیر کمیٹی بھی یوں چپ سادھے بیٹھی ہے جیسے منہ میں زبان ہی نہ ہو۔ سالانہ کروڑوں روپے کھا جانے والے کشمیر کمیٹی کے کرتا دھرتا مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے ظلم و ستم کی بابت چند بیانات دینا بھی گوارہ نہیں سمجھتے۔

مسلم دنیا میں کسی خاتون کے خلاف کسی بھی جرم کی جھوٹی خبر بھی شائع ہو جائے تو سارا عالم مل کر اس ملک کا جینا حرام کردیتا ہے۔ مگرمقبوضہ کشمیر میں ہزاروں باعصمت خواتین کی تذلیل کی گئی اور حالیہ وارداتیں تو تسلسل کے ساتھ جاری ہیں، لیکن سارا عالم منہ میں گھنگھنیاں ڈالے چپ سادھے بیٹھا ہے۔دنیا بھر کی خاموشی جانے کب ٹوٹے گی؟ کب کوئی کشمیر کے درد کو سمجھے گا؟ کشمیرکی بیٹیاں بھارتی فوج کے نشانے پر کب تک رہیں گی، کب ان کی عزتیں محفوظ ہوں گی، کشمیر کے مظلوم عوام بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خلاف جدوجہد ِ آزادی میں  اور کتنی جانوں کی قربانی دیں گے اور کتنی عصمتوں کو بھارتی فوج کی درندگی کی بھینٹ  چڑھانا ہو گا؟ 74سال سے بھارت کے غاضبانہ قبضے کے خلاف جدو جہد ِآزادی میں مصروف کشمیر کے مظلوم عوام  اور کتنے سال  ظلم سہیں کہ ان مظلوموں کی آواز عالمی برادری تک پہنچ سکے۔

             ٭٭٭

کشمیری خواتین میں بیدا ر ہونے والے 

جذبہ آزادی نے بھارتیوں کو تلملا کر رکھ دیا

 بھارتی سرکار نے ہر دور میں مکارانہ حربوں سے

 آزادی کی آواز کو دبائے رکھا

مزید :

ایڈیشن 1 -