کھنک جوشی، بے شمار اعزازات کی حامل

 کھنک جوشی، بے شمار اعزازات کی حامل

  

کھنک جوشی نے اتنی چھوٹی عمر میں صوفیانہ گائیکی میں جو مقام حاصل کر لیا ہے اس کی کم ہی کوء مثال ملے گی۔ اس کی مخصوص گھمبیر اور کھنکتی پرسوز آواز دیگر غیر صوفیانہ غزلوں اور گیتوں کے لئے بھی خوب موزوں ہے۔ اس کی غزلوں کے جو دو البم مارکیٹ میں آچکی ہیں اور تیسری عنقریب آنے والی ہیں وہ اس کا واضح ثبوت ہیں۔

ابھی ستمبر کے آخر میں اس کے گایا ہوا ایک گیت "تیرے رخت سفر " نے فیس بک سمیت پورے سوشل میڈیا پر دھوم مچا دی جو دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہو گیا۔ چند دنوں میں اس کو سننے والوں کی تعداد ایک لاکھ سے زائد ہو گئے اور اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کی شاعری اس فیچر کے مصنف کی ہے جس کی دھن استا د نصرت فتح علی خان کی تیار کردہ ہے۔ اس مقبول گیت کا مکھڑا یہ ہے

تیرا رخت سفر اتنا تھا پر اثر

شوق منزل جو دیکھا نشہ چھا گیا

تجھے پانے کا سپنا جو جگنو بنا

میریْ راتوں میں چمکا نشہ چھا گیا

ملک کے نامور فلم ڈائر یکٹر سید نور نے اسے ایک سدا بہار گیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے موسیقی کی دنیا میں اپنا مستقل مقام بنا لیا ہے۔یہ یقین کرنا بہت مشکل ہے کہ صوفی گائیکی میں اپنی منفرد پہچان بنانے والی کھنک جوشی ابھی صرف فرسٹ ائیر کی طالبہ ہے، اتنی چھوٹی عمر اور اتنا بڑا کمال، اسے اس پر خدا کا خاص کرم ہی کہا جاسکتا ہے۔ بے مثال ذہانت کی مالک یہ چھوٹی سی لڑکی ٹیچرز کی فیورٹ طالبہ بن چکی ہے۔ جن استادوں سے وہ کلاسیکل، نیم کلاسیکل، غزل اور صوفیانہ گائیکی کی تعلیم حاصل کرتی ہے ان کے سامنے جب وہ سٹیج پر اپنے فن کے جوہر دکھاتی ہے تو انہیں حیران کردیتی ہے۔ سٹیج شوز میں وہ اپنی مخصوص آواز سے پہلے ہی مقبولیت حاصل کرچکی تھیں، لیکن اب اس کی گائی اور کمپوز کی ہوئی البموں کے مارکیٹ میں آنے سے اس کی شہرت میں مزید اضافہ ہو چکا ہے اور یوٹیوب پر انہیں پسند کرنے والوں کی تعداد لاکھوں تک پہنچ چکی ہے۔

کھنک مہاراشٹر کے ایک چھوٹے سے قصبے شرولی میں 18 مئی 2006 ء کو پیدا ہوئی جس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی عمر ابھی صرف پندرہ سال ہے اس کے والد راجیش اور والدہ کومل نے اس کی تربیت پر خصوصی توجہ دی ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ موسیقی میں اس کی بچپن میں ہی اتنی دلچسپی تھی کہ صرف تین سال کی عمر میں اس نے اسے موسیقی کی تربیت شروع کرا دی گئی تھی اس کے سب سے پہلے استاد پنڈت ونود کوشک، شری آر پی سنگھا اور ووشی اماگارگ تھے۔ ان کے والد کا آبائی تعلق ہریانہ سے تھا۔ جہاں ان کے دادا ڈینٹل سرجن تھے۔ راجیش خود ایک اچھے رائٹر اور دانشور ہیں جو اپنی اس دلچسپی کی وجہ سے ممبئی کے قریب منتقل ہوگئے۔ کھنک موسیقی میں دلچسپی کے ساتھ ساتھ اپنے ابتدائی سکول میں بھی انتہاء ذہین طالبہ کے طور پر جاتی تھی پھر ایک موقع ایسا آیا جب نامور موسیقار اور سنگر شنکر مہادیوان نے 2013ء میں بنگلور کے ایک اہم سکول کے تعاون سے عالمی سطح پر ٹیلنٹ ہنٹ مقابلے میں اول پوزیشن حاصل کی۔ اسکو وظیفہ ملا اور کھنک کا گھرانہ اس کی وجہ س ے بنگلور چلا آیا۔ 2018ء میں وظیفہ مکمل ہونے کے بعد وہ آٹھویں جماعت میں گلوبل سٹی انٹرنیشنل سکول میں داخل ہوگئی جہاں اس نے نویں جماعت میں اپنے سکول کی طرف سے ثقافتی سفیر کے طور پر طلبا کے ایک گروپ کے ہمراہ فن لینڈ کے ایک سکول میں خصوصی پروگرام میں شرکت کی۔ اس طرح اسے بیرون ملک یورپی تعلیمی نظام کا تجربہ حاصل کرنے کا موقع ملا، کھنک کو انگریزی بولنے اور لکھنے میں خصوصی مہارت حاصل ہے تاہم وہ ایک اکیڈیمی میں اردو اور فارسی زبان سیکھ رہی ہے۔ اسی طرح وہ ہندی پنجابی اور فارسی اور انگریزی زبانوں میں گیت گارہی ہے۔

کھنک جوشی سے ہم نے جب پوچھا کہ اسے اب تک کتنے اور کونسے ایوارڈ مل چکے ہیں تووہ مشکل میں پڑ گئی۔ تاہم اس کے بے حساب اعزازات میں سے چند ایک کا یہاں ذکر کیے دیتے ہیں، سنگیت شری ایوارڈ، شنکر مہادیون ایوارڈ، انٹرنیشنل روٹری کلب ایوارڈ، کالا کریتی ایوارڈ، نیشنل بل کالا استوایوارڈ(دو مرتبہ) چلڈرن میوزک کانفرنس، دستار سکول آف میوزک کلکتہ، آل انڈیا ریڈیو، ٹائمز کڈز ایوارڈ، بنگلور(دو مرتبہ) اس کے علاوہ اسے زی بزنس، ٹی وی چینل کی طرف سے اداکاری کا ایوارڈ مل چکا ہے اسے آل انڈیا ریڈیو کے پروگراموں میں شرکت کی باقاعدہ دعوت ملتی رہتی ہے۔ کھنک جوشی اتنی چھوٹی عمر میں موسیقی کے شعبے میں کیونکر داخل ہوگئی؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے وہ بتاتی ہیں ہم لوگ کچھ ہی عرصے بعد میری جائے پیدائش سے ہردوار منتقل ہوگئے۔ ان کے والد راجیش جوشی کی صوفیان کلچر اور موسیقی میں بہت دلچسپی تھی جن کا اکثر دریا گنج آنا جانا لگا رہتا تھا۔ جہاں مسلمان صوفیوں کے مزار ہیں کھنک اکثر والد کے ہمراہ ان صوفیانہ مراکز کی زیارت کے دوران ان کے ہمراہ چلی جاتی۔ ان مقامات پر اسے بھی قوالیاں اور صوفیانہ کلام کو سننے کا موقع ملا اور پھر وہ لاشعوری طور پر اس طرف مائل ہوتی چلی گئی۔ جب اس نے بھی گنگنانا شروع کیا تو ان کے والد کو احساس ہوا کہ اس کی آواز میں اس کے نام کی طرح ایک خاص قسم کی کھنک اور گھمبیر بن پایا جاتا ہے۔ جو صوفیانہ گائیکی کیلئے بہت موزوں تھا۔ وہ گیتوں کی ردھم کو سمجھنے لگی تو اس نے ہارمونیم پر گائیکی کی باقاعدہ مشق شروع کردی۔ نامور اساتذہ سے تعلیم لینے لگی اور پھر اس نے مڑ کر پیچھے نہیں دیکھا۔ یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ کھنک اپنی پڑھائی کے ساتھ ساتھ موسیقی پر بھی بھر پور توجہ دیتی ہے سکول سے آکر تھوڑا آرام کرنے کے بعد وہ روزانہ دو گھنٹے کے قریب گائیکی کی ریاضت کرتی ہے اور جب کسی شو کی تیاری کرنی ہو تو پھر ریاض کا یہ وقت اور بڑھ جاتا ہے۔ آٹھویں جماعت میں جب اسے سکول تبدیل کرنا پڑتا تو چند ماہ کا وقفہ پڑ گیا لیکن اس نے اسے ایک چیلنج سمجھ کر قبول کرلیا اور بہت جلد پچھلی کمی پوری کر کے اپنی کلاس کے نمایاں طالب علموں میں شمار ہونے لگی۔ اس کے مضامین میں انگریزی، حساب، کیمسٹری، فزکس، بیالوجی، تاریخ، جغرافیہ اور کمپیوٹر سائنس شامل ہیں تاہم اس کی زیادہ دلچسپی تاریخ، جغرافیہ اور کمپیوٹر سائنس میں ہے لیکن ابھی اس نے یہ فیصلہ نہیں کیا کہ وہ کون سے مضمون میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرے گی اس کے مشاغل میں تیراکی اور ریڈنگ شامل ہے۔ اسے ٹی وی دیکھنے کا کم موقع ملتا ہے لیکن وہ کبھی کبھار پاکستان اور بھارت کے ہلکے پھلکے تفریحی اور موسیقی کے پروگرام دیکھ لیتی ہیں۔ کھنک کا پورا گھرانہ صوفیانہ گائیکی کا دلدادہ ہے اور اسے خاص طور پر نصرت فتح علی خان، مقبول صابری اور اسلم صابری کی گائیکی بہت پسند ہے کھنک نے سوشل میڈیا پر انڈو پاک میوزک کے نام سے ایک گروپ بنا رکھا ہے جہاں وہ وقت نکال کر دونوں ممالک میں موسیقی کے حوالے سے ہونیوالی اہم تقریبات اور ثقافتی دلچسپی کے پروگراموں کو پوسٹ کرتی رہتی ہے کھنک کہتی ہے کہ پاکستان اور بھارت کی موسیقی اور ثقافت دنیا کے کسی بھی دوسرے خطے سے بڑھ کر ہے۔ کھنک جوشی علامہ اقبال کے فلسفیانہ کلام سے بھی بہت متاثر ہے۔ اگرچہ وہ اسے مکمل طور پر سمجھ نہیں پارہی تاہم وہ اس کلام کا کچھ حصہ گا کر ریکارڈ کراچکی ہے۔

کھنک سٹیج کے مختلف شوز میں صوفیانہ کلام کے ساتھ ساتھ نیم کلاسیکل، غزل اور عام مقبول گیت بھی گا چکی ہے۔وہ کہتی ہے کہ اپنی پہچان بنانے کیلئے اسے ایسے گیت بھی گانے پڑتے ہیں جسے عوام بہت پسند کرتے ہیں، لیکن وہ شائستگی کے معیار پر پورا کرتے لیکن فرمائش ہر چار ناچار انہیں گا دیتی ہے تاہم وہ سمجھتی ہے کہ گائیکی کے میدان میں اپنی خاص پہچان بنانے کے بعد اب وقت آگیا ہے کہ صرف معیاری کام کرے اور غیر ضروری حد تک رومانوی خیالات کا اظہار کرنے والی شاعری سے احتراز کرتے ہوئے صرف اعلی معیار کے صوفیانہ کلام اور ایسے سلجھی ہوئی غزلوں اور گیتوں پر توجہ دے جسے فیملی کے تمام افراد اطمینان کے ساتھ سن سکیں وہ کہتی ہیں کہ ابھی حال ہی میں اس کی جو دو البم ریلیز ہوئی ہیں یا تیسری البم جو تیار ہو رہی ہے سب میری اس فکر کے عین مطابق ہیں۔ کھنک کی سب سے پہلی البم ”غزل ساز“ سات غزلوں پر مشتمل ہے جسے معروف سکالر اور شاعر حافظ کرناٹکی نے لکھا ہے۔ اس کے بعد مارکیٹ میں آنے والی البم کا نام رقص بسمل ہے چھ غزلوں پر مشتمل یہ البم بھی پہلی کی طرح برابر مقبول ہوئی ہے اس کے شاعر کمال کشور کمال ہیں اور ان کی آنے والی البم کاش کی شاعری بھی انہی کی ہے جو چھ غزلوں پر مشتمل ہو گی ان تمام گیتوں اور غزلوں کی موسیقی بھی اس نے ہی ترتیب دی ہے۔ کھنک اپنے مستقبل کے بارے میں بہت پرامید ہے۔ وہ کہتی ہیں اپنے عزائم کی تکمیل کے لئے مجھے اپنے والد راجیش جوشی والدہ کو مل جوشی کاپورااعتماد حاصل ہے۔

ریاض کاوقت کچھ اور بڑھ جاتا ہے۔ آٹھویں جماعت میں جب اسے سکول تبدیل کرنا پڑتا تو چند ماہ کا وقفہ پڑ گیا لیکن اس نے اسے ایک چیلنج سمجھ کر قبول کرلیا اور بہت جلد پچھلی کمی پوری کر کے اپنی کلاس کے نمایاں طالب علموں میں شمار ہونے لگی۔ اس کے مضامین میں انگریزی، حساب، کیمسٹری، فزکس، بیالوجی، تاریخ، جغرافیہ اور کمپیوٹر سائنس شامل ہیں تاہم اس کی زیادہ دلچسپی تاریخ، جغرافیہ اور کمپیوٹر سائنس میں ہے لیکن ابھی اس نے یہ فیصلہ نہیں کیا کہ وہ کون سے مضمون میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرے گی اس کے مشاغل میں تیراکی اور ریڈنگ شامل ہے۔ اسے ٹی وی دیکھنے کا کم موقع ملتا ہے لیکن وہ کبھی کبھار پاکستان اور بھارت کے ہلکے پھلکے تفریحی اور موسیقی کے پروگرام دیکھ لیتی ہیں۔ کھنک کا پورا گھرانہ صوفیانہ گائیکی کا دلدادہ ہے اور اسے خاص طور پر نصرت فتح علی خان، مقبول صابری اور اسلم صابری کی گائیکی بہت پسند ہے کھنک نے سوشل میڈیا پر انڈو پاک میوزک کے نام سے ایک گروپ بنا رکھا ہے جہاں وہ وقت نکال کر دونوں ممالک میں موسیقی کے حوالے سے ہونیوالی اہم تقریبات اور ثقافتی دلچسپی کے پروگراموں کو پوسٹ کرتی رہتی ہے کھنک کہتی ہے کہ پاکستان اور بھارت کی موسیقی اور ثقافت دنیا کے کسی بھی دوسرے خطے سے بڑھ کر ہے۔ کھنک جوشی علامہ اقبال کے فلسفیانہ کلام سے بھی بہت متاثر ہے۔ اگرچہ وہ اسے مکمل طور پر سمجھ نہیں پارہی تاہم وہ اس کلام کا کچھ حصہ گا کر ریکارڈ کراچکی ہے۔

کھنک سٹیج کے مختلف شوز میں صوفیانہ کلام کے ساتھ ساتھ نیم کلاسیکل، غزل اور عام مقبول گیت بھی گا چکی ہے۔وہ کہتی ہے کہ اپنی پہچان بنانے کیلئے اسے ایسے گیت بھی گانے پڑتے ہیں جسے عوام بہت پسند کرتے ہیں، لیکن وہ شائستگی کے معیار پر پورا کرتے لیکن فرمائش ہر چار ناچار انہیں گا دیتی ہے تاہم وہ سمجھتی ہے کہ گائیکی کے میدان میں اپنی خاص پہچان بنانے کے بعد اب وقت آگیا ہے کہ صرف معیاری کام کرے اور غیر ضروری حد تک رومانوی خیالات کا اظہار کرنے والی شاعری سے احتراز کرتے ہوئے صرف اعلی معیار کے صوفیانہ کلام اور ایسے سلجھی ہوئی غزلوں اور گیتوں پر توجہ دے جسے فیملی کے تمام افراد اطمینان کے ساتھ سن سکیں وہ کہتی ہیں کہ ابھی حال ہی میں اس کی جو دو البم ریلیز ہوئی ہیں یا تیسری البم جو تیار ہو رہی ہے سب میری اس فکر کے عین مطابق ہیں۔ کھنک کی سب سے پہلی البم ”غزل ساز“ سات غزلوں پر مشتمل ہے جسے معروف سکالر اور شاعر حافظ کرناٹکی نے لکھا ہے۔ اس کے بعد مارکیٹ میں آنے والی البم کا نام رقص بسمل ہے چھ غزلوں پر مشتمل یہ البم بھی پہلی کی طرح برابر مقبول ہوئی ہے اس کے شاعر کمال کشور کمال ہیں اور ان کی آنے والی البم کاش کی شاعری بھی انہی کی ہے جو چھ غزلوں پر مشتمل ہو گی ان تمام گیتوں اور غزلوں کی موسیقی بھی اس نے ہی ترتیب دی ہے۔ کھنک اپنے مستقبل کے بارے میں بہت پرامید ہے۔ وہ کہتی ہیں اپنے عزائم کی تکمیل کے لئے مجھے اپنے والد راجیش جوشی والدہ کو مل جوشی کاپورااعتماد حاصل ہے۔

٭٭٭

زمانہ طالب علمی سے گائیکی کا شوق تھا والد کے ساتھ صوفیانہ مراکز کی زیارت کرتی

مزید :

ایڈیشن 1 -