روس یوکرائن جنگ کا پس منظر

روس یوکرائن جنگ کا پس منظر
روس یوکرائن جنگ کا پس منظر

  

دوہفتے قبل روس نے اپنے ہمسایہ ملک یوکرین میں اپنی فوج بھیج کرعالمی سیاست میں بھونچال پیدا کر دیا ہے۔اسے اچانک حملہ اس لئے نہیں کہا جاسکتاکیونکہ گزشتہ کچھ عرصے سے یوکرین کی سرحد پر روس کی غیر معمولی فوجی نقل وحرکت کو عالمی میڈیا مسلسل نشرکئے جا رہا تھا۔ڈیڑھ لاکھ مسلح فوجی روس نے یوکرائن کی سرحد پر تعینات رکھے تھے۔ جبکہ ہمسایہ ملک بیلا روس میں اس کی فوج یوکرین کی سرحد کے قریب مشترکہ فوجی مشقیں کررہی تھی۔مغربی ممالک اس اندیشے کا اظہار کر رہے تھے کہ روس کسی بھی وقت یوکرین پر حملہ آور ہوسکتا ہے۔امریکہ اور یورپ کو جو خدشہ تھا بالآخروہی ہوااورروسی فوج نے سرحد عبور کرکے ایک کے بعد ایک یوکرینی شہروں پرقبضہ شروع کر دیا۔روسی ٹینکوں اورمسلح گاڑیوں کا چالیس میل لمباقافلہ اب دارلحکومت کیف سے تین کلومیٹرکی دوری پرپہنچ چکا ہے۔جنگ کے دوران لمحہ بہ لمحہ تبدیل ہوتی صورت حال سے تو مقامی اورعالمی میڈیاآگاہ کررہا ہے۔بالخصوص کسی مغربی نیوزچینل پر توکوئی دوسری خبرگزشتہ پندرہ دنوں میں بمشکل ہی نشرہوئی ہے۔اس حقیقت کے باوجود کہ جنگ میں پہلی ہلاکت ہی سچائی کی ہوتی ہے اورصحافت کی جگہ ایسے موقع پر پروپیگنڈالے لیتا ہے،بلاشبہ یہ اس وقت کی سب سے اہم خبر ہے۔اس جنگ کی وجوہات جاننے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اس پس منظر کا جائزہ لیں جس سے اس سانحے نے جنم لیا۔

یہ1991ء میں کرسمس کا دن تھاجب سوویت یونین کاپرچم آخری مرتبہ کریملن میں لہرایا گیا۔نئی نسل کو تو شایداندازہ بھی نہیں ہوگاکہ اکتوبر1917ء کے بالشویک انقلاب کے نتیجے میں وجود پانے والی اس نئی ریاست کی طاقت کیا تھی؟یہ بتادینا کافی ہوگا کہ دوسری جنگ عظیم میں اسی سوویت یونین کی فوج نے ایڈولف ہٹلرکی نازی افواج کو شکست فاش دے کربرلن میں سرخ رنگ کا درانتی اورہتھوڑے کے نشان والااپنا یہی پرچم لہرایا تھا۔ماسکو سے لے کربرلن تک راستے کے تمام یورپی ممالک اس کے سامنے سر نگوں تھے۔اپنے عروج کے زمانے میں یہ وہ ملک تھا، جس نے انسان کو عملی طور پر خلاؤں کی رفعتوں سے روشناس کرایا۔یوری گاگرین وہ پہلا شخص تھا،جو خلائی شٹل سپوتنک کے ذریعے زمین کی حدود سے باہر نکل کرخلا میں داخل ہوا تھا۔ سپوتنک ویسے بڑا رومانوی لفظ ہے، اس کامطلب ساتھی،ہم نفس،دم سازاورجیون ساتھی بھی ہوتا ہے۔ سپوتنک کی خالق اس ریاست کا جب شیرازہ بکھراتواس اشتراکی سلطنت سے پندرہ نئے ممالک نے جنم لیا جن میں سے ایک یوکرین بھی تھا۔روس ان آزاد ممالک میں آبادی اور رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا جب کہ یوکرین دوسرے نمبرپرتھا،جس کی آج کل آبادی ساڑھے چارکروڑنفوس پر مشتمل ہے۔

بیسویں صدی کا جائزہ لیا جائے توسوویت یونین کے قیام وخاتمے کے علاوہ دو عالمی جنگیں ہی سب سے اہم واقعات تسلیم کئے جاتے ہیں۔گزشتہ صدی کا ذکر یونین آف دی سوویت سوشلسٹ ری پبلک کے بغیر ادھورا ہو گا۔اسی ریاست کے بطن سے یوکرائن نے جنم لیا ورنہ انسانی تاریخ میں کبھی اس نام اور جغرافیے کا ملک وجود نہیں رکھتا تھا۔یہ دلچسپ حقیقت ہے کہ اس کا موجودہ دارلحکومت کیف تین صدیوں تک روسی سلطنت کا دارالسلطنت تھا۔ یاد رہے کہ ماسکو شہر 1147ء میں تعمیر ہوا تھا اور سینٹ پیٹرزبرگ جوسوویت دورمیں لینن گراڈ کہلاتا تھا،روس کا پہلا یورپی طرزکاشہر ہے،وہ تو چند صدیاں قبل ہی پیٹر اول نے اپنے عہدمیں تعمیر کروایا تھااوراسی کے نام سے اب منسوب ہے،جبکہ کیف زمانہ ئ قدیم سے چلا آ رہا ہے۔

روسی اوریوکرینی تاریخی طورپرایک ہی قوم ہیں۔اگر الگ الگ بھی تسلیم کیا جائے توان کی تاریخ اس قدرپرپیچ اورآپس میں الجھی ہوئی ہے کہ ایک دوسرے سے الگ کرنا مشکل ہے۔تاریخ میں یوکرائن کا لفظ اورزمین تو وجود رکھتی تھی مگرحقیقت یہ ہے کہ آج کاآسٹریا،ہنگری اورپولینڈ کے باشندوں کو بھی زمانہ قدیم میں یوکرینی کہاجاتا تھا۔مجھے لیوٹالسٹائی کے ناول جنگ اورامن کا ایک حوالہ یاد آگیا، اس ناول کو عالمی ادب میں ادبی تاریخ کے سب سے بڑے ناول ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے۔ٹالسٹائی نے دوصدیاں پہلے کے تناظرمیں یہ ناول لکھا تھا، جس میں وہ گندم کی کٹائی کے لئے تذکرہ کرتاہے،کہ کسان یوکرائن سے مزدوری کے لئے آتے تھے اورروس میں گندم کاٹنے کے بعد واپس چلے جاتے،ہرسال یہ عمل دہرایا جاتا۔ ٹالسٹائی نے اس کتاب میں امن کی تعریف بھی کیا خوب کی ہے کہ یہ دو جنگوں کے درمیانی وقفے کا نام ہے،امن کی یہی جامع تعریف آج پوری دنیا تسلیم کرتی ہے۔

یوکرا ئن کی جغرافیائی تاریخ کو اگر سادہ ترین انداز میں بیان کریں تو یہ ایسے ہی ہے جیسے سرائیکی علاقے توپاکستان کے تین صوبوں میں پائے جاتے ہیں،مگرایک سرائیکی ریاست یا صوبہ تاریخ میں کبھی بھی نہیں رہا ہے۔دوسری مثال کرد قوم یا مجوزہ کردستان کی ہو سکتی ہے۔جدیدیوکرائن کابانی اگر کیمونسٹ انقلاب کے معماراور پہلے سوویت سربراہ ولادی میرلینن کوقراردیا جائے توبے جا نہ ہو گا۔ کریمیاکے جزیرہ نمااورمشرقی صوبوں کو اسی نے یوکرائن کاحصہ قراردیاتھا۔روسی اوریوکرینی زبان کی مثال پنجابی اورسرائیکی کی سی ہے۔اگر آپ کو ایک زبان پر عبور ہو تودوسری زبان کو سمجھنے کے لئے مترجم کی ضرورت نہیں ہے۔یہ بات میں یقین سے اس لئے بھی تحریر کررہا ہوں چونکہ میں روسی زبان جانتا ہوں اور اسی سبب سے یوکرینی آسانی سے سمجھ لیتا ہوں۔سوویت یونین کے انہدام کے بعد نوے کی دہائی میں روس اوریوکرائن اپنے اپنے مسائل سے نبردآزما رہے اورباہمی معاملات خوش اسلوبی سے چلتے رہے۔اس صدی کی ابتدا روس میں ولادی میر پیوتن کے برسر اقتدار آنے کی خبرکے ساتھ ہوئی اور اس کے اقتدار سنبھالنے کے بعد نئے روس کی شبیہ ایک کمزوراورمعاشی بدحالی کا شکار ملک سے تبدیل ہونا شروع ہو گئی۔دوسری طرف یوکرائن کی آبادی یورپی یونین میں شمولیت اور روسی کیمپ میں رہنے کی حمایت کی منقسم رائے میں بٹتی نظر آئی۔کبھی روس نواز صدر منتخب ہو جاتا تو کبھی یورپ نواز سیاست دان عوام منتخب کر کے اقتدار اسے سونپ دیتے۔

مسئلہ تب کھڑا ہوا جب روس نواز صدر وکٹریا نوکوچ کے خلاف عوامی مظاہرے شروع ہوئے تو انہیں زبردستی اقتدار سے الگ کر دیا گیا۔انہوں نے روس میں جا کر پناہ لے لی۔جلاوطنی کے دروان انہوں نے بتایا کہ یوکرائن کی مسلح افواج نے ان پر فائرنگ کردی تھی اور وہ صدارتی محل سے بمشکل جان بچاکر بھاگے ہیں۔دوسری جانب روس صدرپوتن کے اقتدارمیں دوسری دہائی تک آتے آتے عسکری اعتبار سے بہت مضبوط اور معاشی اعتبار سے خوشحال ہوچکاتھا۔نیٹوافواج کی روسی سرحدکی جانب پیش قدمی کو وہ معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیتا آیا ہے۔یادرہے کہ سوویت یونین کے خاتمے کے وقت NATOنے یہ عہد کیا تھاکہ وہ روسی سرحدوں کی جانب اپناپھیلاؤنہیں کریں گے۔ پوتین دو دہائیوں سے مسلسل یورپ کو ان کا وعدہ یاددلاتاآرہا ہے  مگر ایک کے بعد ایک سابق سوویت ریاست کو NATOاپنے عسکری اتحادمیں شامل کرتا آ رہا ہے۔ یوکرائن بھی اب اسی ڈگرپر رواں دواں تھا۔ روس نوازصدر کی فوج کے ہاتھوں سبکدوشی کا جواب پوتین نے یو ں دیا کہ پہلے کریمیاکے جزیرہ نما پر اپنی فوج بھیجی اورعوامی ریفرنڈم کے بعد اسے روس میں ضم کر لیا۔ وکٹریانوکوچ جس روسی نژاداکثریت کے علاقے سے تعلق رکھتے تھے، وہاں کے لوگوں نے کیف کی حکومت کے خلاف بغاوت کردی،یہ یوکرائن کا سب سے بڑا ریجن دونیسک کہلاتاہے۔اس کے ہمسایہ علاقے نے بھی مسلح بغاوت کرکے کیف سے آزادلوہانسک ریاست کا اعلان کر دیا۔ روسی نژاد اکثریت رکھنے والے اس علاقے میں مزاحمت یا بغاوت کوماسکو کی حمایت حاصل ہو گئی۔عارضی جنگ بندی لائن قائم ہو گئی،مگرمسلح جدوجہدکرنے والے روس نوازوں کو گزشتہ آٹھ سال سے یوکرینی فوج کی جانب سے مزاحمت کا سامنا رہا۔ روسی میڈیا کے مطابق 2014ء سے اب تک چودہ ہزار افراد یوکرینی فوج کے ہاتھوں مارے گئے۔مقامی لوگ عرصہ دراز سے روس کو مدد کے لئے پکار رہے تھے۔ بالآخر وہ دن آ گیااور صدرپوتین نے ان علاقوں کو آزاد ممالک تسلیم کر کے ان کی مدد کے لئے فوج بھیج دی۔اب معاملہ مگر مشرقی یوکرائن تک نہیں رہا،بات آگے بڑھ گئی ہے۔روسی زبان وثقافت سے آشنائی کے سبب بہت ساری باتیں ہیں جو میں اہلِ روس کے بارے میں جانتا ہوں، جن سے عمومی پاکستانی ناآشنا ہیں۔اس بنیاد پر میں فقط یہی کہوں گاکہ یہ تنازعہ جلدی ختم ہونے والا نہیں ہے۔

مزید :

رائے -کالم -