قدرت کا تخلیق کردہ ایٹم بم 

قدرت کا تخلیق کردہ ایٹم بم 
قدرت کا تخلیق کردہ ایٹم بم 

  

 دستی بموں سے لے کر ایٹمی بم تک سب انسانی تخلیق کے نمونے ہیں،ان میں سے سب سے بڑا اور خطرناک بم ایٹم بم تصور کیا جاتا ہے،یہ کس قدر خطرناک ہے، اس بات کا اندازہ ہیروشیما اورناگا ساکی میں ایٹمی دھماکے کی تباہ کاریاں دیکھ کر لگایا جا سکتا ہے۔ روئے زمین پر6 اور9 اگست 1945ء کو دوسری جنگ عظیم کے دوران انسانی تاریخ کاایک ایسا شرمناک واقعہ پیش آیا جو آج بھی تاریخ کا بدترین دن مانا جاتا ہے۔یہ وہ دن تھا جب امریکہ نے جاپان کے شہر ہیروشیما اور ناگاساکی میں ایٹم بم گرائے تھے جس کے نتیجے میں چندلمحوں کے دوران 2 سے 3 لاکھ افراد کی جان چلی گئی، ایٹمی دھماکے کی زد میں آنے والے معصوم لوگوں کے جسموں سے گوشت پگھلنے لگا، اتنے سال گذر جانے کے باوجوداب تک ان شہروں میں ایٹمی دھماکوں کے مضراثرات کم نہیں ہوئے۔ ایک عالمی رپورٹ کے مطابق آج بھی ہیرو شیما اور ناگاساکی میں جب کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس میں کوئی نہ کوئی خلقی نقص پایا جاتا ہے۔ایٹمی دھماکے کی اس تباہی و بربادی کے پیش نظر تاریخ میں یہ دن ایک سیاہ ترین دن سمجھا جاتا ہے۔انسان کا تخلیق کردہ ایٹم بم انسانیت کے لیے انتہائی تباہ کن ہے۔موجودہ دور کے ایٹم بم 1945ء میں بنائے گئے ایٹم بم سے کہیں زیادہ طاقت رکھتے ہیں، اس لئے خدانخواستہ مستقبل میں اگر کہیں ایٹمی دھماکہ کیا گیا تواس سے زمین پر ایک قیامت برپا ہوجائے گی۔

زمین اپنے مدار پر گھوم رہی ہے،ناسا کے بہت سے سائنس دانوں کا یہ بھی خیال ہے کہ اب اگر زمین پر طاقتور ترین ایٹمی دھماکہ ہوا تو اس کے نتیجے میں زمین کے مدار میں خلل بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ ایک بات آپ کو جان کر بے حد حیرانی ہو گی کہ خلاء میں پہلے ہی ایسے ہزاروں سیارے گھوم رہے ہیں جنھیں قدرت کا بنایا ہوا ایٹم بم بھی کہہ سکتے ہیں،ان قدرتی بموں کو ”ASTEROID“کہتے ہیں،یہ سیارے خدانخواستہ جب بھی کبھی زمین سے ٹکراگئے تووہ دن زمین پر بسنے والے انسانوں کا آخری دن ہوگا،اگر اس دن کو قیامت کا دن کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔آپ کو ایک اور حیران کردینے والی بات بتاتاچلوں کہ زمین پر ایک مرتبہ قدرت کا بنایا ہوا ایٹم بم ”ASTEROID“ گر چکا ہے،یہ اس دور کی بات ہے جب زمین پر ڈائنا سار رہتے تھے۔زمین پر جب ڈائنا سارز کی تعداد اوران کی حیوانیت حد سے زیادہ بڑھنے لگی تو خلاء سے اچانک ایک ”ASTEROID“ (اسٹیرائیڈ) نے اپنا رخ زمین کی طرف کر لیا، یہ اسٹیرائیڈ نہ جانے کیسے اپنے مدار سے ہٹا اور زمین کا رخ کر لیا،زمین کی جانب بڑھتے ہوئے راستے میں چاند سے ٹکرانے لگا، لیکن چاند بچ گیا اور اسٹیرئیڈ سیدھازمین سے ٹکرا گیا۔زمین کی طرف بڑھتے ہوئے اس کی رفتار بے حد تیز تھی، ایسے لگ رہا تھا جیسے آگ کا ایک دیو قامت گولہ آرہا ہو۔ ڈائنا سارآنے والی تباہی سے بے خبر تھے۔ جب انھو ں نے اس آگ کے گولے کی طرف دیکھا تووہ سب اندھے ہوگئے۔ڈائنا سار اس بات سے بے خبر تھے کہ یہ آگ کا گولہ ان کی نسل کو زمین سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کرنے کے لئے آیا ہے۔

جب اسٹیرائیڈ زمین سے ٹکرایا تو چند لمحوں میں ڈائنا سار سمیت زمین پر رہنے والی تمام مخلوق فنا ہوگئی۔فضاء میں اونچے اڑنے والے ڈائنا سارپرندے اس حملے سے وقتی طور پر بچ گئے، لیکن اسٹیرائیڈ کے زمین سے ٹکراؤ کے نتیجے میں آسمان پر اس قدر دھوئیں کے بادل چھا گئے کہ اڑنے والے ڈائنا سار پرندے بھی دم گھٹنے سے مر گئے۔یوں دنیا میں رہنے والی ہر مخلوق کا مکمل خاتمہ ہوگیا۔ڈائنا ساراور اس دور کی تمام مخلوق کی نسل کے خاتمے کے بعدزمین پرانسان سمیت نئی مخلوقات، جانور،چرند،پرند کے دور کا آغاز ہوا۔آج انسان کو اپنی تحقیق کے دوران جب ڈائنا سار کی باقیات ملیں توپتہ چلا کہ ڈائنا سار کیا تھے؟ کتنے خطرناک تھے؟ اورکیسے ان کی نسل سمیت اس دور کی مخلوق کا خاتمہ ہوا؟……ڈائنا سار کے دور کی طرح آج زمین پرانسانی حیوانیت اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔آج کا انسان ڈائناسار کی طرح ایک دوسرے پر غلبہ پانے کی کوشش میں لگا ہوا ہے، جس طرح بے ضرر ڈائنا سار کو خونخوار ڈائنا سار نگل جاتے تھے، اسی طرح معصوم انسانوں کو خونخوار انسان نگل رہے ہیں۔دہشت گردی،بم دھماکے، زیادتی،قتل وغارت اوربڑھتے ہوئے گھناؤنے واقعات اس بات کا اشارہ دے رہے ہیں کہ زمین پر ایک مرتبہ پھر قدرت کا بنایاا ہوا ایٹم بم اسٹیرائڈگرنے والا ہے۔ 

مزید :

رائے -کالم -