حکومت کا شیرازہ 

حکومت کا شیرازہ 
حکومت کا شیرازہ 

  

پی ٹی آئی حکومت کے اتحادی اب رسہ تڑا کر بھاگنے کے قریب ہیں۔ مسلم لیگ (ق) کے سینیٹر کامل علی آغا کہتے ہیں کہ جب حکومتی شیرازہ بکھر رہا ہو تو اتحادیوں کو بھی اپنے فیصلے کر لینے چاہئیں۔ حکومت کے تقریباً تمام اتحادیوں کی یہی کیفیت ہے۔ عمران خان کو بھی بخوبی اندازہ ہو چکا ہے کہ کرسی اب ان کے نیچے سے کھسکنے کو ہے اسی لئے وہ وزیر اعظم ہاؤس سے ہیلی کاپٹر پر اڑ کر جہاں جاتے ہیں وہاں کنٹینر پر چڑھ جاتے ہیں۔ میلسی اور لوئر دیر کے جلسوں میں ان کی تقریریں وزیر اعظم کی نہیں بلکہ زخم خوردہ اپوزیشن لیڈرجیسی تھیں۔ حکومت کے اتحادی آمنے سامنے آ چکے ہیں۔ ایک سیٹ والے اتحادی وفاقی وزیر شیخ رشید کہتے ہیں کہ پانچ سیٹوں والی پارٹی مسلم لیگ (ق) بلیک میل کر رہی ہے اور جواب میں وفاقی وزیر مونس الہی انکشاف کرتے ہیں کہ شیخ صاحب ان کے بزرگوں سے پیسے لیا کرتے تھے۔ واہ‘ کیا حکومت ہے اور کیا اس کی وفاقی کابینہ ہے جس کے وزیر ایک دوسرے کے گندے کپڑے بازار میں لگے کمیٹی کے نلکے پر دھو رہے ہیں۔ اب کسی کو شک نہیں رہ جانا چاہئے کہ حکومتی اتحاد کی ہنڈیا بیچ چوراہے میں پھوٹ چکی ہے اور اس کی دال جوتیوں میں بٹ رہی ہے۔ کہیں کے اینٹ اور کہیں کے روڑے سے بنے بھان متی کے کنبہ کا یہی انجام ہونا تھا۔ عمران خان کو واضح ہو چکا ہے کہ ان کی ٹیم کی بیٹنگ ختم ہونے والی ہے اس لئے اب کنٹینر پر باؤنسر مارنے کی پریکٹس کر رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے اپوزیشن کے ساتھ ساتھ انہوں نے امپائروں کو بھی باؤنسر مارنے ہیں، حالانکہ امپائروں نے ہی پچھلی ٹیم کو ایل بی ڈبلیو قرار دے کے عمران خان کی ٹیم کو بیٹنگ دلوا دی تھی۔ عمران خان چاہتے ہیں کہ امپائر نیوٹرل نہ رہیں بلکہ ان کا ساتھ دیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ نیوٹرل تو صرف جانور ہوتے ہیں۔گویا اداروں کے سربراہان اور عدلیہ کے جج صاحبان کو نیوٹرل نہیں ہونا چاہئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کرکٹ میں نیوٹرل امپائروں کا آغاز 1986 میں اس وقت کے پاکستانی ٹیم کے کپتان عمران خان کے اصرار پر ہوا تھا جب ویسٹ انڈیز کے دورہ پاکستان کے موقع پر انہوں نے نیوٹرل امپائر راما سوامی اور پی ڈی رپورٹرکو بھارت سے منگوایا تھا۔ 

نمبرز گیم کی بات کی جائے تو قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کی 155 سیٹیں ہیں، حکومت بنانے کے لئے 172 اراکین چاہئے ہوتے ہیں اس لئے پی ٹی آئی نے اتحادیوں کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت بنائی ہے۔ ان اتحادیوں کے پاس 24 سیٹیں ہیں اور ان میں مسلم لیگ (ق)، ایم کیو ایم، جی ڈی اے اور بلوچستان کی اتحادی پارٹیاں شامل ہیں۔ یہ تمام پارٹیاں اس وقت ڈانواڈول ہیں اور حکومت کی بجائے ان کا جھکاؤ اپوزیشن کی طرف بڑھتا جا رہا ہے۔ تحریک عدم اعتماد سے پہلے بھی یہ پارٹیاں حکومت کی نااہلی اور ناکامی سے سخت نالاں تھیں اور اگر ان کا بس چلتا تو بہت پہلے حکومت کا ساتھ چھوڑ دیتیں۔ اب حالات قدرے مختلف ہیں کیونکہ عمران خان کی ناقص کارکردگی کا بھاری بوجھ اٹھانا کسی کے لئے بھی ممکن نہیں رہا۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کرے کوئی اور بھرے کوئی، اس لئے گرتی حکومت کو سہارا دینے کے لئے کوئی بھی آمادہ نظر نہیں آتا۔ پی ٹی آئی کے اپنے اندر بھی دو تین دھڑے ایسے بن چکے ہیں جنہیں عمران خان اور عثمان بزدار کی گوورننس اور کارکردگی پر سنجیدہ تحفظات ہیں اور ان دھڑوں کی قیادت جہانگیر ترین، علیم خان اور یار محمد رند کر رہے ہیں۔ اتحادیوں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ اگر وہ حکومت کا ساتھ دیں تب بھی باغی اراکین کی تعداد 20 کے قریب ہے جو حکومت کو گھر بھیجنے کے لئے کافی ہے، اس لئے اتحادیوں کا اقتدار سے چمٹے رہنا ممکن نہیں رہ گیا اوراگر اتحادیوں نے ڈوبتی کشتی سے چھلانگ نہ لگائی تو ساتھ میں وہ خود بھی ڈوب جائیں گے۔ 

موجودہ قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر کا کنڈکٹ پارلیمانی روایات کے برعکس بہت جانبدار رہا ہے اور اکثر ان کی رولنگ آئین اور پارلیمانی روایات کے خلاف ہوتی ہیں۔ پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں اس قدر جانبدار سپیکر پہلے کبھی نہیں آیا، اس لئے اپوزیشن کے کچھ حلقے چاہتے ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان کے علاوہ سپیکر قومی اسمبلی کے خلاف عدم اعتماد کیا جائے۔ لگتا ہے کہ وزیر اعظم کے علاوہ سپیکر اور ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی، چیئرمین سینیٹ اور وزیر اعلی پنجاب بھی عدام اعتماد کا شکار ہو کر گھر جائیں گے۔ اگر مسلم لیگ (ق) نے بروقت فیصلہ کر لیا تو پنجاب کی وزارت اعلی اب بھی انہیں مل سکتی ہے لیکن دیر ہونے کی صورت میں ان کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔ تحریک عدم اعتماد ناکام ہونے کی صورت میں اسٹیبلشمنٹ بہت زیادہ دباؤ میں آجائے گی کیونکہ عام تاثر یہی ابھرے گا کہ اس نے ایک مرتبہ پھر ایک ناکام اور نا اہل حکومت کو بچایا ہے اور وہ اس تاثر کے زبان زد عام ہونے کی متحمل نہیں ہو سکتی، اس لئے گمان یہی ہے کہ وہ غیر جانبدار رہے گی۔ البتہ عمران خان کی زبان اور باڈی لینگوئج بتا رہی ہے کہ وہ تصادم کی راہ اختیار کریں گے اوراسد عمر نے عندیہ دیا ہے کہ انہوں نے ٹائیگر فورس سمیت اپنے حامیوں کو اسلام آباد میں اکٹھا کرنے کا کہا ہے تاکہ ڈی چوک پر قبضہ، پارلیمنٹ کا گھیراؤ اور پی ٹی آئی کے منحرفین کو ووٹ ڈالنے سے روکا (غیر قانونی،غیر آئینی اور غیر پارلیمانی حرکت)جائے۔ ایسی صورت حال میں مولانا فضل الرحمان کے رضاکاربھی لاکھوں کی تعداد میں اسلام آباد اور دوسرے شہروں میں اکٹھے ہوں گے اورنتیجہ میں تصادم ہو سکتا ہے۔ پیپلز پارٹی کی سندھ اور جنوبی پنجاب، مسلم لیگ (ن) کی وسطی اور شمالی پنجاب اور جمعیت علمائے اسلام اور اے این پی کی خیبر پختون خوا اور بلوچستان میں بہت سٹریٹ پاور ہے اور وہ بھی حکومت کے خلاف ہر طرح کا پاور شو کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ تصادم ہونے کی صورت میں حالات 1977 کی تاریخ دہرا سکتے ہیں اور عمران خان کی اس وقت حکمت عملی بھی ”نہ کھیڈاں گے اور نہ کھیڈن دیاں گے“ والی ہے جس میں نقصان سب سے زیادہ ملک کا ہو گا۔ اگلے چند دن برسوں کا فاصلہ طے کریں گے اور غالب امکان یہی ہے کہ گرتی حکومت کا شیرازہ بکھر جائے گا۔ 

مزید :

رائے -کالم -